میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 21 مئی، 2019

بچوں کو نصیحت کب کریں

بچوں کو نصیحت اس وقت کریں جب بچے receptive mood میں ہوں ۔



لیکن ٹہریں ، پہلے اپنے اندر کے بچے کو جگائیں اور اُس سے پوچھیں کہ وہ نصیحت کن اوقات میں قبول کرتا ہے ۔ 
ویسے چار  اوقات ایسے ہیں جب بچہ نصیحت سننے کے  موڈ میں ہوتا ہے اور وہ اُس کے سیکھنے کا موڈ ہوتا ہے ، بس  اُس وقت آپ بچے کو جو بھی نصیحت کریں گے وہ بچے کے دل میں اتر جائے   گا۔
1-  جب بچہ رات کو سونے لگے اُس وقت بچے کا  سیکھنے کا موڈ ہوتا ہے   ۔ اِس لیے اُس وقت بچے کہتے ہیں ،
" ہمیں کوئی کہانی سنائیں"
  مائیں بچوں کو بلی چوہوں کی کہانیاں سنا دیتی ہیں پھر بچوں میں بلی چوہوں والی حرکتیں آتی ہیں ۔اس وقت بچے کو انسانی ہمدردی ، ایک دوسرے کی مدد  اور اچھے  واقعات سنانے چاہیےجس میں اچھی نصیحتیں ہوں ۔تاکہ آپ کا بچہ  اچھا اور ہمدرد انسان بنے ۔

2-  جب بچہ آپ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا ہو۔اُس وقت  بھی بچے کا  سیکھنے کا موڈ ہوتا ہے   ۔  اس لیےاس وقت بچہ  گاڑی کے متعلق  ہر چیز  کے متعلق پوچھ رہا ہوتا ہے ،
" ابو یہ کیا ہے ؟ وہ کیسے ہوتا ہے ؟"
  اس وقت ہم ڈانٹ ڈپٹ کر کے بچے کو چپ کروا دیتے ہیں وہ بہت قیمتی وقت ہوتا ہے ۔اس وقت بچےسے اچھی باتیں کریں اور اچھی نصیحتیں کریں وہ آپ کی باتوں پر توجہ دے گا اور آپکی باتوں پر عمل کرے گا ۔

3- جب بچہ کھانے پر  بیٹھے،اُس وقت  بھی بچے کا  سیکھنے کا موڈ ہوتا ہے   ۔ اس وقت  آپ نصیحت کر سکتے ہیں ۔
4- جب بچہ بیمارہو اور آپ کی قربت چاہتا ہے  ۔اُس وقت  بھی بچے کا  سیکھنے کا موڈ ہوتا ہے   ۔ آپ جو بھی نصیحت کریں گے وہ بچہ کے دل میں نقش ہو جائے گی۔
 آپ نے بچوں کو جو بھی نصیحتیں کرنی ہوں  وہ واقعات  اور کہانیوں کی صورت میں کریں   اور بالا اوقات  میں کریں بچے ضرور آپ کی نصیحتوں پر عمل کریں گے ۔
بے وقت بچے کو کبھی نصیحت نہ کریں۔ کیونکہ کہ  جب بچے کھیلنےیا کسی اور موڈ میں ہوتے ہیں  تو بچے کا دھیان اُس طرف ہوتا ہے وہ   کبھی نصیحت نہیں سنتا ۔  آپ کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا ۔

 بچے کی  نافرمانی  کو وجہ اُس کے ذہن میں موجودخیالات کو ڈسٹرب  کرنا ہے ۔ بچہ اگر کوئی کام کر رہا ہے تو اُسے وہ ختم ہونے دیں ۔

یاد رکھیں بچے نے جو کچھ اخلاقیات میں سے  سیکھتا ہے وہ ابتائی 5 سال کی عمر میں سیکھ لیتا ہے ، اُس کے بعد اُس کے اخلاقی اور سماجی  کردار کی پالش ہوتی ہے ۔ اِس پالش کا مواد وہ،  والدین ، بڑے بہن بھائیوں ، دوستوں کلاس فیلوز   اور محلے کے دوستوں سے لیتا  ۔
  مار پیٹ ، بچوں کو باغی بنا دیتی ہے ۔
 پھر ماں باپ  کہتے ،" حضرت  دعا کرو ہمارے بچے  فرمابردار ہو جائیں" ۔  

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔