میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 23 اپریل، 2019

حساب برابر

 ایک دفعہ ایک گاوں کے چوہدری نے ایک مستری کے ذمہ ایک دیوار بنانے کا کام لگ گیا۔
مستری نےچوہدری سے کہا

"  جی تسی آرام کرو میں شام تک بنا دواں گا تے رات نوں مزدوری لے جاواں گا" ۔
چوہدری سکون سے اپنے کاموں کو نکل گیا۔
رات کو جب واپس آیا اور    دیوار کے پاس پہنچا تو دیوار تو مکمل تھی مگر بالکل ٹیڑھی۔
چوہدری نے اپنے ملازم کو کہا،
" مستری ۔بلا لاؤ اور گاؤں والوں کو بھی "
تھوڑی دیر بعد گاؤں  اکٹھا ہو گیا اور مستری بھی آ گیا
سارے پنڈ نے کہا، "  اؤے مستری اے کی چول ماری وا ؟ "
مستری نے جب دیکھا کہ مزدوری تو دور کی بات یہاں تو جوتیوں سے خدمت کے بہت چانسز ہیں۔
وہ اٹھا ،   دیوار کو دھکا دے کر گرادیا ، اور بولا:
" لو جی تہاڈی دیوار گئی تے
ساڈی مزدوری !

لگتا کچھ یوں ہے کہ اسی سال کہ آخر تک یا پہلے ہی
ملکی معیشیت کا بیڑا غرق کر کے اسمبلیاں توڑ کر کہا جائے گا۔

تہاڈی معیشت گئی تے
ساڈی حکومت

ہن حساب برابر  😂😂

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔