میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 22 جون، 2019

الَّذِينَ آمَنُواْ اور الَّذِينَ شِيَعًا

 بچپن کے کوئٹہ کے ایک دوست کی گروپ پر پوسٹ ۔
میرا جواب:
روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کا حکم اور نعمت بتائی :

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ
فَاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ
وَإِن كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ
فَلَمْ تَجِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا 

فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ
مَا يُرِيدُ اللّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
[5:6]



 ٭ - قریشی صاحب :  کن لوگوں کے   بَيْضَا وُجُوه  ہوں گے !!
روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کی طرف سے ایک لازوال خوشخبری سنائی : 

وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ [3:107]
 
٭-  اور    بَيْضَا وُجُوه  کی وجہ بھی بتا دی ، جو یقیناً وضو نہیں بلکہ  اللہ کیالْآيَاتٌ الْبَيِّنَات ہیں :
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ [3:105] 

 يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ [3:106] 

٭- اور فرقے بنانے والے شِيَعًا ہیں :

 ٭-فرقے بنا کر  شِيَعًا  بن کر  اپنی اپنی لکھائیوں پر  فرحت اٹھانے والے        حِزْبٍ مت بنو :
 مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ
[30:32]
 
٭-  اور شِيَعًا ہونا  اللہ کا انعام نہیں بلکہ عذاب ہے :
 قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ  [6:65]
 
 نوٹ : اللہ کے لفظ شِيَعاً کا کسی اور زبان میں ترجمہ کرکے الَّذِينَ آمَنُواْ کو دھوکا نہ دیا جائے ! کیوں کہ الَّذِينَ شِيَعًا کو اللہ نے شِيَعاً کا لباس پہنایا ہوا ہے ۔ 
تھوڑا سا اللہ کی الْآيَاتِ پر فْقَه کر لیں ۔
 فَرَّقُوا ، شِيَعاً، حِزْبٍ ۔  
الْأَحْزَابُٓ -  الَّذِينَ آمَنُواْ کے مقابل   الَّذِينَ شِيَعًا ۔
  جب   الَّذِينَ آمَنُواْ اللہ کی آیات پر  تفرقہ کرتے ہیں تو وہ    الَّذِينَ شِيَعًا ۔میں اللہ کی آیت کے مطابق ٹرانسفر ہو جاتے ہیں ۔ اور آگے  ہی آگے بڑھتے جاتے ہیں  اور اپنے عالموں کی اھواء سے تخلیق کی ہوئی  " شئے " پر جم جاتے ہیں۔  دین الخالص   ، ناخالص دین بن جاتا ہے اور دعویٰ یہ ہوتا ہے   ۔
أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ [39:3]

 ٭٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭
٭ -  سورۃ بنا کر لاؤ۔ اللہ کا چیلنج
 ٭  - اسلام میں قانون سازی کا تصوّر


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔