میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 12 جون، 2019

دھماسہ -کینسر تھیلاسیمیا اور ہیپاٹائٹس کا علاج

دھماسہ ویران علاقوں میں پایا جانے والا ایک پودا ہے۔
 اسے اردو میں دھماسہ یا سچی بوٹی، عربی میں " شوکت البیضأ  "
پشتو میں ازغاکے ، پنجابی میں دھماں، ہندی میں دھماسہ، پوٹھوہاری میں دھمیاں ، سندھی میں ڈراماؤ، اور انگریزی نام فیگونیا   (Fagonia laevis )یونانی زبان سے لیا گیا ہے۔


دھماسہ کے پودے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر چار چار کانٹوں کا ایک سیٹ ہوتا ہے جس میں ہر دو کانٹوں کے درمیان پتلا اور لمبوترا پتہ ہوتا ہے۔ یہ کانٹےتین بھی ہو سکتے ہیں، اور چار بھی۔ اس کی شاخیں بہت پتلی ہوتی ہیں، اس لئے یہ براہ راست بڑھ نہیں سکتے ہیں اور ایک چھوٹی سی جھاڑی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

 یہ پودا اٹلی، جرمنی، مشرق وسطیٰ کے ممالک، پاکستان اور بھارت میں بھی پایا جاتا ہے۔ 
 اس کے پھولوں کا رنگ ہلکاجامنی ہے۔ 
پھول جھڑنے کے بعد اس کے کانٹوں کے قریب 00 شکل کے چھوٹے بیج بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔ 

 دھماسہ کی  کئی اقسام ہیں   لیکن اِن کی تمام اقسام کے فوائدیکساں ہیں، لیکن جس قسم میں پھول اور پتے زیادہ ہونگے، وہ زیادہ جلد اثر کرے گی۔ 
 دو  مشہور اقسام ہیں  ۔ Fagonia Cretica  اور Fagonia Arabica  
دھماسہ کے فوائد :
 طبِ یونانی کے مطابق  ،
٭-  یہ سب سے اچھا مصفّا خون ہے اور خون کے لوتھڑوں کو پگھلاکر خون کو پتلا کرتا ہے جس کی وجہ سے برین ہیمبرج، ہارٹ اٹیک، اور فالج وغیرہ سے حفاظت ہوتی ہے۔
٭-   اس کے پھول اور پتیوں سے کینسر اور تھیلاسیمیا کی ہر قسم کا علاج ممکن ہے۔
٭-  جسم کی کی گرمی کو زائل کرنے اور ٹھنڈک کے اثرات کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 
٭۔ اس کے ذریعے ہیپاٹائٹس کی تمام اقسام کا علاج ممکن ہے۔ 
٭- جگر کو طاقت دے کر جگر کے کینسر کا بھی علاج کیا جا سکتا ہے۔ 
٭-  دل اور دماغ کی صلاحیتوں میں بہتری لانے میں معاون ہے۔
٭- جسمانی دردوں کے علاج میں مددگار ہے۔
٭-  مختلف قسم کی الرجی کا علاج ہے۔ 
٭۔ کیل، مہاسے، چھائیاں اور دیگر جلدکے امراض سے نجات دلاتا ہے۔
٭۔ معدہ کو تقویت دے کر بھوک بڑھاتا ہے۔
٭ ۔ اس  کےاستعمال سے قے، پیاس اور جلن، وغیرہ جیسی علامات ختم ہو جاتی ہیں۔
٭۔ کمزور جسم کو طاقت دے کر فربہ بناتاہے، اور موٹے افراد کے لئے وزن کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہے۔
٭۔ منہ اور مسوڑھوں کے امراض علاج ہے۔ 
٭۔ بلڈ پریشر کو معمول پر لاتا ہے۔ 
٭۔ پولن الرجی ،  دمہ اور عمومی سانس لینے میں دشواری کا علاج کرتا ہے۔
٭- تمباکو نوشی کےضمنی اثرات سے بحالی میں مدد ملتی ہے۔ 
٭۔ دھماسہ کا قہوہ چیچک روکنے کے لئے دیا جاتا ہے۔ 
٭ ۔ پیشاب کو بڑھاکر گردوں اور پیشاب کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔
٭ ۔ یہ گردن کے پٹھوں کے کھچاؤ میں بھی دیا جاتا ہے۔ 
٭۔ مردانہ سپرم کی تعدادمیں بہتری اور عورت کے تولیدی نظام کو معمول پر لانے میں معاون ہے۔
٭ ۔ لیکوریا سمیت عورتوں کےعوارض کو کنٹرول کرتا ہے۔ 
٭ ۔ اٹھرا کا شافی علاج کرتا ہے، جب کہ ایلوپیتھی میں یہ لاعلاج مرض ہے۔  یہ خواتین کی ایسی بیماری ہے کہ جس میں جسم پر نیلے یا سیاہ دھبےطاہر ہوتے ہیں۔جس کی وجہ سے  اسقاط حمل ہو جاتا ہے، مردہ بچے پیدا ہوتے ہیں یا پیدا ہونے کہ بعد نیلے کالے ہو کر مر جاتے ہیں۔ کچھ خواتین میں صرف لڑکیاں تو بچ جاتی ہیں لیکن لڑکے زندہ نہیں رہتے۔ اس کے علاوہ کچھ خواتین میں اٹھرا کی وجہ سے معدہ اور جگر کی خرابی کی وجہ سے وہ کمزور ہو جاتی ہیں۔ ایسی خواتین حمل کی تکالیف برداشت نہیں کر سکتیں جس کی وجہ سے اسقاط حمل ہو جاتا ہے۔ 
٭۔ ایک اچھا اینٹی آکسیڈینٹ ہونے کی وجہ سے ذہنی دباؤکو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

 استعمال کرنے کا طریقہ :
دھماسہ کے پھول، پتے اوربیج اکٹھے کرلیں۔ اسے نیم گرم پانی سے دھونے کے بعد ہوادار سایہ میں خشک کر لیں۔ مکمل طور پر خشک  ہونے کے بعد اسے پیس کر پاؤڈر بنا لیں۔
صبح دوپہر شام اس پاؤڈر کے ایک چائے کے  چمچ کے برابر وزن  کو ،بچے کی خوراک میں شامل کرکے کھلائیں۔
 بڑوں کے لئے اسی پاؤڈر کا ایک چھوٹا یا بڑا چمچ (عمر اور جسم کے وزن کے مطابق) بڑے کیپسولز میں بھر کے یا کسی خوراک میں ملا کر صبح دوپہر شام پانی کے ہمرا کھلائیں۔ 
٭۔ دھماسہ کے تازہ پتے، پھول اور بیج سب کو پانی میں گھوٹا لگا کر ایک کپ یا گلاس دن میں تین بار کھانے کے فوری بعد نوش فرمائیں۔
 پندرہ سے تیس دن تک بیماری سے شفا ہوگی۔ 
  مکمل صحت کے لئے ، بیماری کی نوعیت  وقت کو طویل کردیتی ہے ،  اِسے زیادہ مدت کے لئے سال بھر بھی مسلسل استعمال کیا جاسکتا ہے۔
٭۔ اگر پتے پھول اور بیج کم ملیں تو دھماسہ کی مکمل سبز شاخیں، کانٹوں سمیت بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ 
٭ ۔ دھماسہ کو پیس کر تھوڑا سا شہد شامل کرکے آٹے کی طرح تیار کریں اور اس کی چنے کے بڑے دانے کے سائز کی گولیاں بنا لیں۔ یہی تین یا چار گولیاں دن میں تین بار کھانے کے فوراً بعد پانی سے نوش فرمائیں۔ 
٭ ۔ اٹھرا کےمرض میں مبتلا خواتین صحت مند بچے کو حاصل کرنے کے لئے حمل کے تمام نو ماہ اسے استعمال کریں۔ زچہ و بچہ دونوں صحت مند رہیں گے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔