میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 14 جون، 2019

پیر کی دُعا ۔

پیر   کی شادی تھی:
جب لاگ لینے نائی آیا تو پیر بولا:" او بتا شکور، پیسے لینے یا دعا ؟؟"
نائی بولا: " مرشد میں تو دعا ہی لوں گا. پیسے آپ سے لے کہ کیا کرنے؟؟"


کمہار آیا، پیر بولا،" اؤے بتا اشرف تو نے بھی دعا لینی ہے یا پیسے؟؟"
کمہار:"  باوا جی میں نے بھی دعا ہی لینی ہے "

مراثی کی باری آئی تو پیر بولا:   
" او ئے ڈوم بتا اوئے پیسے چاہیئے   یا دعا ؟؟"
مراثی : " باوا جی 50 روپے  دعا دے دیں  اور   500 نقد دے دیں  " 
ہوں ں ں ں ں ں  ں  " ۔  پير نے لمبی سے ہوں بھری !

اور دعا دى اور تھوڑى دير بعد بولا،
 " مجھے سے غلطی ہوگئی, ميں 500 کی  دعا دے دی ,تو ایسا کر اپنے 50 روپے کاٹ کر باقی 450 روپے مجھے واپس کر دے ۔""
بجٹ 2019
سرکاری ملازمین کیلیے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔