میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 30 جولائی، 2019

جنٹلمین محترمہ فاطمہ جناح




31 جولائی 1893 کو جناح بھائی پونجا اور میٹھی بائی کے گھر میں چھ بچوں ، محمد علی ، احمد علی ، بندے علی ، رحمت علی ، مریم اور شیریں کے بعد پیدا ہونے والی فاطمہ ۔ 1901 میں یتیم ہو گئی ۔
 25 سالہ ، بڑے بھائی محمد علی جناح پونجا نے بطور خاندان کے سربراہ ، 1902 میں باندرہ کانوینٹ بمبئی میں داخلہ دلوا دیا اور ننھی فاطمہ ، نو سال کی عمر میں وزیر مینشن سے کانوینٹ ہاسٹل میں شفٹ ہو گئی ۔
 اپنی تعلیمی قابلیت کو بڑھاتی ، فاطمہ نے بالآخر اپنی تعلیم مکمل کی اوریونیورسٹی آف کلکتہ کے زیر اہتمام چلنے والے ڈاکٹر آ ر احمد گورنمنٹ ، ڈینٹل کالج کلکتہ میں داخلہ لے لیا ۔
 1923 میں ، یہاں سے ڈینٹل سرجن کی تعلیم بعد ، بمبئی کے نزدیک میں دھوبی تلاؤ (تالاب) میونسپل کلینک میں جوائن کر لیا اور اپنا کلینک بھی کھول لیا ۔بھابی کی وفات کے بعد ، 1929 میں ، فاطمہ نے اپنا کلینک بند کیا  اور بھائی کے بنگلے  میں شفٹ ہو کر بھائی کے گھر کا انتظام سنبھال لیا ۔
بھائی کو ہندوستان کے مسلمانوں نے 1909  میں  ڈھاکہ میں   بننے والی آل انڈیا مسلم لیگ   میں شامل کیا  ، تو بھائی کی مددگار بن گئی ۔ ہندوستانی سیاست کی اونچی نیچی گذرگاہوں پر بھائی کے ساتھ سفر کیا ۔
1947 میں پاکستان بنا  ، آل انڈیا مسلم لیگ کے  بطن سے ، پاکستان مسلم لیگ وجود میں آئی ۔  قائد اعظم نے  ،  وومن ریلیف کمیٹی بنی ۔ رعنا لیاقت علی خان نے    آل پاکستان  وومن ایسوسی ایشن بنائی ۔  مہاجروں کی سٹیلمنٹ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔
بھائی کے انتقال کے بعد ،1951  میں عوام سے اُن کے پہلے ریڈیو پر خطاب کے بعد  لیاقت علی خان حکومت نے اُنہیں عوام سے  خطاب کے حق سے محروم کر دیا  اور وہ گوشہ نشین ہو گئیں ۔
 1955 میں اُنہوں نے اپنی کتاب " میرا بھائی " لکھی جس کو اِس بنیاد پر نہیں چھاپا گیا کہ اُس میں  اینٹی نیشنل مواد شال ہے ، جو 1987 میں چھپی ۔ 

1958  کے فوجی انقلاب کے بعد ، جب دیکھا کہ ایوب خان نے پاکستان کی سیاست  کو ختم کرنا شروع کر دیا ہے ، جس خا خواب اُس کے بھائی نے دیکھا تھا ، تو  یکم جنوری 1960 میں ، مادرِ ملّت کا لقب پانے کے بعد ، پاکستان مسلم لیگ کا آفس سنبھالنے کے بعد  ، فوجی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف زبان کھولنا شروع کر دی ۔
پاکستان جیسے ملک میں ، سیاسی پرخاش کے فساد کی ابتداء اگر کہیں کہ 1964 سے شروع ہوئی تو غلط نہ ہوگا ۔ اِس سے پہلے کے اگر انتخاب پر نظر ڈالیں ، تو 1947 کے آزادی کے ریفرنڈم میں کوئی سیاسی پرخاش نہ تھی جس پیمانے پر اب شروع ہوئی ہے ۔ عوام کو جھوٹے وعدوں کی امید دلانا اور حکومت کی اچھائیوں کو چھپا کر بُرائیوں کو محدب عدسے کے نیچے دکھانا، بلکہ یوں کہیں کہ مغربی ملکوں کی جمہوریت جو پڑھے لکھے لوگوں میں مروّج تھی وہ پاکستان کی اَن پڑھ عوام میں دھوم دھڑکوں سے اُکسا کر رائج کرنا ایک اچھا رجُحان نہ تھا ۔
 پاکستان کے قیام کے لئے ، یک مقصد نعرہ " مسلم ہے تو مُسلم لیگ میں آ " ایک مکمل اور جامع نعرہ تھا ، جو علی گڑھ کے نوجوانوں نے ایجاد کیا تاکہ ہندوؤں سے علیحد ہ تشخّص بنایا جائے ۔
جبکہ وہ لوگ کو خود کو دیگر مسلمانوں ، راہِ راست سے بھٹکا ہوا سمجھتے اور خُود کو راہ راست پر پابند مسلمان سمجھتے ، اُنہوں نے ، اِس نعرے کو ایک کان سے سنا اور دوسرے کان سے اُڑا دیا ۔ اور اُن کے فہم کے مطابق ، راہ راست سے بھٹکے ہوئے لوگ مسلم لیگ کی چھتری تلے آگئے ۔ اِن لوگوں نے دبے دبے لفظوں میں ، میڈیا کو استعمال کر کے ، کافرِ اعظم کی قیادت قبول کرنے کا شوشہ بھی چھوڑا ۔ 
رہی محترمہ فاطمہ جناح ، وہ تو تھی بہن، لیکن 1964 میں بڑی بُرائی (ایوب خان مسلمان) سے چھوٹی برائی ( کافر کی بہن) کو اُنہی جماعتوں نے اپنا لیڈر بنا لیا ۔
 ایوب کا دعویٰ کہ وہ بنیادی جمہوریت کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور پرسکون انداز میں پاکستانیوں کی زندگی گذر رہی ہے ، ہر طرف سب اچھا کی رپورٹ ہے ، کے جواب میں فاطمہ جناح نے کہا:
 " یہ کونسی جمہوریت ہے؟ ایک آدمی کی جمہوریت یا پچاس آدمیوں کی جمہوریت؟ "
جب ایوب نے کہا کہ ان کی شکست ملک میں دوبارہ بد امنی پیدا کر دے گی تو فاطمہ جناح نے کہا: " آپ زبردستی، اتھارٹی اورڈنڈے کے زور پر ملک میں استحکام پیدا نہیں کر سکتے"


  لیکن کہا جاتا ہے کہ ،  فاطمہ جناح  نے ایوب خان سے تنگ آئے ہوئے لیڈروں کے اُکسانے پر ،  ایوب خان سے الیکشن کروانے کا مطالبہ کر دیا تھا ۔

2  جنوری 1965ء کو  محترمہ فاطمہ جناح اور صدر ایوب کے درمیان انتخابات ہوئے ۔ایوب خان نے فاطمہ جناح کو بھارتی اور امریکی ایجنٹ قرار دے دیا تھا۔ سکیورٹی اسٹیبلیشمنٹ کا یہ آزمودہ حربہ ہے۔ایوب خان  نے فاطمہ جناح کے بارے میں اس موقع پر کہا:

" لوگ انہیں مادر ملت کہتے ہیں اس لیے انہیں مادر ملت ہی بن کے دکھانا چاہیے" ۔

کیوں کہ ، ایوب خان کو پریشان کرنے والی بات یہ تھی کہ فاطمہ جناح پینٹ میں بہت دلکش دکھائی دیتی تھیں۔
 فاطمہ جناح جتنا زیادہ صدر ایوب پر تنقید کرتیں عوام اتنا  ہی انہیں سپورٹ کرتے۔آخری ہفتے تک جب صدارتی الیکشن صرف چند دن کی دوری پر تھے ، ان کی اپوزیشن اس قد ر عروج پر پہنچ گئی کہ انہیں اس قدر مخالفت کا سامنا پچھلے چھ سال ملا کر بھی نہیں کرنا پڑا۔
کوثر نیازی نے  روایات کا سہارا لے کر عورت کی سربراہی کو مسلمانوں کے لئے نحوست قرار دیا ۔

فوجی چھڑی کے مقابلہ میں ۷۱ سالہ سفید بالوں والی فاطمہ جناح پانچ مختلف سیاسی جماعتوں کی متفقہ امیدوار تھیں، کیوں کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن تھیں جن کی بدولت پاکستان کوآزادی ملی تھی۔انتخابی نشان لالٹین تھا -
 لیکن پاکستانی عوام کا فاطمہ جناح کی طرف سے حکومت پر حملوں پر رد عمل بہت حیران کن تھا-

ویسے تو ہمارے الیکشنوں کے بڑے کمالات ہیں۔ یہاں مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ ساتھ ہمارے غیر ملکی مہمان، پاکستانی شہریت نہ ہونے کے باوجود، بہت سے حلقوں میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

 حزب مخالف کے سیاستدانوں کو اس بات کا مکمل یقین تھا کہ محترمہ کامیاب ہوں گی۔
 لیکن الیکشن کمیشن نےصدر ایوب کامیاب قرار دے دیا ۔
اور پاکستان کے الیکشنز میں " جھرلو " کی اصطلاح مستحکم ہو گئی ۔ 

فوج نے پاکستان میں ایمانداری سے الیکشن کروانے کے لئے قدم رکھ دیا ، بہت بُرا کیا ۔
یوں پاکستان کے وزیر اعظم، فوج کے ہاتھوں  سلیکٹ ہونے لگے  ۔

اپنی فوجی سروس کے دوران میں نے ، 1984 کا ریفرنڈم ، 1985 کا الیکشن ، 1988 کا الیکشن،  اِن میں سکیورٹی کی ڈیوٹی کپتان اور میجر کی حیثیت سے انجام دیں ۔ 1990 اور 1997 کے الیکشنز  ،  الیکشن کمیشن کی پُرامن الیکشن کروانے میں مدد کی ۔
 میڈیا اور ہارے ہوئے  نمائیندوں نے خوب دھول اُٹھائی۔
 لیکن اللہ کا شکر ہے کہ، اپنی بساط کے مطابق کسی قسم بدامنی نہیں ہونے دی ۔  
لیکن میں نے، بذاتِ خود، الیکشن کمیشن   کے مقامی مددگار نمائیندوں کی طرف سے جھرلو پھرتے بھی دیکھا ، پنکچر لگتے بھی ، یہاں تک کہ   ایمانداری ہے  ، بیلٹ بکس بدلتے بھی ۔
٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔