میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 31 جولائی، 2019

میاں بیوی کے جسمانی تعلقات کا یکسر خاتمہ

 سلیم اللہ یوسف زئی :
 جس طرح مرد کا تین مرتبہ طلاق طلاق طلاق کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے جس طرح لڑکی کی تین مرتبہ قبول ہے قبول ہے قبول ہے سے نکاح ہو جاتا ہے ۔
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
 آپ کی بات ، اِس لحاظ سے درست ہے ، کہ مرد نے غصے میں ، اپنی بیوی کے پاس نہ جانے کی وجہ سے " طلاق ، طلاق اور طلاق" کہا ، یعنی آج کے بعد میں تجھ سے جنسی تعلق نہیں رکھوں گا ۔  
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یعنی میاں بیوی  کے جنسی  تعلقات کا یکسر خاتمہ۔
لہذا روح القدّس نے محمدﷺ کو ایسے شخص کی جاہلیت کو ہدایت کی طرف لانے کے لئے اللہ کی طرف سے ھدایت بتائی۔ 

لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَآؤُوا فَإِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ [2:226]

کہ شوہر کو  آخری حد چار ماہ تک بیوی سے رَبُّصُ  رہنے کا کہا ہے ،
 اگر وہ چار ماہ کے اندر واپسی کا میلان رکھتے ہیں تو بہتر وگرنہ ، اُنہیں اب ۔
 عزمِ الطلاق (طلاق نہیں) کرنا پڑے گا ۔
 وَإِنْ عَزَمُواْ الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ [2:227] 
اب یہ عزم الطلاق ، أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ کے اندر ہے یا اُس کے بعد ۔
 میرے فہم کے مطابق یقیناً أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ کے بعد ہے ۔ 

اِن أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ کے دوران وہ تمام کاروائی ہو گی جو میاں بیوی کو جدائی سے بچانے کے لئے اللہ نے الکتاب میں درج کر دی ہے ۔

 کچھ لوگوں کا فہم ہے کہ عزم الطلاق ، ہی دراصل پہلی الطلاق ہے ۔
 جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ 
مرد کے عزم پر فیصلہ،  الطلاق کا نفاذ کروانے والا حاکم کرے گا ۔
 تب الطلاق کا پہلا دن شروع ہو گا ۔ 

روح القدّس نے محمدﷺ کو الطلاق کے سلسلے میں اللہ کا حکم ِ مفصل بتایا ۔
 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّـهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا ﴿65:1﴾ 
بالا دیا ہوا فیصلہ النبیﷺ کو اللہ کا حکم ہے  ، اُن  النساء (ازواج النبی نہیں)  کے لئے  ، جو  دیگر مردوں کی نساء ہیں ! 

روح القدّس نے محمدﷺ کو الطلاق کی عدت کے سلسلے میں ، عورتوں کے لئے اللہ کا حکم ِ مفصل بتایا ۔
 وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُواْ إِصْلاَحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكُيمٌ [2:228]

 روح القدّس نے محمدﷺ کو الطلاق کی عدت کی بلوغت کے بعد مرد کے لئے اللہ کا حکم بتایا : 
فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّـهِ ۚ ذَٰلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ﴿65:2﴾ 
حلال و حرام کے بارے میں ، روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ  کی حدود بتائیں: 
 پہلی  حد اللہ :
 الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ 

دوسری   حد اللہ :
 وَلاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُواْ مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلاَّ أَن يَخَافَا أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ 

 تیسری حد اللہ :
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ

 تِلْكَ حُدُودُ اللّهِ فَلاَ تَعْتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللّهِ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ [2:229] 
 دوسری حد  اللہ  یا تیسری  حد اللہ ۔ میں سے کسی ایک کے انتخاب کے بعد،

چوتھی  حد  اللہ :
 فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ 

 پانچویں   حد اللہ :

 فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ 

وَتِلْكَ حُدُودُ اللّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ [2:230] 

روح القدّس نے محمدﷺ کوالکتا ب ،  کتاب اللہ  کے بارے اللہ کا حکم بتایا :

وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّـهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿2:101

  روح القدّس نے محمدﷺ کو قصص الانبیاء سے،مرد اور اُس کی زوجہ کے درمیان     تفریق ڈالنے والوں کے بارے میں ایک تادیب ، بتائی :

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿2:102

  وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ خَيْرٌ ۖ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿2:103 

ہم، پاکستانی فوجی

آئیے آپ کو پہلے  پاکستانی ہندو    ڈاکٹر ، میجر کیلاش  گراودا  ، سے ملاواتے ہیں جو ، تھر پارکر  کے ریگستانی علاقے کا رہنے والا ہے ۔
 ڈاکٹر کیلاش  نے ، جام شورو حیدر آباد  کے لیاقت میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس  سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی اور پاکستان آرمی  میڈیکل کور میں بطور کیپٹن  کمیشن لیا ۔
آپ کو یاد ہو کہ   2000  ء     سے پاکستان آرمی میں  سکھ    اورعیسائی جوان و آفیسر شامل ہو کر ملک کی حفاظت کر رہے ہیں ۔
میجر ڈاکٹر کیلاش  نے  برمنگھم یونیورسٹی ہسپتال سے  ایمرجنسی میڈیسن میں کورس کیا اور   تھرپاکر کشمیر ، گلگت بلتستان اور ہنزہ میں پاکستان آرمی کے فری کیمپس میں شامل ہو کر عوام کی خدمت کی ۔
فوجی زندگی کے شروعات میں  ڈاکٹر میجر کیلاش نے ۔ آپریشن المیزان  (اورکزئی ایجنسی ) وزیرستان اور راہِ نجات  سوات  اور سیاچین  میں  پاکستان آرمی کے جوانوں کے شانہ بشانہ ملک کی خدمات سر انجام دیں۔
 فوج کی طرف سے ملنے والے امتیازات:

٭- تمغہءِ بقاء 
٭- تمغہ ءِ عظم 
٭- تمغہءِ دفاع  (سیاچین )  ۔ بالتورو سیکٹر میں سیڈل پیک  جو 22 ہزار فٹ بلند منجمد علاقہ ہے وہاں 36 دن  ، ملک کی حفاظت کے لئے جوانوں کے ساتھ  گذارے ۔
٭- تمغہءِ یو این ( امن  مشن) ۔    امن  مشن کے سلسلے میں ایک سینئر آ فیسرکے سٹاف آفیسرز  کے طور پر گذارے  اور یوگنڈا ، مصر ، سپین ، فرانس نیدر لینڈ ، بلجیئم ، اٹلی ، سوئٹزر لینڈ اور اٹلی  میں، بطور  یو این کے نمائندے دورے بھی کئے ۔ 
٭- تھرپارکر  میں پلنے  اور بڑے ہونے کی وجہ سے  ، سندھ کی مکمل تاریخ  کی واقفیت کی کی بناء پر یو این اور میں وادئءِ مہران کی تہذیب پر ، یو این کی نمائیندوں کو ایک فصیح و بلیغ لیکچر دیا ۔


ہمیں اپنے افسروں اور جوانوں پر فخر ہے ۔ 

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 30 جولائی، 2019

جنٹلمین محترمہ فاطمہ جناح




31 جولائی 1893 کو جناح بھائی پونجا اور میٹھی بائی کے گھر میں چھ بچوں ، محمد علی ، احمد علی ، بندے علی ، رحمت علی ، مریم اور شیریں کے بعد پیدا ہونے والی فاطمہ ۔ 1901 میں یتیم ہو گئی ۔
 25 سالہ ، بڑے بھائی محمد علی جناح پونجا نے بطور خاندان کے سربراہ ، 1902 میں باندرہ کانوینٹ بمبئی میں داخلہ دلوا دیا اور ننھی فاطمہ ، نو سال کی عمر میں وزیر مینشن سے کانوینٹ ہاسٹل میں شفٹ ہو گئی ۔
 اپنی تعلیمی قابلیت کو بڑھاتی ، فاطمہ نے بالآخر اپنی تعلیم مکمل کی اوریونیورسٹی آف کلکتہ کے زیر اہتمام چلنے والے ڈاکٹر آ ر احمد گورنمنٹ ، ڈینٹل کالج کلکتہ میں داخلہ لے لیا ۔
 1923 میں ، یہاں سے ڈینٹل سرجن کی تعلیم بعد ، بمبئی کے نزدیک میں دھوبی تلاؤ (تالاب) میونسپل کلینک میں جوائن کر لیا اور اپنا کلینک بھی کھول لیا ۔بھابی کی وفات کے بعد ، 1929 میں ، فاطمہ نے اپنا کلینک بند کیا  اور بھائی کے بنگلے  میں شفٹ ہو کر بھائی کے گھر کا انتظام سنبھال لیا ۔
بھائی کو ہندوستان کے مسلمانوں نے 1909  میں  ڈھاکہ میں   بننے والی آل انڈیا مسلم لیگ   میں شامل کیا  ، تو بھائی کی مددگار بن گئی ۔ ہندوستانی سیاست کی اونچی نیچی گذرگاہوں پر بھائی کے ساتھ سفر کیا ۔
1947 میں پاکستان بنا  ، آل انڈیا مسلم لیگ کے  بطن سے ، پاکستان مسلم لیگ وجود میں آئی ۔  قائد اعظم نے  ،  وومن ریلیف کمیٹی بنی ۔ رعنا لیاقت علی خان نے    آل پاکستان  وومن ایسوسی ایشن بنائی ۔  مہاجروں کی سٹیلمنٹ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔
بھائی کے انتقال کے بعد ،1951  میں عوام سے اُن کے پہلے ریڈیو پر خطاب کے بعد  لیاقت علی خان حکومت نے اُنہیں عوام سے  خطاب کے حق سے محروم کر دیا  اور وہ گوشہ نشین ہو گئیں ۔
 1955 میں اُنہوں نے اپنی کتاب " میرا بھائی " لکھی جس کو اِس بنیاد پر نہیں چھاپا گیا کہ اُس میں  اینٹی نیشنل مواد شال ہے ، جو 1987 میں چھپی ۔ 

1958  کے فوجی انقلاب کے بعد ، جب دیکھا کہ ایوب خان نے پاکستان کی سیاست  کو ختم کرنا شروع کر دیا ہے ، جس خا خواب اُس کے بھائی نے دیکھا تھا ، تو  یکم جنوری 1960 میں ، مادرِ ملّت کا لقب پانے کے بعد ، پاکستان مسلم لیگ کا آفس سنبھالنے کے بعد  ، فوجی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف زبان کھولنا شروع کر دی ۔
پاکستان جیسے ملک میں ، سیاسی پرخاش کے فساد کی ابتداء اگر کہیں کہ 1964 سے شروع ہوئی تو غلط نہ ہوگا ۔ اِس سے پہلے کے اگر انتخاب پر نظر ڈالیں ، تو 1947 کے آزادی کے ریفرنڈم میں کوئی سیاسی پرخاش نہ تھی جس پیمانے پر اب شروع ہوئی ہے ۔ عوام کو جھوٹے وعدوں کی امید دلانا اور حکومت کی اچھائیوں کو چھپا کر بُرائیوں کو محدب عدسے کے نیچے دکھانا، بلکہ یوں کہیں کہ مغربی ملکوں کی جمہوریت جو پڑھے لکھے لوگوں میں مروّج تھی وہ پاکستان کی اَن پڑھ عوام میں دھوم دھڑکوں سے اُکسا کر رائج کرنا ایک اچھا رجُحان نہ تھا ۔
 پاکستان کے قیام کے لئے ، یک مقصد نعرہ " مسلم ہے تو مُسلم لیگ میں آ " ایک مکمل اور جامع نعرہ تھا ، جو علی گڑھ کے نوجوانوں نے ایجاد کیا تاکہ ہندوؤں سے علیحد ہ تشخّص بنایا جائے ۔
جبکہ وہ لوگ کو خود کو دیگر مسلمانوں ، راہِ راست سے بھٹکا ہوا سمجھتے اور خُود کو راہ راست پر پابند مسلمان سمجھتے ، اُنہوں نے ، اِس نعرے کو ایک کان سے سنا اور دوسرے کان سے اُڑا دیا ۔ اور اُن کے فہم کے مطابق ، راہ راست سے بھٹکے ہوئے لوگ مسلم لیگ کی چھتری تلے آگئے ۔ اِن لوگوں نے دبے دبے لفظوں میں ، میڈیا کو استعمال کر کے ، کافرِ اعظم کی قیادت قبول کرنے کا شوشہ بھی چھوڑا ۔ 
رہی محترمہ فاطمہ جناح ، وہ تو تھی بہن، لیکن 1964 میں بڑی بُرائی (ایوب خان مسلمان) سے چھوٹی برائی ( کافر کی بہن) کو اُنہی جماعتوں نے اپنا لیڈر بنا لیا ۔
 ایوب کا دعویٰ کہ وہ بنیادی جمہوریت کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور پرسکون انداز میں پاکستانیوں کی زندگی گذر رہی ہے ، ہر طرف سب اچھا کی رپورٹ ہے ، کے جواب میں فاطمہ جناح نے کہا:
 " یہ کونسی جمہوریت ہے؟ ایک آدمی کی جمہوریت یا پچاس آدمیوں کی جمہوریت؟ "
جب ایوب نے کہا کہ ان کی شکست ملک میں دوبارہ بد امنی پیدا کر دے گی تو فاطمہ جناح نے کہا: " آپ زبردستی، اتھارٹی اورڈنڈے کے زور پر ملک میں استحکام پیدا نہیں کر سکتے"


  لیکن کہا جاتا ہے کہ ،  فاطمہ جناح  نے ایوب خان سے تنگ آئے ہوئے لیڈروں کے اُکسانے پر ،  ایوب خان سے الیکشن کروانے کا مطالبہ کر دیا تھا ۔

2  جنوری 1965ء کو  محترمہ فاطمہ جناح اور صدر ایوب کے درمیان انتخابات ہوئے ۔ایوب خان نے فاطمہ جناح کو بھارتی اور امریکی ایجنٹ قرار دے دیا تھا۔ سکیورٹی اسٹیبلیشمنٹ کا یہ آزمودہ حربہ ہے۔ایوب خان  نے فاطمہ جناح کے بارے میں اس موقع پر کہا:

" لوگ انہیں مادر ملت کہتے ہیں اس لیے انہیں مادر ملت ہی بن کے دکھانا چاہیے" ۔

کیوں کہ ، ایوب خان کو پریشان کرنے والی بات یہ تھی کہ فاطمہ جناح پینٹ میں بہت دلکش دکھائی دیتی تھیں۔
 فاطمہ جناح جتنا زیادہ صدر ایوب پر تنقید کرتیں عوام اتنا  ہی انہیں سپورٹ کرتے۔آخری ہفتے تک جب صدارتی الیکشن صرف چند دن کی دوری پر تھے ، ان کی اپوزیشن اس قد ر عروج پر پہنچ گئی کہ انہیں اس قدر مخالفت کا سامنا پچھلے چھ سال ملا کر بھی نہیں کرنا پڑا۔
کوثر نیازی نے  روایات کا سہارا لے کر عورت کی سربراہی کو مسلمانوں کے لئے نحوست قرار دیا ۔

فوجی چھڑی کے مقابلہ میں ۷۱ سالہ سفید بالوں والی فاطمہ جناح پانچ مختلف سیاسی جماعتوں کی متفقہ امیدوار تھیں، کیوں کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن تھیں جن کی بدولت پاکستان کوآزادی ملی تھی۔انتخابی نشان لالٹین تھا -
 لیکن پاکستانی عوام کا فاطمہ جناح کی طرف سے حکومت پر حملوں پر رد عمل بہت حیران کن تھا-

ویسے تو ہمارے الیکشنوں کے بڑے کمالات ہیں۔ یہاں مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ ساتھ ہمارے غیر ملکی مہمان، پاکستانی شہریت نہ ہونے کے باوجود، بہت سے حلقوں میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

 حزب مخالف کے سیاستدانوں کو اس بات کا مکمل یقین تھا کہ محترمہ کامیاب ہوں گی۔
 لیکن الیکشن کمیشن نےصدر ایوب کامیاب قرار دے دیا ۔
اور پاکستان کے الیکشنز میں " جھرلو " کی اصطلاح مستحکم ہو گئی ۔ 

فوج نے پاکستان میں ایمانداری سے الیکشن کروانے کے لئے قدم رکھ دیا ، بہت بُرا کیا ۔
یوں پاکستان کے وزیر اعظم، فوج کے ہاتھوں  سلیکٹ ہونے لگے  ۔

اپنی فوجی سروس کے دوران میں نے ، 1984 کا ریفرنڈم ، 1985 کا الیکشن ، 1988 کا الیکشن،  اِن میں سکیورٹی کی ڈیوٹی کپتان اور میجر کی حیثیت سے انجام دیں ۔ 1990 اور 1997 کے الیکشنز  ،  الیکشن کمیشن کی پُرامن الیکشن کروانے میں مدد کی ۔
 میڈیا اور ہارے ہوئے  نمائیندوں نے خوب دھول اُٹھائی۔
 لیکن اللہ کا شکر ہے کہ، اپنی بساط کے مطابق کسی قسم بدامنی نہیں ہونے دی ۔  
لیکن میں نے، بذاتِ خود، الیکشن کمیشن   کے مقامی مددگار نمائیندوں کی طرف سے جھرلو پھرتے بھی دیکھا ، پنکچر لگتے بھی ، یہاں تک کہ   ایمانداری ہے  ، بیلٹ بکس بدلتے بھی ۔
٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 27 جولائی، 2019

پاسپورٹ۔سرکاری ملازمین سکیم

تمام سرکاری ملازمین  کا پاسپورٹ      Govt Employee Passport کے تحت بنے گا ۔ جو سے لئے قواعد و ضابطہ اور خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ و سزا متعین کردی گئی ہے ۔ کیوں کہ بہت سے سرکاری ملازمین ، سالانہ چھٹی لے کر بیرونِ ملک  اپنے پرائیوٹ پاسپورٹ پر  چلے جاتے ہیں ۔ جس کا حکومت کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا اور نہ ہی امیگریشن والے  اُن کا علیحدہ ریکارڈ سرکاری ملازمین ہونے کا رکھتے ہیں ۔ 
بیرونِ ملک جانے والے تمام سرکاری ملازمین کو اپنے محکمے کا این او سی  لازمی لیناپڑتا ہے بصورت دیگر  امیگریشن حکّام انہیں سفر نہیں کرنے دیتے ۔ 
لہذا حج یا عمرے  پر جانے والے تمام سرکاری ملازمین کسی بھی الجھن سے بچنے کے لئے ، مندرجہ ذیل پر عمل کریں ۔ 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 وہ ملازمین جنہوں نے سرکاری سروس جوائن کرنے سے پہلے پاسپورٹ  بنوایا    اور وہ ملازمین  جنہوں نے سرکاری ملازمت ملنے کے بعد خود کو سرکاری ملازم ظاہر نہ کرکے پاسپورٹ بنوایا ۔ اُن کے لئے قوانین درج ذیل ہیں :
٭- سرکاری ملازمت سے پہلے  بنوائے ہوئے پرائیوٹ سٹیزن  پاسپورٹ کو ،
سرکاری ملازم پاسپورٹ۔  Govt Employee Passport میں تبدیل کروانا:

٭- پہلی کیٹگری:وہ سرکاری ملازمین جن کا پاسپورٹ گورنمنٹ سروس جوائننگ سے پہلے بنا ہوا تھا اور گورنمنٹ سروس جوائننگ سےپہلےہی ایکسپائرہوگیاتھا ۔اب جب وہ اِسے Renew  کروائیں گے تو       وہ ،   Govt. Employee  والا پاسپورٹ بنوائیں گے  ۔جس کی  نارمل فیس  3,000    روپے ہے ۔
   ٭- دوسری کیٹگری:
  ٭- دوسری کیٹگری۔ A : وہ سرکاری ملازمین جن کا پاسپورٹ گورنمنٹ سروس جوائننگ سےپہلےبناہواتھا اور پاسپورٹ کی Expireyمدت باقی ہے۔ تو وہ اپنا پاسپورٹ  
اب  وہ  اپنا  نیا ،   Govt. Employee  والا پاسپورٹ ۔ نارمل فیس  3,000   کے ساتھ لازمی Renew کروائیں گے۔
27 ستمبر 2019   کے بعد 50 ہزار جرمانہ ہوگا اور محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ FIA میں ایف-آئی-آر بھی درج ہوگئی۔
 ٭- دوسری  کیٹگری ۔B :  وہ سرکاری ملازمین جن کا پاسپورٹ گورنمنٹ سروس جوائننگ سےپہلےبناہواتھا اور گورنمنٹ سروس جوائننگ کےبعد_Expireہوا ۔
اب جب وہ اِسے Renew  کروائیں گے تو       وہ ،   Govt. Employee  والا پاسپورٹ بنوائیں گے  ۔جس کی  نارمل فیس  3,000    روپے ہے ۔

 Documents Require:
 ⬅ چالان فارم NBP (سفید رنگ کا) ۔ پاسپورٹ فیس ۔ 3,000 ر وپے -
شناختی کارڈ کاپی - 2 عدد 
پرانے پاسپورٹ کے پہلے 2 پیجز کی کاپی - 2 عدد 
میمورنڈم فارم (Memorandum Form) :
🔸 ۔اگر ہائی سکول ہے ۔  تو ہائی سکول کے ہیڈ کے دستخط بمع مُہر ۔
🔸۔ اگر مڈل سکول ہے۔ تو سکول ہیڈ اور ڈی-ای-او صاحب کےدستخط بمع مُہر۔
 🔸۔ اگر پرائمری سکول ہے۔ تو اے-ای-او اور ڈی-ای-او صاحب کے دستخط بمع مُہر
اپائنٹمنٹ لیٹر کاپی - 1 عدد 
جوائننگ لیٹر کاپی - 1 عدد
 نوٹ = جب آپ پاسپورٹ آفس Enter ہوں گے تو آپ کو NOC کا کہیں گے تو انھیں بتائیں  کہ ہمارا پاسپورٹ سروس جوائننگ سے پہلے کا بنا ہوا ہے۔ لہذا ہمارا صرف Memorandum Form  ہی لگنا ہے۔ اور اپائنٹمنٹ لیٹر کی کاپی ساتھ لف ہے ۔
 (کیونکہ اس کا ایشو بنا یا جا رہا ہے )
 ٭٭٭٭٭٭
 ٭- سرکاری ملازمت ملنے کے بعد بنوائے ہوئے پاسپورٹ:
٭- تیسری  کیٹگری : وہ سرکاری ملازمین جنہوں نے پاسپورٹ گورنمنٹ سروس جوائننگ کےبعدپرائیویٹ بنوایاہواہے۔
  وہ اپنا Govt. Employee والا پاسپورٹ نارمل فیس 3,000/-اور 5,000/- جرمانہ کے ساتھ لازمی Renew کروائیں گے۔
: Documents Require 
چالان فارم NBP (سفید رنگ کا) ، پاسپورٹ فیس ۔ 3,000 ر وپے -
 ⬅ چالان فارم NBP (گلابی رنگ کا) 5,000/-
  شناختی کارڈ کاپی - 2 عدد 
پرانے پاسپورٹ کے پہلے 2 پیجز کی کاپی - 2 عدد 
میمورنڈم فارم (Memorandum Form) ان کا دوسرا لگے گا۔
 جس میں آخری پوائنٹ میں مینشن ہے کہ میں نے لاعلمی کی وجہ سے پرائیوٹ پاسپورٹ بنوا لیا تھا۔اب مجھے سرکاری ملازم کا پاسپورٹ بنوانے کی اجازت دی جائے۔ 
ایپلیکشن Govt. Employee پاسپورٹ NOC کے لئے ۔
🔸 ۔اگر ہائی سکول ہے ۔  تو ہائی سکول کے ہیڈ کے دستخط بمع مُہر ۔
🔸۔ اگر مڈل سکول ہے۔ تو سکول ہیڈ اور ڈی-ای-او صاحب کےدستخط بمع مُہر۔
 🔸۔ اگر پرائمری سکول ہے۔ تو اے-ای-او اور ڈی-ای-او صاحب کے دستخط بمع مُہر
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پاسپورٹ  بنوانے کے لئے ، اب آپ کو ڈیجیٹل شناختی کارڈ لازمی بنوانا پڑے گا ، اُس کے لئے نزیکی نادرہ آفس جائیں ۔اپنا  اور  فیملی کا ڈیجیٹل شناختی کارڈ بنوائیں ۔ جس کے لئے نادرہ آفس میں ۔ آپ کے والد ، بہن یابھائی  کے ڈیجیٹل  شناختی کارڈ کا نمبر بتانا پڑے گا ۔  یہاں  آپ اپنے   ، اپنی بیوی اور اپنے بچوں  کے  انگلش میں نام  کی سپیلنگ اور  تاریخ پیدائش، ضرور چیک کریں ۔  کیوں کہ آپ کا یہی ڈیٹا ، پاسپورٹ  کے لئے استعمال ہوگا ۔ جو غلطی یہاں ہوگی وہ  پاسپورٹ   میں خود بخود شامل ہوجائے گی ۔   ڈیجیٹل شناختی کارڈ ملنے کے بعد اپنے بنک میں ، ڈیجیٹل شناختی کارڈ  کی کاپی بھی دیں ۔
٭٭٭ ٭٭٭
پاسپورٹ بنوانے کے لئے   طریق کار:

1:  نیشنل بنک  میں  پاسپورٹ فیس کا سفید رنگ کا چالان ۔     3000     روپے نارمل فیس (تیسری  کیٹگری ، گلابی رنگ کا چالان   ،  5,000روپے جرمانہ )  جمع کروانے کے بعد   آپ اپنے شناختی کارڈ ، پرانے پاسپورٹ   ،  سرکاری ڈاکومینٹس اپائنٹمنٹ لیٹر، جوائننگ لیٹر، سروس لیٹر, Pay Slip  کی دو کاپیوں کے ساتھ۔ پاسپورٹ آفس میں داخل ہوں ۔
 اپنے تمام اوریجنل ۔ سرکاری ڈاکومینٹس اپائنٹمنٹ لیٹر، جوائننگ لیٹر، سروس لیٹر, Pay Slip وغیرہ لازمی ساتھ رکھیں کسی وقت بھی وہ طلب کر سکتے ہیں۔
2 :  پاسپورٹ ، آفس میں ، آپ کی تصویریں کھینچی جائیں گی  اور  آپ کی انگلیوں کے بائیومیٹرک نشان لئے جائیں گے ۔ 
3-  اگلے کاؤنٹر پر پاسپورٹ  کے لئے ، شناختی کارڈ نمبر سے آپ کی تمام معلومات  لینے کے بعد ، آپ سے نئی معلومات پوچھی جائیں گی ۔آپ لازمی بتائیں کہ میں سرکاری ملازم ہوں  اور  سرکاری پاسپورٹ بنوانا ہے۔ وہ آپ کا پرانا ڈاٹا  دیکھے گا اور آپ سے دیگر معلومات پوچھے گا 4-   آپ کو ایک Print Out  دے گا ۔ جس پر تمام ضروری معلومات درج ہوں گی :
 🔸 ۔اس میں لازمی دیکھیں کہ پروفیشن  کے سامنے میں Govt Employee کا اندارج ہو۔
 🔸 ۔ اس کے بعد والے پوائنٹس میں گورنمنٹ / سیمی گورنمنٹ ملازم والے پوائنٹ میں YES ہو چکا ہے۔
 🔸۔ اپنے تمام کوائف ، خصوصاً  انگلش میں لکھے گئے نام کی سپیلنگ  , اور تمام  بائیو ڈیٹا چیک کر نے کے بعد اپنے دستخط کر کے فارم واپس کریں  گے ۔
نوٹ : آپ کا فارم فائنل Submit ہو گیا  ہے ۔ پاسپورٹ ملنے کے بعد  ، آپ کی کسی بھی غلطی کے باعث،  آپ کو بعد میں اپنے کوائف تبدیل کروانے کے لئے New Fee Pay کرنا ہو گی۔ 


 💠 آپ کا فارم فائنل Submit ہونے کے بعد آپ کے پرانے پاسپورٹ پہ وہ Stamp لگا دیں گے۔۔۔۔۔۔۔! 
(نیا پاسپورٹ ملنے کے بعد ، آپ اِسے  اُس کے ساتھ لازمی سٹیپل کریں ، خواہ اُس میں کوئی بھی ویزہ نہ لگا ہو )

٭٭٭ وارننگ٭٭وارنگ ٭٭اور ٭٭ وارنگ ٭٭٭
گورنمنٹ ملازمین ہونے کے باوجود جنہوں نے پرائیویٹ پاسپورٹ بنوایا ہوا ہے۔
 وہ محکمانہ NOC کے ساتھ متعلقہ پاسپورٹ آفس سے⭕ 27 ستمبر 2019⭕ سے پہلے پہلے گورنمنٹ پاسپورٹ بنوا لیں۔
27 ستمبر 2019   کے بعد 50 ہزار جرمانہ ہوگا اور محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ FIA میں ایف-آئی-آر بھی درج ہوگئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ: اِ س پوسٹ کو تمام سرکاری ملازمین  یا وہ دوست جنہوں نے پاسپورٹ بنوائے ہوں اور سرکاری ملازمت  کا ارادہ رکھتے ہوں  ۔ اِسے پڑھ کر  یاد رکھیں تاکہ بوقتِ ضرورت  سکون سے رہیں ۔   
٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 23 جولائی، 2019

آپک کا ٹائر اور آپ کی زندگی

میں نے کل اپنے ڈرائیور کو بلایا اور پوچھا، "ٹائر فیکٹری سے تیار ہونے کے بعد کتنے سالوں تک محفوظ رہتا ہے"؟
 اس نے مجھے مریخ سے آئے کسی اجنبی کی مانند حیرت سے دیکھا، اور ایک اظہارِ خوف کی کیفیت میں پوچها، "ٹائر کبھی غیر محفوظ بهی ہوتا ہے"؟
 ابھی تک وہ پیشہ ورانہ طور پر آٹھ سال سے گاڑی چلا رہا ہے۔ مگر یہ نہیں ‌جانتا تها کہ ہر ٹائر کی ایک ختم ہونے والی تاریخ ہے جس کے بعد اسے تبدیل کیا جانا ضروری ہے۔ کیونکہ اس کے بعد ٹائر کے پهٹنے کا شدید اندیشہ ہوتا ہے جو دورانِ سفر‌ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ 

یاد رکهیں بناوٹ کی تاریخ سے کسی بهی ٹائر کی محفوظ زندگی چار سال تک ہوتی ہے۔
   اب آپ سوچیں گے ٹائر تیار ہونے کی تاریخ کس طرح جان سکتے ہیں؟
 یہ ہر ٹائر پر چار ہندسوں کے طور پر لکھی ہوتی ہے۔جیسے 5012
 پہلے دو ہندسے  50 تیاری کے ہفتے کی نمائندگی کرتے ہیں، یعنی سال کا 50واں ہفتہ  یعنی دسمبر کا دوسرا ہفتہ ۔
جبکہ آخری دو تیاری کا سال بتاتے ہیں۔جیسے 12  یعنی   ،2012 ۔ یہ چار ہندسے ٹائر پر الگ لکهے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ حروف تہجی شامل نہیں کیے جاتے۔ 
کچھ کمپنیاں چار ہندسوں سے پہلے اور بعد میں سٹار کا نشان (*) بهی بناتی ہیں۔
 *مثال کے طور پر‌* اگر یہ چار ہندسے 1212 ہیں تو ان کا مطلب ہے کہ ٹائر سال 2012 کے 12 ویں ہفتہ یعنی (مارچ کے آخری ہفتے) میں تیار کیا گیا تھا۔ 
یعنی‌اس ٹائر کی محفوظ میعاد2016 کے 12 ویں ہفتہ میں ختم ہو جائے گی۔
 لہذا آپ کو اس تاریخ کے بعد ٹائر بدلنا ہوگا۔
 کچھ کمپنیوں کے ٹائر پر تیاری کی تاریخ نہیں بتائی جاتی۔ یہ ایک سنگین جرم ہے مگر چین کے کچھ برانڈز میں عام ہے۔
 مینوفیکچرنگ کی تاریخ دیکهے بغیر ٹائر خریدنا ایسا ہی ہے جیسے مدت میعاد دیکهے بغیر ادویات کا استعمال‌ کرنا۔
 مگر میرا خیال ہے کہ یہ اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ خراب ادویات تو صرف آپ کو تکلیف پہنچا سکتی ہیں۔ جبکہ ٹائر کا پهٹنا گاڑی کے تمام مسافروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ 
*نوٹ:
 اب جب آپ یہ جان چکے ہیں تو تهوڑی سی تکلیف کریں، اپنی‌ گاڑی کے پاس جائیں، اور جهک کر اپنے ٹائر کی تیاری کی تاریخ کو چیک کریں، اور اس کے بعد سے چار سال تک کی مدت میعاد یاد رکهیں، تاکہ آپ اور آپ کے پیارے ہر سفر میں محفوظ ہوں۔  

درخواست: اس تحریر کو آپ بیشک اپنے نام سے آگے پهیلا‌ لیں‌۔ مگر اپنے پیاروں کے تحفظ کے لیے ان تک یہ آگاہی ضرور پہنچائیں۔ 
سب کا بھلا، سب کی خیر۔  ایک ہمدرد 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پاکستان سے جاتے وقت پیکنگ لازمی ہے


جمعہ، 19 جولائی، 2019

کالی مرچ ایک دلچسب کہانی !

  کالی مرچ جس کی تلاش میں انڈیا یورپ والوں کے ہاتھ آ گیا تھا  .




کیا آپ کو یہ معلوم ہے ۔۔ کہ کالی مرچ کہاں سے آتی ہے ۔۔ اور کس طرح پیدا ہوتی اور تیار کی جاتی ہے ۔۔ اس مسالے کی کشش یورپی قوموں کو انڈیا کھنیچ کر لائی تھی ۔۔ اور بالاخر وہ ہمارے حاکم بن بیھٹے تھے ۔۔کسی زمانے میں یہ اتنی قیمتی تھی ۔۔ کہ اسے کالا سونا کہا جاتا تھا ۔۔ اور مہمانوں کیلیے تیار کردہ کھانوں میں کالی مرچ کا استعمال میزبان کی دولت اور طاقت کا بلا انکار ثبوت تسلیم کیا جاتا تھا ۔۔ یورپ میں اس قیمتی اور نایاب مسالے کی ہر کسی کو تلاش تھی ۔۔ لیکن انکو یہ معلوم نہیں تھا ۔۔ کہ یہ کہاں پیدا ہوتا ہے ۔۔ اور اسے کیسے تیار کیاجاتا ہے ۔۔

اس کے متعلق وہاں کئ کہاوتیں مشہور تھیں ۔۔ جن میں سے ایک یہ تھی کہ اڑنے والےانتہائی زہریلے سانپ کالی مرچ کے جنگلوں کی رکھوالی کرتے ہیں ۔۔ اور مقامی لوگ جنگلات کو آگ لگا کر ان سانپوں کو عارضی طور پر بھگانے کے بعد اس مسالے کوحاصل کرتے ہیں ۔۔ جسکی وجہ سے اسکا رنگ کالا ہوتا ہے ۔۔ اور اسمیں آگ کا زائقہ پایا جاتا ہے ۔۔ کالی مرچ کا مقام پیدائش انڈیا میں کیرلا کے علاقے میں ہے ۔۔ جہاں یہ درختوں پر چڑھی ایک بيل پر سبز بیری کی صورت میں لگتی ہے ۔۔ یہاں کے لوگ ہزاروں سالوں سے ان بیریوں کو چن کر ان سے مسالہ تیار کرتے چلے آ رہے ہیں ۔۔

کئی صدیوں تک یورپ میں بیچنے اور اس سے بے شمار دولت کمانے والے صرف عرب تاجر تھے ۔۔ کیونکہ اس علاقے کا راستہ صرف وہی جانتے تھے ۔۔ اور وہ اپنے گاہکوں تک اس راز کو پہنچنے نہیں دے رہے تھے ۔۔ اور اوپر سے اس راز کو محفوظ رکھنے میں یورپی لوگوں کی بے بنیاد کہاوتیں بھی ان تاجروں کیلیے مدد گار ثابت ہو رہی تھیں ۔۔ اسطرح انہیں اس مسالے کی تجارت پر مکمل تسلط حاصل تھا ۔۔ لیکن اسکے ختم ہونے کا وقت زیادہ دور نہیں تھا ۔۔ یہ درختوں پر چڑھی ایک بيل پر سبز بیری کی صورت میں لگتی ہے ۔۔ تین دن کیلئے سبز بیریوں کودھوپ میں سُوکھا کر کالی مرچ تیار جاتی ہے ۔۔ اس مسالے کا یورپ میں استعمال رومن دور میں شروع ہوا تھا ۔۔ البتہ پندرویں صدی عیسوی کے دوران یورپی امیر گھروں کے کھانوں کے علاوہ کالی مرچ کا استعمال '' کالی موت '' یا طاعون کے علاج کیلئے بھی شروع ہوگیا ۔۔ جسکے پھیلنے سے وہاں لوگ بڑی تعداد میں مر رہے تھے ۔۔ اس قیمتی مال کی سخت ضرورت اور شدید مانگ کی وجہ سے 8 جولائی 1497 میں پرتگال نے اپنے سب سے اعلٰی سمندری جہازراں واسکو ڈ ی گاما کو کالی مرچ کے مَنبع کو تلاش کرنے کی مہم پر روانہ کیا ۔۔ واسکو ڈ ی گاما کا فلوٹیلا مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے سمندری ہواوں کی مدد سے افریقی ساحلوں کے کٹھن بحری راستے سے مئی 1498 میں انڈیا تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ۔۔

اسطرح اسے یورپ میں سب سے پہلے انڈیا تک سمندری راستہ تلاش کرنے کا مقام بھی حاصل ہوا ۔۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا ۔۔ کہ ڈاگاما کےاس کارنامے سے پرتگال کا جیک پاٹ نکل آیا تھا ۔۔ 1497 میں پرتگال نے اپنے سب سے اعلٰی سمندری جہازراں واسکو ڈ ی گاما کو کالی مرچ کے مَنبع کو تلاش کرنے کی مہم پر روانہ کیا ۔۔ واسکو ڈ ی گاما انڈیا پہنچنے سے پہلے یہاں بے دین جنگلی وحشی دیکھنے کی امید لگائے بیٹھا تھا ۔۔ جو بيکار یورپی اشیا کے بدلے اپنا کالا سونا با خوشی اسکے حوالے کر دیں گے ۔۔ جب ڈیگاما کیرلا کے شہر کوچی پہنچا ۔۔ تو اس کے بالکل برعکس لوگوں کو بہت دولتمند پایا ۔۔ دور دور سے عرب، چینی اور کئی دوسرے تاجر صدیوں سے اس ہر دیسی مرکز پر تجارت کیلئے آ رہے تھے ۔۔

پندرہیویں صدی میں کیرلا کیلیےکالی مرچ وہی مالی مقام رکھتی تھی ۔۔ جو آجکل گلف کی ریاستوں کیلئےتیل رکھتا ہے ۔۔ واسکو ڈ ی گاما کے کیرلا میں آنے کے آٹھ سال کے اندر ہی پرتگال نے اس علاقے میں اپنے قدم اچھی طرح سے جما لئے تھے ۔۔ انہوں یہاں ایک قلعہ بھی تعمیر کر لیا تھا ۔۔ جہاں انہوں نے انڈیا میں اپنے پہلے وائسرائے کو مقیم کیا دیا ۔۔

سولہویں صدی کے آغاز سے پہلے ہی پرتگالی مسالوں کی تجارت میں سب سے آگے نکل چکےتھے ۔۔ اور جو مال وہ تجارت سے حاصل نہیں کر سکتے تھے ۔۔ اپنی طاقت سے چھین لیتے تھے ۔۔ کالی مرچ کی خاطر پرتگال نے انڈیا کے مسالے والےساحلی علاقوں کو اپنے محاصرہ میں لےلیا تھا ۔۔ ایک مرتبہ جب انہیں یہ یقین ہو گیا ۔۔ کہ انڈیا میں کالی مرچ کی تجارت اب انکے مکمل قابو میں ہے ۔۔ تو انہوں نے اپنی توجہ دوسرے مسالوں کو ڈھونڈنے کی طرف کر دی ۔۔

ان کی تلاش کیلیے اگلا مسالہ دار چینی تھا ۔۔ جو سولویں صدی کے یورپی امیر لوگوں میں بے حد مقبول تھا ۔۔ یہ کالی مرچ سے بھی زیادہ نایاب تھا ۔۔ اور اسکا منبع بھی انکے لئے نامعلوم تھا ۔۔ کیرلا کے آس پاس کے سمندر میں عرب تجارتی جہازوں پرمسلسل چھاپوں میں انہیں بار بار ان پر لدے مال میں دار چینی مل رہی تھی ۔۔ اسلئے انہیں شک تھا ۔۔ کہ یہ مسالہ کہیں آس پاس ہی پایا جاتا ہے ۔۔ لیکن کیرلا کے سمندر سے آگے کے علاقے سے وہ بلکل ناواقف تھے ۔۔

1506 میں پرتگالی ایک عربی جہاز کا پیچھا کرتے ہوئے طوفان میں راستہ بھٹک گئے ۔۔ اور انہوں ایک انجان ساحل پر پناہ لی ۔۔ یہ سری لنکا کا ساحل تھا ۔۔ اور دار چینی یہاں ہی پائی جاتی تھی ۔۔ اور یوں انہیں دار چینی کا منبع بھی مل گیا ۔۔ کالی مرچ اور دار چینی جیسے مسالے دینا بھر میں کھانے کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیوں کے باعث بنے ہیں ۔۔ اور آج بھی مقبول ہیں ۔۔ لیکن انکی تلاش نہ صرف ہماری تاریخ کا رخ بدلنے کا باعث بنی ۔۔ بلکہ اس نے جدید دینا کی شکل بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔۔ ان مسالوں کی مدد سے شہنشاہی سلطنتیں بنیں اور ٹوٹیں ۔۔ انکی خاطر قوموں کی آزادی چھن گئی ۔۔ اور قتل و غارت میں بے شمار انسانی جانوں کا نقصان ہوا ۔۔

کالی مرچ اور دار چینی دو معمولی سے مسالے اور ایک غیر معمولی ماضی کے مالک جن کی تلاش سے یورپی لوگوں کے دولت سے خزانے بھر گئے لیکن جن لوگوں نے انہیں اپنی محنت سے بنایا ۔۔ انکو اور انکی قوم کو اسکے بدلے میں کیا حاصل ہوا ؟؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 17 جولائی، 2019

میں پلاسٹک نہیں

بائیو کیساوا   بیگ

cassava  پودے کی جڑوں کے starch یا 

  یا  شرمپ  کی باقیات  سے بنا ہوا ،


 ماحول دوست شاپر ، جو  ایسٹ تِمور کے ہر سپر سٹور پر دستیاب ہیں ۔
 

 پانی لگنے کے بعد ، بغیر بدبو کے گلنا شروع ہوجاتا ہے۔ جو پلاسٹک فری ماحول کے لئے   ,، انڈونیشیاء میں پائے جانے والے پودوں کی جڑوں سے بنایا جاتا ہے ۔
 یہ تمام اشیاء اب بائیو کیساوا  کے سٹارچ سے بنائی جا رہی ہیں اور  اپنے بچوں کے مستقبل کی محافظ دنیا اسے استعمال کر رہی ہے سوائے پاکستان کے ۔

کہا جاتا ہے کہ دنیا میں ایک ٹریلیئن پلاسٹک   ہر سال استعمال کئے جاتے ہیں ، جو کبھی نہیں گلتے ۔
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
.

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔