میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 27 مئی، 2019

کٹھل ۔ پھل اور گوشت کا نعم البدل سبزی


میلبری خاندان    ( Mulberry family ) جس  کی1100  مزید اقسام  ہیں ۔   جن میں سے ایک  کٹھل یا  Jack Fruit ہے ۔



کٹھل کا  اصل وطن جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا ہے اور یہ  بنگلہ دیش کا قومی پھل ہے۔  
 یہ مشرقی افریقہ کے ممالک یوگنڈا اور ماریشس اور برازیل میں بھی پیدا ہوتا ہے۔
کٹھل  کسی درخت پر لگنے والا دنیا کا سب سے بڑا پھل ہے۔ عمومی طور پر ایک پھل 36 کلوگرام تک وزنی ہوتا ہے جس کی لمبائی 36 انچ اور قطر 20 انچ تک ہوتا ہے۔ 
پکے ہوئے  کٹھل میں سے میٹھے پیلے رنگ کے کوئے نکلتے ہیں جنھیں دوسرے پھلوں کی طرح کھایا جاتا ہے۔ اسے ڈبوں میں محفوظ کرکے برآمد بھی کیا جاتا ہے۔

  پکنے کے بعد اس کا چھلکا باہر سے سبز یا سبزی مائل زرد ہوجاتا ہے۔ اس کی سطح پر موٹے دانے سے ہوتے ہیں جیسے شریفے یا دُریاں کی سطح پر پائے جاتے ہیں ۔  

کٹھل کے اندر گانٹھوں کی شکل میں گودا پایا جاتا ہے جو مزید پھل پکنے کے ساتھ ساتھ نسبتاً لیس دار ہوتا جاتا ہے اور اسی لیس کی وجہ سے اس کی مٹھاس بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ لیس اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ کٹھل آسانی سے نہیں کاٹا جاتا بلکہ چھری پر تیل لگا کر کاٹا جاتا ہے۔ اس کا سخت کانٹوں دار چھلکا چھیلنا بھی کوئ آسان کام نہیں۔
پکّے پر   کٹھل کے گودے کا رنگ زردی مائل ہوجاتا ہے اور مکمل پک جانے کے بعد اس کے گودے کا رنگ سُرخی مائل ہوجاتا ہے۔
گودے کے درمیان کچھ بیضوی اور ہلکے بھورے رنگ کے بیج بھی پائے جاتے ہیں ۔ایک  کٹھل میں تقریباً 100 سے 500 تک بیج ہوتے ہیں۔ دخت پر پکے ہوئے  کٹھل کی جڑ پیاز کی جڑ کی طرح گدری اور پرت دار ہوتی ہے ۔ جب   کٹھل کو کاٹا جاتا ہے تو کٹتے ہی اس پھل کی اپنی خاص خوشبو آس پاس کے ماحول میں رچ بس جاتی ہے، اکثر پکے ہوئے کٹہل کی خوشبو اننّاس (پائن ایپل) اور پکے ہوئے کیلوں کی خوشبو سے مشابہ ہوتی ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس کی بو کی وجہ سے اس کو پسند نہیں کرتے۔
 کٹھل انتہائ مقوی پھل ہے اور خاص طور پر مردانہ طاقت کے لئے بہت مفید تصور کیا جاتا ہے۔۔ اس کا مربہ بھی ڈالا جاتا ہے۔
 کراچی کے مضافاتی علاقوں میں لوگوں نے اِسے  گھر وں میں لگا یا ہوا ہے ، جیسے ۔ملیر، کورنگی، لانڈھی، وغیرہ میں کافی گھروں میں لگا ہوا دیکھا ہے۔
 کراچی کی ایمپریس مارکیٹ میں  کٹھل مل جاتا ہے۔ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔
 بنگال میں سستا ہونے کے سبب اکثر مزدور طبقہ ”لنچ“ میں اسی سے گذارا کرتا ہے
جنوبی بھارت یعنی دکن کے علاقے کے اردو طبقے میں اِسے پَھنَس کے نام سے جانا جاتا ہے۔


 کچا  کٹھل سبزی کے طور پر پکایا جاتا ہے۔ بھارت ، بنگلہ دیش ، نیپال ، سری لنکا ، انڈونیشیا ، کمبوڈیا اور ویتنام کے کھانوں میں کچا کٹھل   ترکاری کے طور پر  پکایا   جاتا ہے ۔بھارت میں اس کو بہت شوق سے کھایا جاتا ہے اور اسے سبزی خوروں کا مٹن کہا جاتا ہے۔اِس کی  ترکاری پُوری اور پراٹھوں کے ساتھ نہایت مزا دیتی ہے۔
 ترکیب: چھلے ہوئے کٹھل کے ایک ایک انچ کے کیوب کاٹ کر پریشر کوکر میں دس منٹ پکا کر آدھا گلا لیں۔ آدھی یعنی ایک پاؤ پیاز کو کاٹ کر گولڈن براؤن کر کے ایک طرف رکھ دیں۔
 کڑاھی میں دو ٹیبل اسپون تیل گرم کریں اور کٹھل کو گولڈن براؤن ہونے تک فرائی کریں۔اور الگ رکھ دیں۔
 اب کڑاھی میں بقایا تیل گرم کر کے اس میں تیج پتہ،ثابت مرچ، کترا ہوا لہسن ادرک، گرم مصالحہ، ہلدی، ، زیرہ اور کای مرچ ڈال کر ہلکا سا بھون لیجئے۔پھر  اس میں بقایا کُتری ہوئی  پیاز ڈال کر بھونیں۔جب پیاز گولڈن براؤن ہوجائے تو لہسن ادرک کا پیسٹ شامل کر کے مزید بھونیں۔ اب کٹھل، تلی ہوئی پیاز، نمک اور آدھا کپ پانی شامل کر کےپریشر کوکر میں دس منٹ پکائیں۔کٹھل کا دوپیازہ تیار ہے۔ پراٹھے یا پوری اور رائتے کے ساتھ پیش کیجئے۔  
بشکریہ : ثناء اللہ خان احسن

بنگال میں سادہ طریقے سے کٹھل کی ترکاری بنانے کی وڈیو ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔