میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 1 جون، 2019

کیا 100 تولہ چاندی رکھنے والے پر زکاۃ ظلم نہیں ؟

بالا پوسٹ  ایک فیس بُک دوست نے  ، میسینجر پر ڈالی ۔ 

جو کسی مُفتی مصطفیٰ عزیز کی تیارکردہ ہے ۔  یہ وہ گروہ ہے جن کا اسلام رمضان میں ڈھائی فیصد زکاۃ دے کر پاک ہوجاتا ہے ۔  اور پھر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اگر  صاحبِ نصاب ڈھائی فیصد زکاۃ دے تو   کوئی زکاۃ لینے والا نہ ہو ،
اب معلوم نہیں  کہ عمر ثانی کے دوسالہ دور کا یہ   بیانیہ ملک کے بارے میں تھا یا صرف محل کے لوگوں کے متعلق ۔ 
بہرحال میں نے صاحبِ پوسٹ سے سوال کیا :
کیا 7 تولے  سونے پر   زکاۃ دینا ہو گی ؟
 نوجوان : نے میرے بار بار سوال پر جواب پوسٹ کیا ،

7.5 تولے سونا یا اس برابر کی مالیت
یا ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت
 یہ وہ رٹا رٹایا جواب ہے۔ جو عرصے سے بنی اسرائیل کی بھیڑیں دیتی آئی ہیں ، کیوں کہ انسانی لکھی ہوئی کتابوں نے اُن کو سوچنے کا کوئی موقع نہیں دیا ۔ 
  میں نے پوچھا :
گویا 7 تولے پر زکاۃ نہیں دینی ! کیوں ٹھیک ہے نا  ؟
ویسے بھی یہ  7.5 تولے سے کم  ہونے کی وجہ سے ، رکھنے والے کو صاحبِ نصاب نہیں بناتا !
 نوجوان نے لکھا، "سلامت رہیں انکل جی"
 میں نے لکھا:
سونا 70 ہزار روپے تولہ ہے اور 7 تولے کی مالیت 4 لاکھ 90 ہزار روپے بنتی ہے ۔ شکر ہے میں زکاۃ دینے سے بچ گیا۔
 نوجوان نے لکھا، "اللہ پاک سلامت رکھے "
  میں نے لکھا:
اچھا یہ بتاؤ ، میری چھوٹی بہن ہے سخت مذہبی اُس کے پاس تقریباً 100 تولہ چاندی ہے۔ وہ کتنی زکاۃ دے گی ، ویسے آج کل چاندی شائد 870 یا 880 روپے تولہ ہے ؟
  نوجوان نے لکھا، "بہتر ہے آپ کسی عالم دین سے رابطہ کیجیے "
   میں نے لکھا:
نوجوان ، آپ نے اوپر صاحبِ نصاب کا لکھا ہے نا ؟
ا چھا ایسا ہے ۔
میرے حساب سے 100 تولہ چاندی موجودہ  ریٹ  کے مطابق   87    ہزار روپے کی بنتی ہے ۔  اگر 100 تولے سے  ساڑھے باون تولے نکال دیں تو ۔ باقی  ساڑھے 47 تولے چاندی جس کی مالیت   41325 روپے بنتی ہے  ، اُس پر ڈھائی فیصد یعنی 1033  روپے زکات، میری بہن دے گی۔ کیوں ٹھیک ہے  نا ۔
  نوجوان نے لکھا،  جی سر ۔
میسج چھوڑ دیں نماز کا وقت ہو رہا ہے بات ہوتی ہے بعد میں
    میں نے لکھا: 
اب دیکھو نا ، اُس بے چاری نے ایک مولوی کے کہنے پر مہر میں ملا سونا بیچ کر چاندی لی ، جس کی موجودہ  مالیت صرف 87000 روپے ہے اور 
میری بیوی کے پاس، سات تولہ سونا جس کی موجودہ مالیت   4 لاکھ 90 ہزار روپے ہے ،
 وہ صاحبِ نصاب نہیں لہذا وہ  زکات نہیں دے گی ۔ 
اور  بہن  جس کے پاس  100 تولے چاندی ، مالیت  87000  روپے  ہے ۔وہ زکاۃ دے گی ۔
کیا یہ میری بہن کے ساتھ ظلم نہیں ؟
 ذرا سوچو !!!!
   کیاامیروں سے ڈھائی فیصد زکاۃ لے کر ، پاکستان کے  غریبوں  کو  خوشحال بنایا جا سکتا ہے  ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

1 تبصرہ:

  1. آپ کو سمجھنے میں غلطی ہوئی. کسی بھی شخص کے پاس اپنا لین دین کلیئر کرنے کے بعد اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت (آپ کے بیان کردہ ریٹ کے مطابق) 45675 روپے کے برابر یا اس سے زائد نقد رقم ہو یا سونا ہو یا سامانِ تجارت ہو یا یہ سب کچھ ملا کر 45675 روپے بنتے ہوں یا اس سے زائد جتنی بھی رقم ہو، اس پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرے گا بشرطیکہ یہ رقم اس کے پاس ایک اسلامی سال کے عرصہ تک رہی ہو.
    اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی کے پاس سات تولہ سونا ہے یا اس سے بھی کم ہے لیکن اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہے تو اسے سات تولہ سونے پر بھی ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرنی ہو گی

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔