میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 4 جون، 2019

جاسوسوں کی زندگی

سویلیئن بلکہ عام فوجی کیا جانیں  جاسوس کی زندگی کیا ہوتی ہے ؟ 
وہ جو دشمن کے ممالک میں اہم اطلاع دینے کی غرض سے اپنی عمریں گذار دیتے ہیں ۔  لیکن کسی کو ہوا نہیں لگتی کی وہ  اُن کے دشمن اور جاسوس ہیں  ۔

جو بنیادی سبق  اُنہیں بتایا جاتا ہے کہ جب آپ کو دشمن کے ملک میں لانچ کردیا  تو ہم آپ کی سلامتی کے ذمہ دار نہیں آپ خود ہیں ، آپ کو تمام تر احتیاط کے ساتھ خود کو محفوظ رکھنا ہے بلکہ آپ کو کسی قسم کی بھی معلومات اپنے ، اپنے خاندان، اپنی ملازمت یا اپنے ادارے کے خلاف نہیں دینی ۔
ایک سخت زندگی سے گذرنے کے بعد اُنہیں دشمن ملک میں بھجوادیا جاتا ہے ۔ 

کیوں کہ اُنہیں معلوم ہوتا ہے اگر وہ پکڑے گئی تو وہ  ٹارچر سیل میں گمنامی کی موت مارے جائیں گے ۔
جاسوسی ناول  لکھنے والے یا جاسوسی کہانیاں پڑھنے والے !
کیا جانیں کہ ٹارچر سیلز کی سختی ہوتی کیا ہے؟
جاسوسی تنظیم پر انگلیاں اُٹھانے والے، کیا جانیں کہ پلاس سے ناخن کھینچنے سے کیا ہوتا ہے ؟
اِنہیں چیونٹی کاٹ جائے تو اِنہیں بخار ہوجاتا ہے  ، اِنہیں کیا معلوم  کہ بہتے زخم پر چیونٹیاں چھوڑ دی جائیں تو  جاسوس پر کیا گذرتی ہے ؟
یہ چلتی ڈرل دیکھ کر  بے ہوش ہوجانے والے اس کا کیا مقابلہ کریں گے؟ 
 جس کی دائیں ٹانگ کی ہڈی کو پہلے باریک برمے سے آر پار سوراخ کیا گیا۔ پھر ،
  برمے کے سائز بڑھتے گئے اس حد تک کہ ٹانگ خود ہی الگ ہوگئی پر،
  اس کے ہینڈلر تک  کا نام اس کی زبان پہ نہ آیا ،

 اسکے مشن کے بارے میں وہ ایک لفظ نہ جان سکے.
اگر کسی کو دلچسپی ہےتو   جائے اور جا کر دیکھے ۔
 دہلی کی تہاڑ جیل کے وارڈ سی ، ڈی ، ای ، ایف سے لیکر کابل کی پل چرخی اور غزنی جیل تک۔ 

سپاہی مقبول حسین جاسوس نہیں تھا بلکہ ایک عام سپاہی اور سچا محب الوطن پاکستانی اور جنگی قیدی تھا ۔
 پاکستان کے بیٹوں کی بیسیوں داستانیں ایسی ہیں جو اگر منظر عام پر آجائیں تو میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس قوم کے محب الوطن بیٹوں کے  آنسو نہ رُکیں ۔
 ان جیلوں کی بیرکوں کی دیواریں اس بات کی گواہ ہیں کہ وطن کے یہ بیٹے جیت گئے اور دشمن ہار گیا ، استقامت کے یہ پہاڑ معمولی نہ تھے ، استقامت میں یہ   پہاڑ تھے ، جنہیں نہ جھکایا جا سکا اور نہ ہلایا جاسکا ۔  
بلا کی قوتِ برداشت کے یہ بیٹے  پاکستان کا سرمایہ ہیں ۔ 
آنکھوں پر عینک لگائے ، میز کی دراز میں ڈالر رکھے  ، جب یہ انگلیوں میں پنسل پکڑے  لکھتے ہیں ۔ کہ پاکستان کی جاسوسی تنظیم نے پاکستان کو تباہ کردیا ہے ۔

اگر اِن کی دو انگلیوں میں پنسل رکھ کر ذرا سا دبایا جائے تو یہ اپنے ڈالر دینے والے ہینڈلر   کو دوسرے دباؤ پر  ماں بہن کی گالیاں دینے لگ جائیں ۔
یہ جذبوں سے محروم  ہیں اِنہیں صرف اپنی عیاشی کا ہوش ہے ۔ 
اِن کی بہادری یہ عالم ہے ، یہ 28 مئی یوم تکبیر کے دن یہ ڈر کر ملک سے باہر جا بیٹھے ۔ 

یہ رات کے اندھیرے میں اپنے ہی کمروں میں ڈر جانے والے کیا جانیں کہ خوف ہوتا کیا ہے ؟
وہ خوف کہ جس میں  جنگلی جانور یا بھوت پریت نہیں ہوتے۔ 
یا سینما ھال میں مغربی فلموں سے پیدا کردہ مصنوعی خوف نہیں ہوتا ۔
گولیاں ، گرنیڈ ، آر پی جیز و مائنز  سے جسم کے ٹکڑے ہوجاے کا خوف بھی نہیں ہوتا ۔
بس یہ خوف ہر وقت ذہن پر سوار رہتا ہے کہ ملک کی طرف سے دی گئی ذمہ داری  کی تکمیل میں   کہیں زبان نہ پھسل پڑے !
ایک لفظ نہ  نکل جائے،  جو اسے مجاھد سے غدار بنا ڈالے !
 دنیا بھر کی ایجنسیوں کے ایجنٹ اپنے ساتھ زہر رکھتے ہیں ، اور خودکشی کرنا اُن کے لئے نہایت آسان ہوجاتا ہے ۔ایک آرام موت مگر مسلمانوں کے لئے حرام موت !

لہذایہ اللہ کے شیر شدید اذیت کو آسان موت پر ترجیح دیتے ہیں ،
یہ وہ  افراد ہیں ، جو ہماری نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے محافظ ہیں۔
کبھی یہ موچی، خاک روب  یا چپڑاسی  کے روپ میں ،
تو کبھی یہ مزدور،  دکاندار یا  بزنس مین کے روپ میں،
 کبھی یہ شاگرد، استاد  یا جوگی  کے روپ میں،
 تو کبھی یہ کسی ادارے میں اعلیٰ عہدے پر بیٹھا ہماری حفاظت پر مامور ہو گا۔

ان کی  وجہ سے ہم  بڑے آرام سے اپنے سکون کمرے میں بیٹھے ہیں ، اپنے بیوی  بچوں کے  ساتھ   شاپنگ کرتے ہیں  ،  غیر ملکی دورے کرتے ہیں ۔
جب   کوئی اُن کے خلاف بولتا ہے ۔

تم اپنا قد بلند کرنے کے لئے یا انتخاب جیتنے کے لئے ، اُن کے  ہی خلاف بولتے ہو تو ،
 واللہ دل کرتا ہے کہ تمہیں چوکوں میں لٹکا دیا جائے ۔
وہ جو تمھارے سکون یا تمھارا وجود برقرار رکھنے کے لئے ، اپنی باقیات کو کہیں دور  اپنوں سے دور کسی گمنام گڑھے یا بے نام  قبر  میں سمو دیتے ہیں ۔
یہ وہ ہیں کہ جو ہیں تو تم ہو
یہ نا ہوں تو تمہارا نشان نہ ہو ،
یاد رکھیں  وہی فوجیں جیتی ہیں  جن کا جاسوسی کا نظام اُنہیں دشمنوں کا چالوں سے باخبر  رکھتا ہے ۔

وہی ملک اپنی معاشی اور سماجی پالیسیوں میں کامیاب ہوتا ہے۔ جس کے جاسوس اپنوں کی آڑ میں دشمنوں کے جاسوسوں کو اپنی جان پر کھیل کر  ڈھونڈھتے ہیں۔ 
پڑھیں ۔ کراچی ایٹمی بجلی گھر کا راز  ۔

  آئی ایس آئی زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔