میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 18 مئی، 2019

سٹیویا - صحت کے لئے نقصان دہ

" مجھےلیڈی  ڈاکٹر نے  بتایا کہ " سٹیویا "  نامی ایک شوگر ہے جو " سپلینڈا " سے بہتر ہے اور ہربل بھی ہے ، پاکستان میں نہیں باہر ملتی ہے، اگر ہوسکے تو آپ وہ استعمال کریں  "۔    بڑھیا نے  سال پہلے یہ معلومات دیں ۔
"جب میں نے اُسے  بتایا کہ میرا بیٹا باہر ہے وہاں سے منگواسکتی ہوں۔"
  تو اُس نے کہا ،" آپ کافی ساری منگوائیے اور کسی سٹور  پر رکھوا دیں  ، تاکہ بہتوں کا فائدہ ہو "
بڑھیا نے مجھے بتایا تو میں نے کہا ،" اگر یہ دریافت نئی ہے تو ابھی مارکیٹ نہیں ہوئی ہو گی ، اور اگر پرانی ہے تو یقیناً سٹورز پر دستیاب ہو گی "
بہرحال    بڑھیا نے بڑے بیٹے کو  دُبئی اطلاع دی  گئی  ، اُ س  نے وہاں سے آنے والے دوست کے ہاتھ دو پیکٹ بھجوادیئے  ، جس نے ملتان سے ٹی سی ایس کردئیے ، یوں بوڑھے کا تعارف    سٹیویا     یعنی چینی کا نعم البدل پوڈر سے ہوا  ۔
 کوئی ہفتہ پہلے بوڑھا نرسری گیا   تاکہ  بوگن ویلیا لے اور اُسے گھر کی بیرونی دیوار پرچڑھانے کا بندوبست کرے ۔تاکہ گرمیوں میں اے سی کے ہوش رُبا بِل سے بچاجاسکے ، 
وہاں ایک اور گھریلوباغبان کا سوال بھی سنا ،
 " آپ کے پاس سٹیویا ہے ؟ "  
افطاری کے بعد بڑھیا نے  ، عمران (ملازم) سے کہا ، " سٹیویا لے آؤ "۔
بوڑھے کے ذہن میں جھماکا ہوا ۔ " یہ ساشے مجھے دکھانا "
بوڑھے نے ساشے  کو الٹ پلٹ کر دیکھا  ، کچھ زیادہ معلومات نہ تھیں ۔ بوڑھے کے روزہ افطاری میں کافی وقت تھا  ۔ لہذا گوگل چاچا سے مدد لینے کا سوچا ، گوگل چاچا نے حیرت کے پہاڑ توڑ دیئے اور جو معلومات کا خزانہ دیا ، آپ بھی پڑھئیے :

  جب  گوگل چاچانے اِس کی تصویر دکھائی تو ہم پر اب حیرت کا ہمالیہ ٹوٹ پڑا ، 

"ارے یہ تو وہی پودا ہے جو  ایبٹ آباد میں نڑیاں کے قبرستان  کے پاس اُگتا تھا "۔
جسے  بچے  میٹھی   پتّیاں   کہتے تھے ۔  جن کی پتّیوں کی شکل  پودینے سے ملتی تھی ۔ اور  کھٹی پتّیاں   بھی ہوتی تھیں ، جنہیں ہم  چبایا کرتے تھے ۔
 سندھ آتے تو املی  کے پتے  ، نمک مرچ  کے ساتھ چباتے، یہ نہ سمجھیں کہ ہمارے دور کے بچّے (بشمول بوڑھا) ،  بکری کے قبیل سے تعلق رکھتے تھے ، لیکن عادتیں کم و بیش ویسی ہی تھیں، جیسے  موجودہ زمانے کے تمام بچوں کی ۔ 

" میٹھے پتّے  یا کینڈی لیف   یا سٹیویا   "  کی خوبیوں سے فائدہ اُٹھایا۔
 جنوبی امریکہ کے مشہور پروفیشنل  برازیلئن فٹ بالر    پیلے  کے، بزنس مائینڈ   شہریوں  نے   پیرا گوئے میں ، اِن پتّوں کے عرق کو کشید کرکے  ، پاؤڈر بنایا جو ، شوگر کے مریضوں کے لئے چینی کا بدل قرار پایا   ۔یوں برازیلیئوں نے  سالانہ 76 لاکھ ڈالرکی ایکسپورٹ  2007 تا 2014 تک کی ۔
 اِس وقت یورپی یونیئن  (47 فیصد ) ،  چین (37 فیصد ) ،   جنوبی امریکہ  (11 فیصد ) ،امریکہ  (1 فیصد )  اور باقی دنیا  (1 فیصد ) ۔  باقی دنیا میں پاکستان شامل نہیں ،یہاں ابھی  سٹیویا   کی کاشت تحقیقی   مراحل میں ہے ۔
سٹیویا   کے پھول بھی نکلتے ہیں اور بیج بھی بنتے ہیں  ، لیکن قدرتی طور پر بیج سے  کم پودے نکلتے ہیں  ۔ لہذا قلموں سے پودے اُگائے جاتے ہیں ۔
  اِس کے پتّوں میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں لیکن سکھائے ہوئے پتّے  ، عرق یا پوڈر  چینی سے 200 گنا زیادہ مٹھاس رکھتے ہیں اور اِس کے باوجود خون میں شوگر  کی مقدار میں  اضافہ نہیں کرتے ۔ لہذا شوگر کے مریضوں کے لئے یہ مفید ہے ۔پھر بھی ایک نارمل انسان کے جسم کی روزانہ شوگر کی ضرورت اوسطاً  ۔عورتوں کے لئے  4 سے 6 چائے کے چمچ  اور مردوں کے لئے  9 چائے کے چمچ ۔ لیکن  جسمانی محنت کرنے والوں کے لئے یہ مقدار بڑھ سکتی ہے ۔ لیکن  ذیابیطس کے مریضوں کے لئے ،

لہذا بڑھیا ، رغبت سے سٹیویا   کا ساشے چینی کے نعم البدل کے طور پر استعمال کرتی ہے ۔ یہ اور بات کہ پرہیز کے باوجود  شوگر پھر بھی نقطہءِ پریشانی سے اوپر ہی رہتی ہے۔
 لہذا ایلو پیتھیک ، ھومیوپیتھک دوائیوں کے بعد اب ھربل یعنی حکمت  ، یونانی نہیں بلکہ اسلامی حکمت جسے مسلمان کر کے طبِ نبو ی کے قالب میں ڈھال دیا گیا ہے۔ 
گویا ، یونانی حکمت غیر مسلموں کے لئے اور  طبِ نبو ی مسلمانوں کے لئے ۔ 

تو جناب اب رہا ،
  لوگوں  نے گوگل چاچا کو  بتایا کہ نوجوانوں کے سٹیویا   کے  استعمال کی وجہ سے   مندرجہ ذیل سائیڈ ایفیکٹ پیدا ہونے شروع ہوگئے ہیں
٭-  اُن کو گیس کی پرابلم ہوگئی ۔(کوئی بات نہیں نکال دیں )
٭- اُن بلڈ شوگر خطرناک حد تک نیچے گر گئی کہ جان کے لالے پڑ گئے ۔اب ایک بالغ کو 22 گرام شوگر(تمام ا شیاء)   روزانہ تو لینا چاھئیے نا  ۔(آہ یہی وجہ ہے کہ بڑھیا  میری بالوشاہی یا جلیبوں سے کچھ نہ کچھ اُچک لیتی ہے ) 
٭-اُنہیں  گردوں کا مسئلہ شروع ہوگیا ۔ (اب معلوم نہیں کہ  سٹیویا    سے ہوا یا کوئی اور وجہ بھی ہے ، ویسے شوگر کے مریضوں کو گردوں کا مسئلہ ضرور ہوتا ہے )
٭- اینڈوکرائین  سسٹم (ہارمون پیدا کرنے والے غدود) میں خرابی پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے ۔
٭-سٹیویا      استعمال کرنے کی وجہ سے اُن کے ہاتھوں اور پاؤں میں سُن رہنے کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے ۔
٭- مسلز میں درد رہنا شروع ہو گیا ہے ۔

 کہتے ہیں قبر کا حال تو مردہ ہی جان سکتا ہے، لہذا   بڑھیا  میں بھی 6 کے 6  بالاسائیڈ ایفیکٹ   پائے جاتے ہیں اور وہ اِن کو ختم کرنے کے لئے اب ہربل دوائیں لے رہی ہے، سوچ رہا ہوں کہ  اگر وہ   سٹیویا       بند کردے ، تو پھر ذائقہ کام و دھن کے لئے کون سی مٹھاس استعمال کرے ، کینڈرل ، سکرا ل ، سپلینڈا ، سچارین  یا  اسپارٹیم ؟ 

کیا       سٹیویا        کسی دوسری دوا کے استعمال کے ساتھ جسم پر کوئی منفی اثر ڈالتی ہے ؟
٭- سٹیویا           لیتھیئم  سیرم کا لیول بڑھا دیتی ہے  جس سے آپ کو ،    ڈائریا  ، قہہ ، معدے میں درد  ، تھکاوٹ ، جھٹکے ، کپکپاہٹ ،  مسلز کی کمزوری ، غنودگی  وغیرہ جیسے   مسائل ہوسکتے ہیں۔
٭- اگر     لیتھیئم  سیرم کا لیول کم ہوجائے تو :
٭- سٹیویا        کے استعمال سے   جسم میں بلڈ شوگر کم ہوجاتی ہے ، لہذا شوگر کنٹرول کرنے والی دیگر دوائیں اگر استعمال ہو رہی ہیں تو شوگر کا لیول مزید گر جائے گا ۔ 
٭-  اگر آپ اینٹی ہائپر ٹینشن دوائیں لے رہے ہیں، جیسے    بلڈ پریشر کم کرنے کی دوائیں  ،تو   سٹیویا          بلڈ پریشر  کو مزید کم کردے گی ۔
سٹیویا         آج کل مارکیٹ میں ہربل   شوگر کے نام پر بِک رہی ہے ،اگر آپ سمجھتے ہیں  کہ ایسا نہیں ہے ، تو  آپ ضرور استعمال کریں۔ لیکن  چھ ماہ بعداگر آپ پر بالا سائیڈ ایفیکٹ ظاہر ہورہے ہیں ،تو فوراً  سٹیویا          چھوڑ دیں ۔ بڑھیا نے بھی چھوڑ دی ہے اور اب بغیر چینی کے چائے پی رہی ہے ، لیکن  22 گرام شوگر تو روزانہ لینا ہے نا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

2 تبصرے:

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔