میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 15 جولائی، 2019

مصیبت میں مددکے لئے پِھرکی کی طرح سر گھمانا

  روح القدّس نے  محمدﷺ    کو ایک  ٹھوس بات بتائی ، جس میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی :


إِنَّ اللَّـهَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًا ﴿33:64 
خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ لَّا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ﴿33:65
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جب انسان اپنی حماقت سے کسی کے کہنے پر ایسا قدم اُٹھاتا ہے کہ جس میں نقصان کا چانس یقینی ہوتا ہے تو وہ عقلمندوں کی بات نہیں مانتا اور پھنس جاتا ہے ، اور 
پھر مصیبت میں گرفتار ہونے والا، دائیں بائیں کسی مدد کے لئے، جس بے چینی سے دیکھتا ہے اور واویلا کرتا ہے اور پھر
 جس نے اُسے روکا تھا  اُسے یاد کرتا ہے اور جس نے اُس کی جھوٹی ہمت بڑھائی اُس کو تمام بُرے القاب   جو ازبر ہیں سناتا ہے۔

  روح القدّس نے اللہ کی آیت میں محمدﷺ   فصاحت سے الْكَافِرِينَ   پر اللہ کی لعنت کی تفصیل بتائی :
 يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا ﴿33:66  
٭ - یہ بھی بتایا کہ یہ کیا واویلا کریں گے :
 وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا ﴿33:67 
 ٭ -الکافرین، اپنے     سادات اور  اکابر کو  کیسے بدعائیں دیں  گے :
  رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا ﴿33:68 

 ٭ -  الَّذِينَ آمَنُوا کو کِس الرسول کا نام لے کر نصیحت کی :
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّـهُ مِمَّا قَالُوا ۚ وَكَانَ عِندَ اللَّـهِ وَجِيهًا ﴿33:69 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ﴿33:70 

 ٭ -  مُوسَىٰ کو اذیت نہ دینے  اور قَوْلًا سَدِيدًا    (ٹھوس بات)کہنے پر کیا اجر ملے گا ؟
يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ 
وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ﴿33:71


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔