میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 2 جون، 2019

ایٹمی پروگرام ۔ ایک محسنہ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ڈاکٹر صاحبہ نے اُٹھ کر اُس کی پیٹھ پر تھپکی دی  اور پانی پلایا ۔ جب اُس کے دل کا غبار نکا تو میں نے پوچھا ،

" کیا آپ وہ خطرناک خفیہ راز مجھے بتانا پسند کریں گی  ؟"
اُس نے آہستگی سے سر ہلایا ، میں نے ڈاکٹر صاحبہ کی طرف دیکھا ، وہ سر ہلا کر باہر نکل گئیں ۔ 
"  منشی کراچی یونیورسٹی میں ،  انگلش ڈیپارٹمنٹ  میں میرا کلاس فیلو تھا ۔ 
ہم دونوں لٹریچر میں ماسٹر کر رہے تھے ۔ لہذا   ہمارا زیادہ تر وقت ایک ساتھ گذرنے لگا ۔ جو آہستہ آہستہ محبت میں تبدیل ہوگیا ۔ میں نے اپنی ممی کو منشی سے اپنے لو افیئر کے بارے میں بتا دیا  ، اُنہوں نے منشی سے ملاقات  کی وہ بھی راضی تھیں  ۔  وقت گذرنے لگا  اور ہم دونوں میں محبت بھی  بڑھنے لگی ۔
 یہاں تک کے اُس کے   شادی کے وعدے (ایجاب و قبول ) پر میں نے اپنا سب کچھ اُس کے حوالے کردیا  ۔
 ہمارا پروگرام تھا کہ رزلٹ آنے کے بعد ہم شادی کر لیں گے ۔ یونیورسٹی کے سال پلک جھپکتے گذر گئے ۔
 امتحان کے بعد  منشی غائب ہو گیا ۔ اُسے میں نے بہت ڈھونڈھا ، اُس کے دوستوں سے پوچھا ، لیکن کسی کو کچھ نہیں معلوم کہ منشی کہاں چلا گیا ۔
تھک ہار کر میں نے مقامی کالج میں جاب  تلاش کرلی ۔ اور اُس کاانتظار کرنے لگی  ۔ بہت رشتے آئے لیکن میں نے انکار کر دیا  کیوں کہ منشی میری زندگی کا پہلا اور آخری مرد تھا ۔میں کسی اور کی دُلہن کیسے بن سکتی تھی ؟
دن اُس کے فون کا انتظار رہتا  ، کہ وہ سرپرائز دے گا۔

میں کالج کے بعد گھر جاتی پھر شام کو  ٹیوشن پڑھاتی او ر اتوار کو اپنی کسی سہیلی کے گھر چلی جاتی ۔یوں سمجھیں میں نے   خود کو بہت مصروف کر لیا ۔
چار سال کیسے گذرے میں نہیں بتا سکتی ۔
 پھر اچانک منشی کا فون آیا ، میں خوشی سے بے حال      ہم دونوں  شام کو ملے ، اُس کے پاس کار تھی  ، وہ مجھے لے کر ایم پے اے ہاسٹل کے ایک خوبصورت سوئیٹ میں لایا ۔
  اِن چار سالوں میں وہ غریب منشی بہت تبدیل ہوچکا تھا ۔
 یونیورسٹی کے زمانے میں اُس کی کینٹین کا بِل بھی میں دیا کرتی تھی ۔اب وہ  بہت امیر و کبیر ہوچکا تھا ۔ڈالروں سے کم بات ہی  نہیں کیا کرتا۔  وہ چار سال   کہاں رہا اُس نے نہیں بتایا،
 لیکن اب  وہ   انگلش لٹریچر کے ساتھ انجنیئرنگ  بھی  کر چکا تھا اور  کراچی ایٹمی  بجلی گھر میں بطور انجنئیر جاب کر رہا تھا۔
  ممی کو معلوم تھا کہ منشی آگیا ہے اور اپنی جاب کی وجہ سے بہت مصروف ہے ، کیوں کہ ہفتے میں ایک بار وہ لاہور یا اسلام آباد ضرور جاتا ۔
چھ  مہینے پہلے  غالبا اتوار کے دن  شام کو میں  اُس کے سوئیٹ  میں  بستر پر لیٹی  تھی  کہ اُسے ایک فون کال آئی ، جسے سُن کر وہ   اچانک اُٹھ کر واش روم گیا ۔ اُس کا بٹوہ میز پر پڑا تھا۔  
میں نے اٹھا کر کھولا  تو اُس میں نے اُس کے بٹوے میں ڈالروں کے ساتھ ایک خوبصورت  مغربی خاتون کی تصویر بھی دیکھی ، میر ا دل ٹوٹ گیا ۔
میرے دل میں جیسے کوئی کانچ کی چیز ٹوٹی ہو میں نے وہ واپس ٹیبل پر رکھ دیا ۔ میرے ذہن میں آندھیاں چلنے لگیں ۔
 یہ کون ہے کیا منشی نے شادی کر لی ہے ؟
 اور مجھ سے کھیل رہا ہے ؟
وہ کپڑے پہن کر باہر نکلا  ۔ میز سے اپنا پرس اور کار کی چابیاں اُٹھائیں  اور یہ کہتا ہوا چلا گیا ، کہ تم بیٹھو میں گھنٹے میں آتا ہوں۔  
میں پریشان بستر پر بیٹھی تھی ۔ سوچا اُٹھو اور گھر چلی جاؤں ۔
بستر سے اُٹھی  ،ڈریسنگ روم میں گئی تاکہ وہاں سے اپنے کپڑے نکالوں اور نہا کر اپنے گھر چلی جاؤں ۔ 
کپڑے نکالتے وقت میری نظر  الماری میں لگے سیف پر پڑی  ،  وہ تھوڑا سا کھلا نظر آیا ، شاید جلدی میں منشی اُسے بند کرنا بھول گیا تھا۔ ، 
میں  نے نسوانی تجسس کی وجہ سے سیف کو تھوڑا اور کھولا کہ دیکھوں اِس میں کیا ہے ۔
 میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔
 سیف ڈالروں  کی گڈیوں سے بھرا ہوا تھا جو ایک ترتیب سے لگی ہوئی تھیں ۔ اور کچھ فائلیں تھیں ۔
میں نے ایک فائل اُٹھائی۔
 اُس میں کسی علاقے کی کھینچی ہوئی فضائی تصویریں  اور نقشے تھے جن پر ہاتھ سے کچھ نشانات  اور نمبر لگے ہوئے  تھے ۔اور ایک سوالنامہ تھا ۔
میں اُنہیں لے کر  واپس بیڈ روم میں لے آئی تاکہ پڑھوں   ،   وہ سوالنامہ  پاکستان کی نیوکلئیر سائٹس   سے متعلق تھا ۔
میرا دل دھک دھک کرنے لگا ۔ میں جلدی سے اُٹھی۔
 وہ تمام کاغذات واپس سیف میں رکھے اور سیف کو بندکردیا ۔  اور بغیر کپڑے تبدیل کئے  اپنے گھر کی طرف بھاگی ۔ 
ٹیکسی میں بیٹھے ہوئے ، میرا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا ۔
  کیا  میرا منشی کسی دوسرے ملک کا جاسوس بن چکا ہے ؟  
میرا دماغ سُن ہوگیا  اور اب تک سُن ہے "۔ 

اُس نے     میر ی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔
میرے لئے اتنا ہی کافی تھا ۔  میں سمجھ گیا کہ یہ حساس خاتون محبت کی ناکامی  نہیں بلکہ منشی کی  خفیہ معلومات تک رسائی  کے راز کی وجہ سے ذہنی خلفشار میں مبتلاء ہوچکی ہے ۔
میں نے اُس سے پوچھا، " کیا وہ مجھے  منشی کے سوٹ میں داخل ہونے میں مدد کر سکتی ہے ؟ "
"کیوں  ؟ " وہ یک دم بھڑک کر بولی ۔
" تاکہ میں بھی دیکھوں کہ وہ معلومات کس نوعیت کی ہیں ؟
   وہ انجنیئر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کینوپ کی کچھ ڈرائینگز آپ نے دیکھی ہوں یا وہ کسی پراجیکٹ پر کام کر ہا ہو  اور پریشان ہوگئیں "  میں نے اُسے تسلی دی
اُس نے اثبات میں سر ہلایا ۔ " آپ کو یقین ہے کہ مجھے غلط فہمی ہوئی ہے ؟" 

" یقیناً ، کیوں کہ کسی بھی پراجیکٹ پر کام کرنے والے انجنیئر کے پاس  ایسی معلومات ہوتی ہیں اور وہ یقیناً عام نوعیت کی ہوں گی اگر وہ اتنی اہم ہوتیں  تو وہ اپنے سوئیٹ میں کیوں رکھتا اور لاکر کو کھلا کیوں چھوڑتا؟ میں نے اُسے یقین دلایا ۔ "
اچھا اب یہ بھول جاؤ  کہ تم نے منشی کے لاکر میں کیا دیکھا ، نہ اُس سے ذکر کرنا اور نہ ہی کسی اور کو بتانا ، لوگ خواہ مخواہ آپ کی طرح غلط فہمی کا شکار ہوجائیں گے ، اور بے چارے منشی کو اپنی جاب سے ہاتھ دھونا پڑیں " 
"لیکن وہ ڈالر ؟ جو اُس کی سیف میں ہیں "اُس نے  شکّی لہجے میں پوچھا ۔
"ہوسکتا ہے اُس نے  چار سالوں میں باہر جمع کئے ہوں اور اب خرچ کر رہا ہو " میں نے کہا  ، "اور  آپ پریشان ہوگئیں "
تم مانو گے کہ یکدم وہ  پرسکون ہوگئی  جیسے اُس کے ذہن پر پڑا بھاری بوجھ اُتر گیا ہو ۔
اور اُس نے مجھے  متبادل چابیاں دے دیں جو منشی نے اُسے دی ہوئی تھیں ۔ 

میں نے ڈاکٹر صاحبہ کی میز پر پڑی گھنٹی بجائی ، چپڑاسی آیا تو اُس ڈاکٹر صاحبہ کو بلوانے کا کہا ۔
ڈاکٹر صاحبہ سے پہلے چائے آگئی ، جب ڈاکٹر صاحبہ آئیں۔  تو ہم دونوں کسی بات پر ہنس رہے تھے  ۔
" ار ے ، بھئ شکر ہے میں نے تمھارے  چہرے پر مسکراہٹ کیا  ، ہنسی بھی دیکھی " ڈاکٹر صاحبہ بولیں  " کرنل صاحب کیا جادو کردیا ہے آپ نے ؟"
"  یہ  کسی غلط فہمی کا شکار ہوکر رائی کو پہاڑ سمجھ بیٹھیں اور اپنی سر پر سوار کر لیا" ۔  میں نے کہا ،" اچھا اب اپنے ہشاش بشاش  مریض کو سنبھالیں ، میں چلتا ہوں " 
اور اُٹھ کر باھر نکل آیا  اور سیدھا ایم پی اے ہاسٹل کا رُخ کیا ، مجھے مِس میمن نے بتا دیا تھا کی منشی  لاہور گیا ہوا ہے  اور تین دن بعد آئے گا ۔
ہم ایم پی اے ہاسٹل میں منشی کے سوئیٹ  میں داخل ہوئے ۔
 وہ سوئیٹ  کِس کے نام تھا  ؟ 
اِسے جانے دو !
 لیکن وہاں ڈریسنگ روم کی الماری   کی دیوار میں پیوست  موجود  70 سالہ پرانا غیر ملکی کمپنی کا سیف ہمیں کھولنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی ،  چند منٹوں میں  سیف کھول لیا واقعی وہ ڈالروں سے بھرا ہوا تھا ، میں نے تمام فائلیں دیکھیں ۔
یہ پاکستان کی نیوکلیئر سائیٹس  اور وہاں کام کرنے والے افراد کے بارے میں  سوال نامہ تھا ، جس کے جوابات  منشی کو لینے اور سوال کرنے والے کو بھجوانے تھے ۔
 گویا سرخ کار میں سوپر پاور کی کونسلیٹ میں بلا روک ٹوک داخل ہونے والا خود منشی تھا ۔ جس کو سیکرٹ معلومات مہیا کرنے کا مشن دیا گیا تھا۔
 لیکن اِس سے پہلے اُسے  ، کراچی نیوکلیئر پلانٹ  میں ملازمت دلوائی گئی۔ تاکہ اُسے کہوٹہ میں بننے والی  پاکستان کی نیوکلیئر سائیٹس تک پہنچنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے ۔  
میں نے تمام کاغذات کی فوٹو کاپی کروائی ۔ اور سیف کو واپس اُسی طرح بند کردیا تاکہ اُسے کسی قسم کا شک نہ ہو ۔ 
" لیکن سر کیا اتنی اہم جگہ پر ملازم ہونے کے لئے کیا سکیورٹی کلیئرنس نہیں کی جاتی ؟   میں نے حیرانگی سے پوچھا
"کیوں نہیں کی جاتی  ؟  مکمل کی جاتی ہے۔   خوب چھان پھٹک کی جاتی ہے  لیکن جب ماضی پر کوئی سوالیہ نشان نہ ہو  تو پریشانی کی کیا بات ہے ؟"
اب میرا پروگرام تھا کہ پاکستان کی نیوکلیئر سائیٹ  میں موجودمنشی کے ساتھیوں اور کے مددگاروں کو تلاش کیا جائے ۔ 
کیوں کہ منشی   پاکستانی   سائنس دانوں اور غیر ملکی  انٹیلیجنس ایجنسی کے درمیان  ہینڈلر  تھا  اور میں  اِس رابطےکو خبردار نہیں کرنا چاہتا تھا۔
مجھے معلوم تھا کہ اِس ہینڈلر کی اہمیت جاسوسوں سے زیادہ ہے ، یہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو  اِس سے ہینڈل ہونے  والا تمام نیٹ ورک ہماری مُٹھی میں ہوگا

میں میمن خاتون سے دوبارہ ملا۔  اُس تاکید کی کہ  کہ وہ منشی کو کچھ نہ بتائے ، 
" ہم  منشی کے چار سالہ ماضی کو دیکھنا چاھتے ہیں  ۔جس کے متعلق ہمیں ابھی تک کچھ زیادہ معلوم نہیں ہوا ۔ لیکن اُس کے کاغذات سے اتنا معلوم ہوا ہے   کہ اُس نے شادی نہیں کی ہے ۔ہاں آپ اُس کی زندگی کو زیادہ نہیں کریدنا ۔ اور ہاں مہینے دو مہینے اُس سے دور رہنا ، کہیں آپ کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جائے جو اُسے پریشان کردے  اور جو اہم نوعیت کے کام کر رہا ہے اُس میں غلطیاں کرنا شروع کردے "
  میمن خاتون، منشی کے  شادی نہ کرنے   کا سُن کر خوش ہوئی   اور وعدہ کیا   کہ وہ منشی کو کوئی بات نہ بتائے  گی ۔ 
دس مہینے کی کوششوں کے بعد ہم منشی کے تمام گروہ کو ٹریس کرنے میں کامیاب ہوگئے  تھے ۔ پھر ہمیں معلوم ہوا کہ منشی نے کسی غیر ملکی جاسوس سے کینوپ کے راستے میں  ہاکس بے کے علاقے میں کسی جاسوس کو معلومات دینے کا پروگرام بنایا ہے ۔ چناچہ اُن دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا پروگرام بنایا ۔

اتوار کا دن تھا ہاکس بے پر کافی رش ہوتا ہے مقامی اور غیرملکی لوگ وہاں پکنک منانے آتے ہیں ۔ غیر ملکیوں کے لئے وہاں   مقامی ہٹس سے دور ہٹس بنائی ہوئی ہیں جس کی بکنگ منشی نے کروائی تھی ۔
 میں اور میرا ڈرائیور پہلے سے وہاں ساتھ والی ہٹ میں موجود تھے  .جس کی دیوار منشی کی ریزرو کروائی ہوئی ہٹ کے ساتھ تھی ۔
 منشی   دس بجے وہاں پہنچا اور ہٹ میں داخل ہوا ۔ منشی پر نظر رکھنے کا میں نے پورا انتظام کیا ہوا تھا ۔ 
ٹھیک 11 بجے  ایک کار  آ کر رکی ایک سادہ سا عام دھکائی دینے والا  غیر ملکی شخص وہا ں پہنچا ۔ منشی نے اُسے ویلکم کہا ،دونوں ہٹ میں داخل ہوئے۔
 ہوا کی آمد ورفت کے لئے ہٹ کے دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھی جاتی تھیں ، چوروں یا اٹھائی گیروں کو روکنے کے لئے کھڑکیوں پر مضبوط گرل تھی  ہٹ میں داخل ہونے کا صرف ایک دروازہ تھا ، جس کا رخ سمندر کی جانب تھا جہاں سے ٹھنڈی ہوا ہٹ میں داخل ہورہی تھی ۔
 دونوں ایک سنٹر ٹیبل کے آمنے سامنے بیٹھ گئے ، منشی نے کاغذات نکالے اور اُس کے سامنے پھیلائے ۔
   میں اپنی ہٹ سے منشی کی ہٹ میں داخل ہوا ۔غیر ملکی جاسوس  مجھے دیکھ کر چونکا اور یک دم کھڑا ہوا ۔  وہ سمجھ گیا کہ اب اُس کا کام ختم۔
 اُس نے پھرتی سے پسٹل نکالا اور مجھ پر فائر جھونک دیا ، لیکن میں نے اُس سے پہلے ہی اُسے غچہ دے چکا تھا ۔
فائر کی آواز سنتے ہی میرا ڈرائیور بھی اند داخل ہوا اور ہم دونوں نے اُسے قابو کر لیا  ،منشی اور جاسوس کو ہم نے ہاتھ پاؤں باندھ کر اپنی گاڑی میں پھینکا اور سیف ہاؤس منتقل کر دیا ۔

جلد ہی منشی نے کہوٹہ میں کام کرنے والے 12  سائنس دانوں اور انجنیئروں  کے نام  اُگل دئیے ۔ جن کے ذمے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو  ٹیکنیکلی تباہ کرنے کا پرگرام تھا  تاکہ کوئی بھی دوبارہ اُس کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہ کر سکے اور ناقابل   عمل سمجھ کرترک کردیا جائے ۔ 
یہ سب غدار مختلف جگہوں سے گرفتار کرلئے گئے ۔
میں نے اُس میمن خاتون کو فون پر  بتادیا کہ منشی گرفتار ہوچکا ہے ،اُس کی رہائی ناممکن ہے اب وہ  اُس کا انتظار مت کرے ۔
پاکستان کی نیوکلیئر سائیٹ پر کام کرنے والوں کے سکیورٹی چیکس کے پیرا میٹرز بڑھادیئے گئے   اور اُسے   کسی بھی حملے یا جاسوسوں کے داخلے سے حفاظت کے لئے فوج  کے حوالے کردیا گیا اور  کہوٹہ کو اتنا محفوظ کر دیا کہ آج 28 مئی کو  ، سچے پاکستانی  ایٹم بم  کو دنیا پر ظاہر کرنے  کی 11 سالہ یاد منا رہے ہیں ۔
 اگر وہ میمن خاتون اپنے نسوانی حسد اور وطن کی محبت  کے ملے جلے جذبات سے ذہنی  بیمار نہ پڑتی  تو شاید   پاکستان اپنےنیوکلیئر اثاثے کبھی نہ بنا پاتا ۔  ۔ ۔
یہ کہہ کر بوڑھے ویٹرن نے میری طرف فخریہ نظروں سے دیکھا اور آنکھیں بند کر لیں ۔
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ بوڑھا ویٹرن ، جس نے اپنی پوری زندگی پاکستان کی حفاظت میں گذار دی۔    پاکستان آرمی میں بریگیڈئر امتیاز کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔  جس نے پاکستان کی نہ صرف حفاظت کی بلکہ 
منشی جو اِ س گرو کا رنگ لیڈر تھا اُسے پھانسی کی سزا ہوئی اور باقیوں کو عمر قید ۔ سیاسی چالوں نے منشی کو بھی بچا لیا اور باقی بھی ۔
 لیکن اِس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بریگیڈئر امتیاز اور دیگر محب الوطن پاکستانیوں کی وجہ سے " یومِ تکبیر " کے دن  اپنی تکمیل کو پہنچا ۔ 
صدر پاکستان نے    بریگیڈئر امتیاز کو تمغہءِ بسالت سے نوازا ۔
بے نظیر حکومت نے  " آدھی رات کے بھیڑیئے " کا اعزاز دے کر تین سال جیل میں رکھا ۔ 
مشرف نے بھی چار سال جیل میں رکھا ۔ کیوں کہ     بریگیڈئر امتیاز نے نواز شریف کو"   ملٹری کُو " کے بارے میں خبردار کیا تھا ، ہائی کورٹ  نے جعلی مقدمات سے رہائی دلوائی ۔
 غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسی نے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے لئے اپنے 5 ایجنٹس پاکستا ن بھیجے ، جن میں سے ایک وہ خوبصورت  لڑکی تھی جس کی تصویر منشی کے پرس میں دیکھ کر میمن لڑکی حسد میں مبتلاء ہوگئی اور منشی سے انتقام لے لیا ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔