میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 2 جون، 2019

کراچی ایٹمی بجلی گھر کا راز

تمھیں معلوم ہے کہ پاکستا ن کا نیوکلیئر  پروگرام جس کی  آج سالگرہ منائی جارہی ہے ۔ 30 سال پہلے تباہ کردیا جاتا  اگر ایک عورت  کے حسد اور تجسس کا جذبہ بیدار نہ ہوتا ! " بوڑھے  ویٹرن نے    ٹی وی سے نظر ہٹائے بغیر   دھیمی آواز میں   سرگوشی کی ۔
 " سر وہ کیسے ؟ " میں نے اشتیاق سے پوچھا ،" کیا  یہ بھی کوئی آپ کی زندگی کا خفیہ راز ہے ؟"
" بہت راز ہیں نوجوان ، اتنے کہ میں سنانے لگوں  تو  ۔ ۔ ۔ ۔!  "  بوڑھے ویٹرن نے گہری سانس لی ، دور خلاؤں میں نظر گاڑھ دی ۔" پاکستانی  سانس روکے اپنی  دانتوں تلے زبان دبا ئے حیرت کا اظہار کریں۔  تمہیں تو معلوم ہے کہ ہم اپنے کاموں کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے  ۔"
 " سر اگر یہ  راز ، ملکی سلامتی کے خلاف نہیں تو میں سننا پسند کروں گا " میں ادب سے بولا 
" راز تو نہیں ، بس جو ہمارا کام تھا ہم نے کیا ، اور بھول گئے۔ آج  یومِ تکبیر  کی گونج  میں  شعور نے ،  تحت الشعور میں غوطہ لگایا ، اور مجھے آج سے ٹھیک 30 سال پہلے  1978 میں  کھینچ کر لے گیا    ۔ جب میں  کراچی میں تھا اور  بطور لیفٹنٹ کرنل آئی ایس آئی سندھ کا چیف تھا ۔ بوڑھے ویٹرن نے اپنی یاداشت  کی گرہیں کھولتے ہوئے بتایا ۔ 

مجھے مشہور سائیکالوجسٹ اے کے بروہی  بہن   کی کال آئی ، اُنہوں نے بتایا کہ آج کل اُن کے زیر علاج ایک خاتون ہے۔ جس کو     ایک ایسی بیماری ہے ، کہ جو معلومات اُس کے پاس ہیں اگر کسی کو نہ بتائی  وہ بیماری بڑھ بھی سکتی ہے ۔ اور اُس کا واحد علاج کہ وہ کسی نہایت  اعتبار والے شخص کو وہ راز بتائے جو اُس کے ذہن میں موجود ہے اور اُسے مسلسل بیمار کرتا جارہا ہے ۔
  " کیا ایسا ممکن ہے، سر ! کہ کوئی  راز انسان کو ذہنی   بیمار کردے  " میں نے اشتیاق سے پوچھا۔  
" سائیکالوجی  ، حساس انسانوں کو  لگنے والی بیماری کی تشخیص ہے ۔ اور عورتوں میں یہ زیادہ ہوتی ہے ، وجہ یہ کہ وہ مردوں سے زیادہ حسا س اور  ارادوں میں کمزور ہوتی ہیں۔ یہی وجہ اُس خاتون کے ساتھ بھی تھی ۔  
خیر ، میں جب ڈاکٹر صاحبہ کے کلینک پہنچا تو ا یک  نوجوان اور نہایت خوبصور ت میمن  خاتون  ، سامنے کی کرسی پر بیٹھی  تھی۔ چہرے پر مجھے دیکھتے ہی پریشانی کی لکیریں مزید گہری ہوگئیں  ۔  ڈاکٹرصاحبہ مجھے بتا چکی تھیں کہ وہ اُن کی تمام کوششوں کے باوجود  اُنہیں کسی ایسے   راز کی ہوا تک نہیں لگنے دی، جو اُسے مہینوں سے پریشان کر رہا تھا  ۔ 
ڈاکٹر میڈم بروہی کے تعارف کروانے کے بعد معلوم ہو ا، 
مقامی یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹر کرنے اور مقامی کالج میں پڑھانے والی یہ  میمن خاتون  کسی بھی طور پر  وہ کچھ بتانے کے لئے تیار نہیں تھی، جِس کے لئے  اُس کا دعویٰ تھا کہ یہ انتہائی خفیہ راز ہے  اور اتنا خطرناک خفیہ راز ہے۔ اگر اُس نے کسی کے سامنے اُگل دیا تو وہ قتل بھی کی جاسکتی ہے ۔ 
جب   ڈاکٹر  صاحبہ نے اُسے بتایا کہ  میں انٹیلیجنس کا سربراہ ہوں ، لہذا اُسے اعتماد کرنا چاھئیے ، تو اُس نے کہا ،
" یہ لوگ سب سے زیادہ ناقابلِ اعتبار ہوتے ہیں ۔ لوگوں کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں کہ اُن کا کیا حشر ہوا !"
 میں نے خاتون کو تسلی دی ، 
"  چلو   ایسا کرتے ہیں کہ میں آپ کی میٹنگ ڈی جی آئی ایس آئی  جنرل محمدریاض ( شاہد خاقان عباسی کے چچا )  سے کروا دیتا ہوں ،"
 اُس نے انکار کردیا ۔
میں نے ہار نہ مانی اور بولا، 

" جنرل ضیاء الحق  کے  چیف اف سٹاف ، جنرل کے ایم عارف ہیں ۔ اُن سے آپ کی ملاقات کروادی جائے  ، آپ اُنہیں بتا دیں " میں نے کہا ۔ وہ پھر بھی نہ مانی ۔
" خاتون  میرا خیال ہے کہ صدر پاکستان  جنرل ضیاء الحق   سے زیادہ قابلِ اعتماد مجھے کوئی نظر نہیں آتا ، میں اُن سے آپ کی ملاقات  کا بندوبست کروا دیتا ہوں ، آپ یہ خطرناک راز اُنہیں بتا دیں "۔ قتل ہو جانے کے خوف سے  اُس نے یہ بات بھی ماننے سے انکار کردیا ۔ 
میرے لئے نہایت آسان تھا کہ میں اُسے سیف ہاؤس لے جاتا ، جہاں تین چار دن کی تنہائی کے بعد وہ ساری معلومات مہیا کر دیتی ۔
  لیکن میں نے مناسب نہ سمجھا   ، کہ ایک قابلِ عزت  لیکچرر کو پریشان کروں اور راز کی نوعیت بھی ابھی تک معلوم نہ ہوئی  تھی ، نہ ہی کوئی ہنٹ ملا تھا ، 
پھر یہ بھی سوچ آئی کہ ایک لیکچرر کے پاس ایسا کو نسا خفیہ راز ہوسکتا ہے ، جس کا افشاء اُس کی زندگی کے لئے نہایت خطرناک  ہوسکتا تھا  ؟ ۔ 
میں نے اِس معاملے کو کچھ دنوں کے لئے ملتوی کرنے کا ارادہ کیا ، کہ شائد ڈاکٹر میڈم   بروہی  کی کونسلنگ سے وہ یہ راز بتانے پر آمادہ ہوجائے ۔

دو تین دن بعد میں ڈاکٹر صاحبہ سے پوچھ لیتا کہ کیا مریضہ کچھ بتانے کے لئے تیار ہوئی یا نہیں ۔
  کوئی ہفتے یا دس دن بعد ، میں کلفٹن جانے کے لئے   ایک سوپر پاور  کی کونسلیٹ کے سامنے والی سڑک سے گذر رہا تھا  کہ ایک پرائیویٹ نمبر کی سرخ رنگ کی مزدا کا ر تیز رفتاری سے کونسلیٹ کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی ۔ مجھے اُس کی رفتار پر حیرت ہوئی  ۔ عموماً کاریں کسی بھی گیٹ میں آہستگی کے ساتھ داخل ہوتی ہیں۔ لیکن خیر میں نے  زیادہ توجہ نہیں دی ۔
جب میں کلفٹن میں جس شخص سے ملنے گیا تھا ، اُس کے ساتھ بیٹھے ہوئے مجھے یک دم خیال آیا کہ سرخ مزدا کار کو چیک کرنا چاھئیے۔جو صرف چند سیکنڈ میں کونسلیٹ میں داخل ہوگئی تھی ۔ جیسے کسی نے پہلے سے ہدایت دی تھی کہ اُس ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہ روکا جائے ۔ ایسا کون سا شخص  ہو سکتا ہے ، اگر کوئی ایمبیسڈر ہوتا تو کار کی نمبر پلیٹ عام نہ ہوتی ۔
میں  نے فوراً ہدایات دیں کہ سوپر پاور کی کونسلیٹ سے نکلنے والی تمام سرخ رنگ کی مزدا کاروں  کو چیک کیا جائے  ۔ کہ کب نکلتی ہیں ؟ 
مزدا کار رات کو بہت دیر بعد نکلی ۔
اب چونکہ میں نے پیچھا کرنے کا نہیں کہا تھا ، لہذا چیک کرنے والے نے صرف وقت نوٹ کر کے رپورٹنگ ڈیسک پر بتا دیا ۔
 دوسرے دن  میں آفس گیا ،وہاں میں نے کراچی میٹروپولیٹن شہر کانقشہ لیا، اُسے 8 سیکٹرز میں تقسیم کیا ۔
میں نے اپنی ٹیم کو ہدایت جاری کیں کہ وہ گھوم پھر کر سرخ رنگ کی مزدا کار کی رجسٹریشن نمبر نوٹ کریں  اور بتائیں ۔
 اُن دنوں سرخ مزدا کاریں بہت کم ہوا کرتی تھیں ، ایک مہینے کی  ایکسرسائز کے بعد بھی ہمیں کوئی کامیابی  نہیں ہوئی ۔ لیکن ہم نے کار کی تلاش جاری رکھی ۔
ایک دن ہمیں معلوم ہوا کہ طارق روڈ کی ایک دکان پر سرخ مزدا کا کھڑی ہے ۔جو عموماً رینٹ پر دی جاتی ہے ۔ جس کو   رفیق منشی نام کا شخص کرائے پر لے جاتا ہے ۔ 
جب  ہمارے نمائیندے نے ، رفیق منشی کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ وہ  کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ میں  انجنیئر ہے  اور گارڈن ایسٹ  میں قائم ایم پی اے ہاسٹل کے ایک سوٹ میں قیام پذیر ہے ۔
یہ معلومات ملتے ہی  میں نے ڈاکٹر میڈم   بروہی  کو فون کیا اور پوچھا کہ کیا وہ میری اپنی  " خفیہ راز " رکھنے والی مریضہ سے  آج ملاقات کروا سکتی ہیں ؟

میں جب میمن خاتون سے  ڈاکٹر صاحبہ کے کلینک پہنچا ، تو   کچھ زیادہ بہتر دکھائی نہیں دی ، میں نےاِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد یکدم اُس  کی آنکھوں میں دیکھ کر  پوچھا ،
" کیا وہ خانوپ میں کام کرنے والے انجنیئر منشی کو جانتی ہے ؟
یک دم اُس کی آنکھوں میں خوف کے سائے لہرائے  وہ پلکیں چھپکائے بغیر میری طرف دیکھتی رہی ۔ پھر یکدم پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔