میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 29 مئی، 2019

الصلوٰۃ ، قرب الصلوٰۃ اور اقام الصلوٰۃ

 ٭-  روح القدّس نے محمدﷺ کو  الصلوٰۃ  کی انسانی کے لئے اہمیت ، اللہ کی طرف سے بتائی : 
http://tanzil.net/#29:45
٭-  روح القدّس نے محمدﷺ کو قرب الصلوٰۃ کے لئے اللہ کا مفصل حکم بتایا : 


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَقْرَبُواْ الصَّلاَةَ
 1- جب ذہنی حالت ٹھیک نہ ہو۔
 وَأَنتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُواْ مَا تَقُولُونَ
 2- جب جسمانی حالت ٹھیک نہ ہو ۔ غسل کے بعد اجازت ہے۔
 وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُواْ
وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَآئِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ
 3- غسل کے لئے پانی نہ ہو تو طیب صعید کا استعمال کیا جائے ۔ 
فَلَمْ تَجِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ

إِنَّ اللّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا [4:43]
 
٭-  روح القدّس نے محمدﷺ کو اقام الصلوٰۃ سے پہلے غسل، مسح اور طہارت کا مفصل حکم، اللہ کی طرف سے بتایا :


يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ

 1- وضو و مسح طریقہ ۔
فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ وَاَيۡدِيَكُمۡ اِلَى الۡمَرَافِقِ وَامۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌ ؕ
2- طہارت۔
وَاِنۡ كُنۡتُمۡ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوۡا‌ ؕ

3- وضو و مسح کی وجوہ:
وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضَىٰۤ اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآٮِٕطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ

 4- پانی نہ ملنے کی صورت میں استثناء:
فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ مِّنۡهُ‌ ؕ

5- غسل، مسح اور طہارت میں کوئی حرج نہیں ۔
مَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ حَرَجٍ وَّلٰـكِنۡ يُّرِيۡدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَ لِيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ[5:6]

کیا آپ کو معلوم ہے کہ اعترافِ گناہ     اور اور اللہ  توبہ قبول کروانے  کے لئے ، اللہ کو صدقہ دینے کے بعد  اقام الصلوٰۃ   ہوتی ہے ؟ 
٭-  روح القدّس نے محمدﷺ کو  اعترافِ گناہ کے بعد توبہ کا  حکم، اللہ کی طرف سے بتایا :

 1- اعترافِ گناہ-   Confession :

 وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿9:102
 2- صدقہ لینے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی  صلاۃ   برائے طہارت و تزکیہ    نادم عبداللہ  :
 خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿9:103
3-عمل صالح میں عملِ غیر صالح    غلطی سے مل جانے پر ،صرف اللہ کو، مالِ  تلافی (صدقہ) دینے کے بعد توبہ قبول ہوتی ہے    :
 أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُوَالصَّدَقَاتِ أَنَّ اللَّـهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴿9:104﴾ 
٭-  روح القدّس نے محمدﷺ کو  اعترافِ گناہ کے بعد توبہ  کے لئے گناہ گاروں سے جمع  ہونے والے الصدقات  کی تقسیم  کا  حکم، اللہ کی طرف سے بتایا :
   إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿9:60﴾ 

 نوٹ :  الصدقات اللہ کے معاشی نظام  ، الزکاۃ  کا  ایک حصہ ہے ،اللہ کے معاشی نظام   کے    باقی حصے ،   خمس  ، خیرات ، نذر   اور انفاق    ہیں ۔ 
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 






اللہ کی عربی آیات ۔ اللہ کا کلام، کٗن


منگل، 28 مئی، 2019

بزنس کارڈ ۔ ہراسمنٹ وارننگ !

وہ اپنی کار میں پیٹرول ڈلوا رہی تھی ۔ کہ ایک نوجوان اُس کے پاس آیا اور اُس  کی طرف جھک کر اپنا تعارف کروایا ،
" میڈم میں ایک پینٹر ہوں اور پورٹریٹ بناتا ہوں ۔ آپ میرا  بزنس کارڈ رکھ لیں کسی سہیلی کو یا جاننے والے کو اگر پینٹنگ بنوانے کی  ضرورت ہو تو میرا نمبر اُسے دے دیں "
خاتون نے کارڈ لے لیا ، اور سامنے ڈیش بورڈ پر رکھ کر بولی ،
" یقیناً اگر کسی کو ضرورت پڑی تو میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں "
یہ کہہ کر وہ رقم ادا کرکے ، اپنی گاڑی کا شیشہ اوپر کرنے کے بعد روانہ ہوگئی ۔ اچٹتی نظروں سے اُس نے نوجوان کو ایک دوسری کار کی پسنجر سیٹ پر بیٹھتے دیکھا ، پیٹرول پمپ سے نکلتے ، خاتون نے  ، بیک مرر میں ، اُسی کار کو اپنے پیچھے آتے دیکھا وہ اِس اتفاق سمجھی ۔ لیکن تھوڑی دور جاکر اُسے یک دم سانس رکتا محسوس ہوا اور غشی سی آنے لگی ۔ اُس نے بلا ارادہ کار کا شیشہ کھولا تو سانسیں بحال ہوئی ۔
ایک انجانا خطرے نے اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی پھیلا دی ،
بیک مرر میں ، وہ  کارنظر آرہی تھی اُس نے گاڑی کو ریس دی اور  اگلے پیٹرول پمپ میں گاڑی موڑ دی  ۔
پیٹرول پمپ میں داخل ہوتے ہی اُس نے زور زور سے ہارن بجانا شروع کیا ۔ اور پھر بے ہوش ہوگئی ۔
اُسے پولیس نے ہسپتال پہنچایا ، تفتیش پر معلوم ہوا کہ ، اُسے جو وزیٹنگ کار ڈ  دیا گیا تھا اُس پر ۔ 
 
لگا ہوا تھا  ،
Burundanga is the popular name for scopolamine, a drug that is used in medicine to treat nausea and motion sickness, among other conditions. But its side effects include drowsiness, a loss of inhibition and memory lapses.


 یورپ کے کلبوں میں اِس کا ستعمال عورتوں کو گھیرنےکے لئے2012سے جاری ہے ۔ لیکن وہاں سے آنے والے    حرامی پاکستانیوں نے اِس کا استعمال  شروع کر دیا  ۔ ابھی تک کوئی اعداد وشمار نہیں ۔ لیکن وٹس ایپ پر ، ڈی ایچ اے لاہور کی ایک خاتون نے بالا واقعہ   آگاہی کے لئے  بھیجا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پروڈکٹ میعار پر پوری نہیں اتری !

 آج ایک اور  بیٹی میکے آگئی !
کیونکہ وہ جس گھر میں  وہ چاہتوں سے بیاہ کر گئی ، وہاں  اُن کو اس کی عادتیں پسند نہیں  آئیں ۔
 اُ س  کو کھانا بنانا نہیں آتا ،  اس کا دل ہر وقت میکے میں لگا رہتا ،  مہارانی ، روزانہ    صبح دیر سے اٹھتی تھی ۔
یہ شکایات ایک بیس سال کی لڑکی پر ایک پچپن سال کی ساس لگا رہی ہے!
کہ کیسی پھوہڑ کوبہو بنا  کر لائی !
یہ الزام ایک ساٹھ سال کا سسر لگا رہا ہے ، یہ الزام ایک تیس سال کا شوہر لگا رہا ہے ۔
بیس سال کی لڑکی کو اپنی عمر اپنے تجربے کے مینار پر کھڑے ہوکر پرکھتے ہیں ۔
ہمارے گھر ایسا نہیں ہوتا ، ویسا نہیں ہوتا ۔

بیس سال کی لڑکی جو اپنے باپ کے لاڈ میں پلی ہو ، جو اپنے بھائیوں کے ہاتھ کا چھالا ہو ، ماں کا آنچل چھوڑے کچھ سال ہی ہوئے ہوں ، یہاں تک کہ پڑوس والے چاچا تک ٹوٹ کر چاہتے ہوں۔
وہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں آئی ہے جو اُس کے لئے مکمل اجنبی ہے ۔  نہ ماں کی گود ہے اور نہ باپ کا شفقت بھرا ہاتھ ، نہ بہنوں کی ہمدردی ، سب یہ سمجھ رہے ہیں کہ اُن کے بھائی کے ساتھ ڈولہ میں بیٹھ کر آنے والی اپنا   دولہن کا جوڑا اتارے گی اور کمر پر دوپٹہ لگ کر اُن کے صاف ستھرے گھر کی دوبارہ صفائی شروع کر دے گی ۔
ابھی تو اُس کا مکمل تعارف ہی نہیں ہوا ،  سب اُسے بیٹے  کی بیوی سمجھ رہے ہیں ، بہو کی جگہ تو اُسے ملی ہی نہیں ۔نندوں نے  بھابی کا مان ہی نہیں دیا ۔
بس یہی سمجھا کہ  ایک ایک مکمل تربیت یافتہ  روبوٹ اُن کے گھر کا حصہ بن گئی ہے ۔
جو  ایک کمپنی پروڈکٹ ہے ،

 مکمل وارنٹی و گارنٹی کے ساتھ !
ایک مکمل پیکیج !

 جس میں تمام صفت موجود ہو اور ایسے موجود ہو جس کو بٹن دباؤ اور سو فیصد درست فنکشن ہو!
 30دن میں  میعار پر پورا نہیں اتری ، مینوفیکچرر کو  سیکیورٹی ضبط کرنے کے بعد ،ا ستعمال شدہ  پروڈکٹ واپس کردی۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

1857 کا ذکر ہے !

جنگِ آزادی  کو مکمل کچلنے کے بعد ، ایسٹ انڈیا کمپنی  کے فوجیوں نے ، جون 1857 کو ملتان چھاونی میں پلاٹون نمبردس کو بغاوت کے شبہ  میں نہتہ کیا گیا اور پلاٹون کمانڈر کو بمعہ دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑا دیا گیا۔ 
آخر جون میں بقیہ نہتی پلاٹون کو شبہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ کیا جائے گا اور انہیں تھوڑا تھوڑا کرکے قتل کر دیا  جائے گا۔
 سپاہیوں نے انگریز راج  کی اِس سازش کے خلاف ،  بغاوت کر دی تقریبا بارہ سو سپاہیوں نے، ظالم حاکموں کے خلاف   جہاد کا علم بلند کیا ا۔ اور انگریز کی نوکری چھوڑ کر   ، قلعے سے نہتے نکل گئے ، ملتان شہر سے گذر کر پنجاب کی طرف جانے والوں مقبرہ بہاؤ الدین زکریا  م کے پاس اِن نہتے  مجاہدین کو شہر اور چھاونی کے درمیان واقع پل شوالہ پر دربار بہا الدین زکریا کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے انگریزی فوج کی قیادت میں اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیا اور تین سو کے لگ بھگ نہتے مجاہدین کو شہید کر دیا۔ 
یہ مخدوم شاہ محمود قریشی ہمارے سابقہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے لکڑدادا تھے اور ان کا نام انہی کے حوالے سے رکھا گیا تھا۔
مظفر گڑھ کی طرف جانے والے  کچھ  مجاہدین  دریائے چناب کے کنارے تقریبا 10کلومیٹر دور ،   شیر شاہ کے علاقے میں دربار شیر شاہ کے سجادہ نشین مخدوم شاہ علی محمد نے اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیر لیا اور ان کا قتل عام کیا مجاہدین نے اس قتل عام سے بچنے کے لئے دریا میں چھلانگیں لگا دیں کچھ لوگ دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے اور کچھ  مجاہدین پار پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ 
بچ کر نکلنے والوں کو، 60 میل جنوب میں جلال پور کے علاقے میں ،   سید سلطان احمد قتال بخاری کے سجادہ نشین دیوان آف جلالپور پیر والہ نے اپنے مریدوں کی مدد سے شہید کر دیا۔ جلالپور پیر والہ کے موجودہ ایم این اے دیوان عاشق بخاری انہی کی نسل میں سے ہے۔
 مجاہدین کی ایک ٹولی  ملتان سے شمال میں 50میل دور  حویلی کو رنگا کی طرف نکل گئی جسے مہر شاہ آف حویلی کو رنگا نے اپنے مریدوں اور لنگڑیال ، ہراج ، سرگانہ، ترگڑ سرداروں کے ہمراہ گھیر لیا اور چن چن کر شہید کیا ۔
تحریکِ آزادی :
میرٹھ سے  شرع ہونے والی 1857 کی تحریک ، بالآخر  حویلی کورنگا  کے مقام پر ختم ہو گئی ۔
حویلی کو رنگا کے معرکے میں بظاہر سارے مجاہدین مارے گئے مگر علاقے میں آزادی کی شمع روشن کر گئے۔ حویلی کو رنگا کی لڑائی کے نتیجے میں جگہ جگہ انگریز راج کے خلاف آزادی  کی تحریک  شروع ہو گئی ۔ 
 حویلی کو رنگا، قتال پور سے لیکر ساہیوال بلکہ اوکاڑہ تک کا علاقہ خصوصا دریائے راوی کے کنارے بسنے والے مقامی سرائیکیوں کی ایک بڑی تعداد اس تحریک آزادی میں شامل ہو گئی ۔
 اس علاقے میں اس آزادی  کا سرخیل رائے احمد خان کھرل تھا ، جو  اوکاڑہ سے سمندری کے درمیان ، گو گیرہ کے نواحی قصبہ جھامرہ کا بڑا زمیندار اور کھرل قبیلے کا سردار تھا ۔ احمد خان کھرل کے ہمراہ مراد فتیانہ سیال ،احمد سیال ، شجاع بھدرو، موکھا وہنی وال اور سارنگ جیسے مقامی سردار اور زمیندار تھے ۔
 مورخہ 16ستمبر 1857 کو رات گیارہ بجے سرفراز کھرل نے ڈپٹی کمشنر ساہیوال بمقام گوگیرہ کو احمد خان کھرل کی مخبری کی مورخہ اکیس ستمبر 1857کو راوی کے کنارے ”دلے دی ڈل“ میں اسی سال احمد خان کھرل پر جب حملہ ہوا تو وہ عصر کی نماز پڑھ رہا تھا۔ 
اس حملے میں انگریزی فوج کے ہمراہ مخدوموں ، سیدوں ، سجادہ نشینوں اور دیوانوں کی ایک فوج ظفر موج تھی جس میں :
1- دربار سید یوسف گردیز کا سجادہ نشین سید مراد شاہ گردیزی ۔

2- دربار بہا الدین زکریا کا سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی ، 
3- دربار فرید الدین گنج شکر کا گدی نشین مخدوم آف پاکپتن ، 
4- مراد شاہ آف ڈولا بالا،-
5-سردار شاہ آف کھنڈا ٓ
6- گلاب علی چشتی آف ٹبی لال بیگ 
7-  کئی مخدوم  وسجادہ نشین شامل تھے۔
 احمد خان کھرل اور سارنگ شہید ہو ئے ۔ انگریز احمد خان کھرل کا سر کاٹ کر اپنے ہمراہ لے گئے ۔ احمد خان کھرل کے قصبہ جھامرہ کو پیوند خاک کرنے کے بعد آگ لگا دی گئی ۔ فصلیں جلا کر راکھ کر دی گئیں۔ تمام مال مویشی ضبط کر لیے گئے دیگر سرداروں کو سزا کے طور پر   کالا پانی بھجوادیا گیا۔ اس طرح اس علاقے کی تحریک آزادی مخدوموں ، سرداروں، وڈیروں اور گدی نشینوں کی مدد سے دبادی گئی۔ اس کے بعد دریائے راوی کے کنارے اس علاقے کے بارے میں راوی چین لکھتا ہے۔ 
انگریز کے نمک خواروں اور کاسہ لیسوں کو ملکہ ءِ برطانیہ کی طرف سے مراعات ۔
 1- مہر شاہ آف حویلی کو رنگا سید فخر امام کے پڑدادا کا سگا بھائی تھا۔ اسے اس قتل عام میں فی مجاہد شہید کرنے پر بیس روپے نقد یا ایک مربع اراضی عطا کی گی۔
 2- مخدوم شاہ محمود قریشی کو 1857 کی جنگ آزادی کے کچلنے میں انگریزوں کی مدد کے عوض مبلغ تین ہزار روپے نقد، جاگیرسالانہ معاوضہ مبلغ ایک ہزار سات سو اسی روپے اور آٹھ چاہات جن کی سالانہ جمع ساڑھے پانچ سو روپے تھی بطور معافی دوام عطا ہوئی مزید یہ کہ 1860 میں وائسرائے ہندنے بیگی والا باغ عطا کیا۔
 3- مخدوم آف شیر شاہ مخدوم شاہ علی محمد کو دریائے چناب کے کنارے مجاہدین کو شہید کرنے کے عوض وسیع جاگیر عطا کی گئی۔
4- تمام 
مخادیم وسجادہ نشینوں کو اُن کے کالے کارناموں  کی بیاد پر جگیریں اور مراعات دی گئیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



کھانے پینے کے شوقین سیاست دان ۔

ایوب خان، صبح اٹھتے ہی ہزاری بیڈ ٹی لیتے۔ ناشتے میں پھلوں کارس ، مکئی کی آدھی روٹی اور دہی ہوتا ۔کبھی کبھار ان کا ناشتہ صرف پھلوں پر ہی مشتمل ہوتا۔ وہ اپنے شکار کئے ہوئے جانور یا پرندے کا گوشت بھی شوق سے کھاتے۔ 

ذوالفقار علی بھٹو ،  کو فرائی قیمہ بہت مرغوب تھا۔ اس کے علاوہوہ کھانے کے بعد ایک خاص قسم کے گوند کے حلوے کے چند ٹکڑے بھی کھاتے تھے جو ان کا خاندانی حلوہ تھا۔  
بھٹو  کے  سرکاری دورہ امریکہ کے دوران امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر  کو ڈنر  دیا  گیا ۔
مصاحبین کی خواہش یہ تھی کہ کھانے میں ایک ڈش ایسی ضرور ہونی چاہئے جو امریکہ میں نایاب ہو، آخر کار طویل صلاح مشورے کے بعد لاڑکانہ سے کالے تیتر اور ان تیتروں کو ایک خاص اسٹائل میں بنانے والا باورچی امریکہ پہنچ گیا۔ عینی گواہ،  مجید مفتی بتاتے ہیں کہ جس دن پاکستانی سفیر کے گھر دعوت شروع ہوئی تو رات 9بجے آنے والے ہنری کسنجر نے اپنی نشست پر بیٹھتے ہی بھٹو صاحب سے کہا،
 ’’محترم وزیراعظم میں آپ کی محبت میں آتو گیا ہوں مگر کچھ کھا نہیں سکوں گا کیونکہ میرا پیٹ خطرناک حد تک خراب ہے‘‘۔ 

کوثر نیازی نے لکھا ہے کہ وہ حلوہ بالکل سیاہ رنگ کا سخٹ ٹکڑوں جیسا ہوتا تھا۔ اصل چیز کھانا نہیں بلکہ اس کے لئے کیا جانے والا خرچہ ہے۔
 بھٹو صاحب کو فرائی قیمہ بہت مرغوب تھا۔ اس کے علاووہ کھانے کے بعد ایک خاص قسم کے گوند کے حلوے کے چند ٹکڑے بھی کھاتے تھے جو ان کا خاندانی حلوہ تھا۔

 جنرل ضیاء الحق، کا ناشتہ دودھ کے گلاس کے ساتھ ڈبل روٹی کا ایک سلائس تھا ۔دوپہر کو وہ کبھی سلاد اور کبھی فروٹ کھاتے ۔ جنرل ضیاء کا ڈنر اگر گھر پر ہوتا تو وہ آلو گوشت ضرور پکواتے ۔ 

جنرل ضیاء ، ایک مرتبہ چین کے دورے پر تھے ۔ 3دن چینی کھانے کھا کھاکر تنگ آئی ہوئی،  بیگم شفیقہ ضیاء نے جب جنرل صاحب کو خوب سنائیں ,تو اُسی وقت آرمی ہاؤس راولپنڈی کال ہوئی،آلو گوشت کا آرڈر دیا گیا اور جب اگلی شام پی آئی اے کی فلائٹ سے آلو گوشت کا دیگچہ اور تندور کی روٹیاں بیجنگ پہنچی تو بقول اے ڈی سی (جو جنرل صاحب کے ساتھ تھے ) وہ ڈنر اتنا مزیدار لگا ،کہ آج بھی یاد آنے پر اس کا ذائقہ تازہ ہوجاتا ہے ۔ 
پرویز مشرف ، نے بتایا کہ ،  جب میری شادی ہوئی تو بیگم کو کھانا پکانا بالکل نہیں آتا تھا ۔ صہبا جیسے تیسے آٹا گوندھتیں اور میں بڑی مشکل سے روٹی بیل کر توے پر ڈالتا اور پھرہم اُس وقت تک یہ کچی پکی روٹیاں کھاتے رہے کہ جب تک باورچی نہ رکھ لیا۔ ہر قسم کے کھانے کھا لینے والے پرویز مشرف باربی کیو بہت شوق سے کھاتے ہیں۔کافی کے ساتھ سگار پینا اور راتوں کو اکثر دوستوں کے ساتھ اپنے پسندیدہ مشروب کی چسکیوں میں سگار کے لمبے لمبے کش مارنا مشرف کا معمول ہے ۔انہیں کیوبا کے فیڈرل کاسترو سگار بھجوایا کرتے تھے اور ان دنو بڑ ے بڑے نام نہ صرف فخریہ سنایا اور بتایا کرتے کہ صدر صاحب نے ہمیں تحفتاً کیوبن سگار دیا ہے یا آج ہم ان کے ساتھ سگار پی کرآئے ہیں بلکہ صورتحال یہ ہوچکی تھی کہ شیخ رشید تک پہنچتے پہنچتے یہ سگار ’’تبرک ‘‘ کا روپ اختیار کرچکے ہوتے ۔ 
بے نظیر بھٹو، کو حیدر آباد دکن کےکھٹے میٹھے آلو ٹماٹر ،اٹالین چلی کارنکارنی ،مکسیکن کھانے ،قیمہ اورلال لوبیا بہت پسند تھا ۔ جلاوطنی کے دنوں میں بے نظیر بھٹو پاکستانی برفی کو بہت مِس کیا کرتیں ۔ وہ خود بھی بہت اچھی کُک تھیں اور اپنے کھانوں میں کلونجی ،زیرا اور ہلدی کا استعمال ضرور کرتیں۔محترمہ اپنے بچوں کیلئےاسپیگٹی (سویاں۔نوڈلز) بہت مزیدار بناتیں۔
انہیں جہاں کافی اور آئس کریم بہت پسندتھی وہاں گڑ بھی بڑے شوق سے کھاتیں ۔ اسلام آباد میں ایک رات بی بی نے اتنا گڑ کھا لیا کہ انہیں لگا کہ ان کا بلڈ پریشر ہائی ہوگیا ہے ۔ جس پر ہنگامی طور پر ڈاکٹر کو گھر بلوا کران کا چیک اپ کروایا گیا ۔ 
بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں جبکہ پاکستان میں میکڈونلڈ نہیں آیا تھا،  تب بی بی کے بچوں نے جب میکڈونلڈ برگر کھانے کی ضد کی تو باقاعدہ پی آئی اے کا ایک طیارہ امریکہ سے میکڈونلڈ کے کھانے لینے گیا اور لے کر آیا تھا۔اب یہ الگ بات ہے کہ وہ دس پندرہ گھنٹے باسی برگرز وغیرہ کس طرح تازے رکھے گئے؟
 نواز شریف، کی خوش خوراکی کا یہ عالم ہے کہ اپنے باورچیوں کو ساتھ لے جانے کے باوجود وہ سعودی عرب میں جلاوطنی کے دنوں میں اکثر پاکستانی کھانوں سے اپنی محرومی کا تذکرہ کیا کرتے۔ میاں صاحب نہاری ، حلیم ، سری پائے ، مغز، آلو گوشت اور تمام روایتی کشمیری کھانے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ انہیں دہی بھلے ،ربڑی دودھ ،کھیر ، حلوہ جات اور برفی بھی بہت پسند ہے ۔

 نواز شریف خصوصی طور پر کاغان جاکر تیز ٹھنڈے پانیوں کی ٹراؤٹ فش کھاتے ۔ دل کا عارضہ لاحق ہونے کے بعد بیگم کلثوم نواز نے ان کے کھانے پینے پر کافی سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں مگر پھر بھی جب کبھی انہیں موقع ملتاہے تو ڈنڈی مارجاتے ہیں۔
عمران خان،  چپل کباب ، باربی کیو اور مچھلی بھی شوق سے کھاتے ہیں ۔ اگر بیرون ملک ہوں تو  خصوصی طو ر پر جاپانی اور تھائی کھانے کھاتے ہیں ۔ 64سال کی عمر میں بھی  تیسری قانونی
شادی کرنے والے ، جوان  خان، ولایتی مرغیوں سے سیر ہونے کے بعد،  اب  دیسی مرغی بہت رغبت سے کھاتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ  چینی کی بجائے شہد کا استعمال  انسانی حسیات  میں اضافہ کرتا ہے ، خاص طور پر حسِ باہ کو  ، جب سے خان صاحب نے سنا ہے وہ  متواتر استعمال کر  رہے ہیں ۔
 اکبر بگٹی مرحوم،  بکرے کے شانے کا گوشت ہڈی سمیت بڑے مزے لے لے کرکھاتے ۔وہ کہتے کہ بکرے کے شانے کی ہڈی وہ بلوچی اخبار ہے جس سے مجھے پتا چلتاہے کہ صوبے میں حالات بہتر ہیں یا قحط سالی ہے۔ آدھے کلو دہی میں ایک پاؤ کٹی ہوئی سبز مرچیں ڈال کر
کھانا ان کا معمول تھا ۔ زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مگر اب معلوم ہوا ہے کہ اگر اکبر بگٹی مارے نہ جاتے تو بھی وہ زیادہ سے زیادہ سال بھر کے مہمان تھے کیونکہ اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل ہی اُنہوں نے ادویات لینا اس لئے بند کردی تھیں کہ بقول ان کے معالجین کی ا ب ہر قسم کی دوا نے ان پر اثر کرنا چھوڑ دیا تھا ۔ 
   سید مردان شاہ پیرپگاڑا ، صبح سگریٹ یا سگاراور چائے پینے کے بعد منہ ہاتھ دھوتے ۔ پہلی شادی کے 33سال بعد دوسری شادی کرنے اور ہاتھی جیسی یادداشت والے پیر پگاڑا باربی کیو اور مٹن بریانی کے رسیا تھے ۔
 شوکت عزیز ، پرہیزی کھانے کھاتے ،انہیں فروٹ اور سلاد بہت پسند ہے ۔ 
ظفر اللہ جمالی،  میٹھے اور مٹھائیوں کے دیوانے ہیں ۔ 
 یوسف رضا گیلانی ، دیسی کھانے اور پھلوں کے جوس کے شوقین، رمضان المبارک میں دہی کے ساتھ دیسی گھی کا پراٹھا اور افطاری کے وقت فروٹ چاٹ شوق سے کھاتے ہیں ۔
 طاہر القادری،  نہاری ،سبزیاں او گڑ والے چاول بڑی رغبت سے کھاتے ہیں ۔
الطاف بھائی،  حلیم بناتے بھی بہت اچھی ہیں اور کھاتے بھی بڑے شوق سے ہیں ۔انہیں بریانی بھی بہت پسندہے۔

  اپنے کھرب پتی بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض روٹی چاول کچھ بھی نہیں کھاتے بلکہ سوپ وغیرہ پر گزارہ ہے۔  لیکن لوگوں اور حکومت کی زمین ہڑپنا اِن کا مرغوب  مشغلہ ہے ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 اپنے وقتوں کی مہنگی گاڑیوں اور عمدہ ترین سگریٹوں کے شوقین،کبھی ایک ٹائی دوبارہ استعمال نہ کرنے والے،200 سوٹوں پر مشتمل وارڈ روب کے خوش لباس مالک، 1935ء کے بعد شلوار کُرتا پہننے اور چاول کڑی شوق سے کھانے والے قائداعظم سے متعلق  کتاب التاریخ میں لکھا ہے ۔
 زندگی کے آخری دن ، زیارت کا مقام ، کمزور صحت ،بیماری اور اوپر سے تقریباً کھانا پینا چھوڑچکے قائداعظم کی نقاہت جب خطرناک حدوں کو چھونے لگی تو محترمہ فاطمہ جناح اور قائد کے ذاتی معالج ڈاکٹر الہٰی بخش نے اُن کپور تھلہ برادرز کو بلوانے کا فیصلہ کیا کہ قائد جن کے کھانے بڑے شوق سے کھایا کرتے تھے ۔ لاہور چھوڑ کر فیصل آباد میں رہائش پذیر
کپورتھلہ برادرز ہنگامی طور پر زیارت پہنچے تو اُس شام ہر کوئی خوش تھا کیونکہ ایک عرصے بعد قائداعظم نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔لیکن رات سونے سے پہلے جناح صاحب نے اپنے سیکرٹری فرخ امین کو بلوایا ۔ آج میراکھانا کس نے بنایا ہے ۔قائداعظم نے جب یہ پوچھا تو فرخ امین نے پوری کہانی گوش گزار کردی۔یہ سب سن کر قائد کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا ۔اُسی وقت باورچیوں کے آنے جانے کا حساب ہوا، چیک کٹا اور رقم سرکاری خزانے میں جمع کروانے کو کہا گیا ۔ پھر دو دن کی تنخواہ اور کرایہ دینے کے بعد کپور تھلہ برادرز کو رخصتی کا حکم سنا کرمحمد علی جناح بولے،
’’ یہ حکومت یا ریاست کا کام نہیں کہ وہ گورنر جنرل کو اس کی پسند کا کھانا سرکاری خرچ پر فراہم کرے‘‘ ۔

 دوستو! زیارت سے واشنگٹن تک اور قائداعظم سے قائدِعوام تک چند سالوں میں ہم کہاں سے کہاں کیسے پہنچے؟



 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تہذیبِ گُم گَشتہ !

مرغیوں کی دیکھ بھال ۔ پیٹ کی صفائی (فلیشنگ)

  پیٹ کی صفائی  (فلیشنگ) 
 چوزوں اور مرغیوں کو   مہینے میں ایک بار اور    سوا سال کی عمر کے بعد  ہر پندرہ دن بعد  مرغیوں کو ہلکے قسم کے موشن لگوا کر آنتوں کی صفائی کے عمل کو فلیشنگ کہتے ھے، اِس سے  مرغیوں کی آنتوں اور پیٹ میں پیدا ہونے والے زہریلے مادّے صاف ہو جاتے ہیں ۔ خصوصاً   گمبورو (Gumboro) بیماری  سے پیدا ہونے والے جراثیم   ۔
 مختلف قسم  کے فلیشر بازار میں دستیا ب ہیں  لیکن یہ دیسی طور پر بھی بنائے جاتے ہیں ۔
 ٭- چینی اور دودھ   :  ایک کلو چینی  اور آدھا کلو دودھ : پچاس لیٹر پانی     یعنی ایک لیٹر پانی میں     ملا کر  7 گھنٹے تک پلائیں ۔ یہ ہزار چوزوں کے لئے کافی ہے ۔
 ٭- میٹھا سوڈا : 100 گرام  میٹھا سوڈا  ، 50 کلو گرام کے فیڈ کے بیگ میں مکس کرکے دیں ،
 دواء دینے سے پہلے فلیشنگ کریں   -
  ویکسینیشن  یا دوسری بیماریوں کے لئے ، بارہ سے چوبیس گھنٹے پہلے بھی فلیشنگ دے کر علاج شروع کریں ، خاص طور پر ٹائیفائیڈ بخار کےلئے ۔
لیئر اور دیسی مرغیوں میں بیس سے پینتالیس دن تک گمبورو کا خطرہ ہوتا ہے۔ اِس کے لئے فلیشنگ نہایت ضروری ہے ۔ سوا سال (ساٹھ ہفتے ) کی عمر کے بعدہر پندرہ دن بعد ایک بار فلیشنگ دی جا نی چاہیئے  ۔
فلیشنگ کی وجہ سے کبھی کبھی پرندے پر سٹریس بن سکتا ہے اگر ایساہو  تو چھ گھنٹے الیکٹرولائٹس  کا پانی دیں -




٭٭٭٭٭٭٭٭٭


پیر، 27 مئی، 2019

کٹھل ۔ پھل اور گوشت کا نعم البدل سبزی


میلبری خاندان    ( Mulberry family ) جس  کی1100  مزید اقسام  ہیں ۔   جن میں سے ایک  کٹھل یا  Jack Fruit ہے ۔



کٹھل کا  اصل وطن جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا ہے اور یہ  بنگلہ دیش کا قومی پھل ہے۔  
 یہ مشرقی افریقہ کے ممالک یوگنڈا اور ماریشس اور برازیل میں بھی پیدا ہوتا ہے۔
کٹھل  کسی درخت پر لگنے والا دنیا کا سب سے بڑا پھل ہے۔ عمومی طور پر ایک پھل 36 کلوگرام تک وزنی ہوتا ہے جس کی لمبائی 36 انچ اور قطر 20 انچ تک ہوتا ہے۔ 
پکے ہوئے  کٹھل میں سے میٹھے پیلے رنگ کے کوئے نکلتے ہیں جنھیں دوسرے پھلوں کی طرح کھایا جاتا ہے۔ اسے ڈبوں میں محفوظ کرکے برآمد بھی کیا جاتا ہے۔

  پکنے کے بعد اس کا چھلکا باہر سے سبز یا سبزی مائل زرد ہوجاتا ہے۔ اس کی سطح پر موٹے دانے سے ہوتے ہیں جیسے شریفے یا دُریاں کی سطح پر پائے جاتے ہیں ۔  

کٹھل کے اندر گانٹھوں کی شکل میں گودا پایا جاتا ہے جو مزید پھل پکنے کے ساتھ ساتھ نسبتاً لیس دار ہوتا جاتا ہے اور اسی لیس کی وجہ سے اس کی مٹھاس بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ لیس اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ کٹھل آسانی سے نہیں کاٹا جاتا بلکہ چھری پر تیل لگا کر کاٹا جاتا ہے۔ اس کا سخت کانٹوں دار چھلکا چھیلنا بھی کوئ آسان کام نہیں۔
پکّے پر   کٹھل کے گودے کا رنگ زردی مائل ہوجاتا ہے اور مکمل پک جانے کے بعد اس کے گودے کا رنگ سُرخی مائل ہوجاتا ہے۔
گودے کے درمیان کچھ بیضوی اور ہلکے بھورے رنگ کے بیج بھی پائے جاتے ہیں ۔ایک  کٹھل میں تقریباً 100 سے 500 تک بیج ہوتے ہیں۔ دخت پر پکے ہوئے  کٹھل کی جڑ پیاز کی جڑ کی طرح گدری اور پرت دار ہوتی ہے ۔ جب   کٹھل کو کاٹا جاتا ہے تو کٹتے ہی اس پھل کی اپنی خاص خوشبو آس پاس کے ماحول میں رچ بس جاتی ہے، اکثر پکے ہوئے کٹہل کی خوشبو اننّاس (پائن ایپل) اور پکے ہوئے کیلوں کی خوشبو سے مشابہ ہوتی ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس کی بو کی وجہ سے اس کو پسند نہیں کرتے۔
 کٹھل انتہائ مقوی پھل ہے اور خاص طور پر مردانہ طاقت کے لئے بہت مفید تصور کیا جاتا ہے۔۔ اس کا مربہ بھی ڈالا جاتا ہے۔
 کراچی کے مضافاتی علاقوں میں لوگوں نے اِسے  گھر وں میں لگا یا ہوا ہے ، جیسے ۔ملیر، کورنگی، لانڈھی، وغیرہ میں کافی گھروں میں لگا ہوا دیکھا ہے۔
 کراچی کی ایمپریس مارکیٹ میں  کٹھل مل جاتا ہے۔ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔
 بنگال میں سستا ہونے کے سبب اکثر مزدور طبقہ ”لنچ“ میں اسی سے گذارا کرتا ہے
جنوبی بھارت یعنی دکن کے علاقے کے اردو طبقے میں اِسے پَھنَس کے نام سے جانا جاتا ہے۔


 کچا  کٹھل سبزی کے طور پر پکایا جاتا ہے۔ بھارت ، بنگلہ دیش ، نیپال ، سری لنکا ، انڈونیشیا ، کمبوڈیا اور ویتنام کے کھانوں میں کچا کٹھل   ترکاری کے طور پر  پکایا   جاتا ہے ۔بھارت میں اس کو بہت شوق سے کھایا جاتا ہے اور اسے سبزی خوروں کا مٹن کہا جاتا ہے۔اِس کی  ترکاری پُوری اور پراٹھوں کے ساتھ نہایت مزا دیتی ہے۔
 ترکیب: چھلے ہوئے کٹھل کے ایک ایک انچ کے کیوب کاٹ کر پریشر کوکر میں دس منٹ پکا کر آدھا گلا لیں۔ آدھی یعنی ایک پاؤ پیاز کو کاٹ کر گولڈن براؤن کر کے ایک طرف رکھ دیں۔
 کڑاھی میں دو ٹیبل اسپون تیل گرم کریں اور کٹھل کو گولڈن براؤن ہونے تک فرائی کریں۔اور الگ رکھ دیں۔
 اب کڑاھی میں بقایا تیل گرم کر کے اس میں تیج پتہ،ثابت مرچ، کترا ہوا لہسن ادرک، گرم مصالحہ، ہلدی، ، زیرہ اور کای مرچ ڈال کر ہلکا سا بھون لیجئے۔پھر  اس میں بقایا کُتری ہوئی  پیاز ڈال کر بھونیں۔جب پیاز گولڈن براؤن ہوجائے تو لہسن ادرک کا پیسٹ شامل کر کے مزید بھونیں۔ اب کٹھل، تلی ہوئی پیاز، نمک اور آدھا کپ پانی شامل کر کےپریشر کوکر میں دس منٹ پکائیں۔کٹھل کا دوپیازہ تیار ہے۔ پراٹھے یا پوری اور رائتے کے ساتھ پیش کیجئے۔  
بشکریہ : ثناء اللہ خان احسن

بنگال میں سادہ طریقے سے کٹھل کی ترکاری بنانے کی وڈیو ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔