میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 14 مئی، 2019

ماؤں کے ہتھیاراں برائے پند و نصائح


آپ کی تواضع کس والے سے ہوتی تھی یا ہے؟
   آلات درستگیء شوہر و بچگان و دخل درمعقولات کردگان 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ثناء اللہ خان احسن نے تصویر کیا لگائی ، کہ شعور نے تحت الشعور میں غوطہ لگا یا  اور دُرِ نایاب ڈھونڈھ لایا  ۔  
مندرجہ بالا تصویر   میں دیئے گئے ہتھیار جدید ہیں۔ اِن میں قدیم ترین ہتھیار "چمٹا" نظر نہیں آرہا جو باورچی خانے سے کچن تک کے سفر میں  ناپید ہوچکا ہے ۔ جو خالص لوہے کا بنا ہوتا  تھا  ۔  جس کی مار چمٹے میں ایک موسیقی پیدا کر دیتی ۔
 جس سے مضروب ہونے کے بعد عالم لوہار نے ہاتھ میں چمٹا اُٹھا لیا اور چاروانگ عالم میں  ماں سے سر پر لگے ہوئے چمٹے کی جھنکار گونج اُٹھی ۔
ہمارے بچپن کے فی الفور دستیاب ہتھیار  میں جو بھی امّی کے ہاتھ میں ہوتا  وہ استعمال کیا جاتا ۔ البتہ امی  جھاڑو کو آلات تقسیمِ عقل   و سرزنش کے لئے بالکل استعمال نہیں کرتیں کیوں کہ اُنہوں نے سُنا تھا  کہ  جھاڑو مارنے سے  بچے کو " سوکھیا "  ہوجاتا  ، یہی وجہ ہے کہ ہمارا وزن  بڑھتا جارہا تھا جس سے آپا کو سخت کوفت ہوتی اور وہ اِسے کم کرنے کے لئے  ، امّی  سےآنکھ بچا کر  جھاڑو کا اکثر استعمال کرتی لیکن یہ وارننگ تو ماؤں سے منسوب  تھی بہنوں سے نہیں ۔
 فُٹا ، اُن دنوں سٹیل  کا   تو نہیں البتہ کھپچی نما لکڑی کا بنا ہوتا تھا  ۔

  مدھانی کا استعمال زیاد ہ نہیں ہوتا تھا ۔
 البتہ ڈوئی (لکڑی کا چمچ ) کا استعمال بھی ہر خاص و عام والدائیں  تھا لیکن اِس میں بھی ایک قباحت تھی ،  کہ جس بچے کو ڈوئی  (سالن کے چمچ ) سے مارا جاتا ، وہ کھاؤ ُکھلّڑ ہوجاتا ۔ جس کی وجہ سے مائیں کم کھانے والے بچے پر زیادہ استعمال کرتیں ۔ 
سوئی گیس نے  ایک اور ہتھیار کو متروک کردیا جسے  ، پھُکنی یاپھونکنی کہا جاتا تھا ۔ جس سے لکڑیوں ، برادے  یا کوئلے کی انگیٹھیوں یا چولہے کی آگ سلگائی جاتی  تھی ۔
 ارے ہاں ایک اضافی ہتھیار تو بھول گیا  وہ ہے چولہے میں جلانے کے لئے ساتھ رکھی اضافی سیدھی لکڑیاں ۔

امّی کا چپل مارنے کا تجربہ  6فٹ کے بعد کارآمد نہ ہوتا کیوں کہ   دوپٹی والی چپل  کی اُڑان  اپنے نشانے سے بھٹک جاتی اور اگر خدا نخواستہ ابّا کا جوتا نزدیک  پڑا ہوتا تو وہ کسی گائیڈڈ میزائل سے کم خطر ناک نہ ہوتا۔  اُس کااُڑ کر   نشانے پر شہابِ ثاقب کی طرح ٹکرانا ، مضروب کی ہائے  ہائے اور نزدیک پائے جانے والے تماشائی بھائی یابہن کی کھی کھی    سماں باندھ دیتی اور اگر کھی کھی لمبی ہوجائے تو دوسرا جوتا  اُسے  طربیہ کی بجائے المیہ  کردار میں تبدیل کردیتا ۔ 
یہی وجہ ہے کہ ابّا کا ایک اصول تھا ،" جب پٹائی برائے نصیحت کی جائے تو باجماعت  کی جائے " تاکہ اپوزیشن کی طرح کوئی  غلغلہ بپا کرنے کا سبب نہ بنے ۔
دوسرا اور حتمی اصول ، " مجرم خود اپنے جرم کا اقرار کرے " ! 
جس کی وجہ سے   سیلف ڈسپلن پر شدت سے زور دیا جاتا جس کی خلاف ورزی  کا تمغہ چغلی  کی صورت میں چسپاں ہوتا اور خلاف ورزی کرنے والا دُگنی سزا کا حقدار بنتا ۔ 

لیکن حیرت کی بات ، دورانِ تفتیش معلوم نہیں ابّا فوراً مجرم تک کیسے پہنچ جاتے ؟
یہ راز اُس وقت کُھلا جب ہم  ابّا بنے ۔ 
 1995  کی بات ہے  کہ  ایک  صبح عروضہ  (چھوٹی بیٹی) کے رونے کی آواز آئی۔ معلوم ہوا کہ پانچوں کتوں میں سے کسی نے ایک کچھوا کھا لیا۔
ہمارے گھر میں جب کوئی نیا جانور آتا  اُسے " فیملی " کا حصہ بنانے کے لئے ، عروضہ اس کا سب کتوں سے تعارف کراتی۔ وہ اسے گھوم کر اور سونگھ کر دیکھتے، پھر دور بیٹھ کر لالچی انداز میں دیکھتے رہتے ۔عروضہ اُسے سب کے پاس باری باری لے جاتی اور ہاتھ اٹھا کر مارنے کے انداز میں ڈانٹ کر بتاتی۔
 " اب یہ یہاں رہے گا اسے نہ تنگ کرنا اور نہ ہی کھانا۔  ورنہ سخت پٹائی کروں گی " 
یہ کچھوا،رات کو ہی عروضہ، سائرہ  کی سہیلی سونیا کے گھر سے لائی تھی اور اس کا تعارف کرانا بھول گئی اور اسے دوسر ے کچھووں کے ساتھ رکھ دیا۔لہذا صبح یہ سانحہ وقوع پذیر ہوا  اور غیر متعارف کچھوا  سبزے پر پڑا ، کورٹ آف انکوائری کا  مردہ ثبوت تھا ۔
 انکوائری شروع ہوئی ہمارا شک بُلِّٹ پر تھا۔کچھو ے لان میں تھے اور باقی جانور گھر کے پچھلے حصے میں باڑے میں رہتے تھے۔
ملزمان کو حاضر کیا گیا ۔
 سب سے پہلے بلٹ(رشین شیپرڈ)  کو  کھچوا سنگھایا گیا اور پوچھا ،
" یہ کس نے کھایا ہے؟
 بُلِّٹ   نے ایک شانِ بے نیازی سے ہماری طرف دیکھا اور ایک طرف کھڑا ہو کر دم ہلانے لگا۔ 
 شیرا  (رشین شیپرڈ)نے  بھی کوئی توجہ نہ دی ، انجان بنی بیٹھی رہی ۔
  کوڈو  (رشین سیمائڈ )   جو شیرا کے پاس  زمین پر ٹانگیں پسارے بیٹھا تھا  ، اُس سے  پوچھا ،
" کوڈو ، یہ تمھاری حرکت ہے " 
کوڈو نے گردن اُٹھا کر شہپر کی طرف دیکھا اور اپنی ٹھوڑی  اپنی اگلے پنجوں پر رکھ دی ، شہپر کی طرف دیکھا اور آنکھیں موندھ لیں ۔
آخری ملزم شہپر
(مکس السیشن)  اور ٹینا  (رشین سیمائڈ )  بچیں۔
ٹینا تو عروضہ سے لگ کر بیٹھی  تھی ۔اُس سے یہ امید نہیں تھی ، کیوں کہ عروضہ ٹینا کو لے کر سونیا کے گھر گئی اور وہاں سے جب کچھوا لائی تو ٹینا اُسے اچھی طرح سونگھ کر " فیملی " میں جگہ دے چکی تھی
" شہپر ، تم نے اسے کھایا ہے ؟ "
 البتہ شہپر نے کھچوے کو سونگھنے سے انکار کر دیا اور آنکھیں نیچی کر کے ایک کونے میں جا بیٹھی۔ اور ترچھی آنکھوں سے ہماری طرف دیکھتی رہی ۔ 
" پپا  شہپر نے کچھوا کھایا ہے " عروضہ نے فیصلہ دیا  
" وہ کیسے ؟ " میں نے پوچھا ۔
" بس مجھے پتہ ہے " وہ بولی ۔
آپ نے نوٹ کیا ، کہ    بُلِّٹ اور   شیرا کو کچھ نہیں معلوم لیکن  کوڈو نے شہپر کی طرف دیکھا ۔
" لیکن ابھی ٹینا نے گواہی نہیں دی " میں نے  نکتہ اُٹھایا ۔
" ٹینا تم بتاؤ ؟"
ٹینا ،  عروضہ کے قدموں میں بیٹھی ہوئی تھی اُس نے  کچھوے کو سونگھا   اور شہپر کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی ۔ یوں  ہمیں معلوم ہوا  کہ ٹینا اِس وقوعے کی چشم دید گوا ہ ہے مگر سیلف ڈسپلن  کے اصول کے تحت   بیان نہیں دے رہی۔
شہپر ، اُٹھی اور سر جھکائے  آگے بڑھی ، کچھوے کو سونگھا اور عروضہ نے پاس آکر بیٹھ گئی ۔
عروضہ نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
" اچھی بچی  ، آئیندہ ایسا نہ کرنا  ، جاؤ معاف کیا  "  
یہ کہہ کر عروضہ نے کچھوا اُٹھا اور اُسے لان کے کونے میں قبر کھود کر دفنا دیا ۔ 
وہ جو انجانے میں  رسمِ وفا میں مارے گئے ۔
اُنہیں یاد نہ کرنا، وگرنہ دُکھ بڑھ جائے گا۔ 
۔٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔