میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 31 جولائی، 2019

ہم، پاکستانی فوجی

آئیے آپ کو پہلے  پاکستانی ہندو    ڈاکٹر ، میجر کیلاش  گراودا  ، سے ملاواتے ہیں جو ، تھر پارکر  کے ریگستانی علاقے کا رہنے والا ہے ۔
 ڈاکٹر کیلاش  نے ، جام شورو حیدر آباد  کے لیاقت میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس  سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی اور پاکستان آرمی  میڈیکل کور میں بطور کیپٹن  کمیشن لیا ۔
آپ کو یاد ہو کہ   2000  ء     سے پاکستان آرمی میں  سکھ    اورعیسائی جوان و آفیسر شامل ہو کر ملک کی حفاظت کر رہے ہیں ۔
میجر ڈاکٹر کیلاش  نے  برمنگھم یونیورسٹی ہسپتال سے  ایمرجنسی میڈیسن میں کورس کیا اور   تھرپاکر کشمیر ، گلگت بلتستان اور ہنزہ میں پاکستان آرمی کے فری کیمپس میں شامل ہو کر عوام کی خدمت کی ۔
فوجی زندگی کے شروعات میں  ڈاکٹر میجر کیلاش نے ۔ آپریشن المیزان  (اورکزئی ایجنسی ) وزیرستان اور راہِ نجات  سوات  اور سیاچین  میں  پاکستان آرمی کے جوانوں کے شانہ بشانہ ملک کی خدمات سر انجام دیں۔
 فوج کی طرف سے ملنے والے امتیازات:

٭- تمغہءِ بقاء 
٭- تمغہ ءِ عظم 
٭- تمغہءِ دفاع  (سیاچین )  ۔ بالتورو سیکٹر میں سیڈل پیک  جو 22 ہزار فٹ بلند منجمد علاقہ ہے وہاں 36 دن  ، ملک کی حفاظت کے لئے جوانوں کے ساتھ  گذارے ۔
٭- تمغہءِ یو این ( امن  مشن) ۔    امن  مشن کے سلسلے میں ایک سینئر آ فیسرکے سٹاف آفیسرز  کے طور پر گذارے  اور یوگنڈا ، مصر ، سپین ، فرانس نیدر لینڈ ، بلجیئم ، اٹلی ، سوئٹزر لینڈ اور اٹلی  میں، بطور  یو این کے نمائندے دورے بھی کئے ۔ 
٭- تھرپارکر  میں پلنے  اور بڑے ہونے کی وجہ سے  ، سندھ کی مکمل تاریخ  کی واقفیت کی کی بناء پر یو این اور میں وادئءِ مہران کی تہذیب پر ، یو این کی نمائیندوں کو ایک فصیح و بلیغ لیکچر دیا ۔


ہمیں اپنے افسروں اور جوانوں پر فخر ہے ۔ 

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔