میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 4 جولائی، 2019

جنسی بے راہ روی کے پھیلاؤ کو ذمہ دار کون؟

 عریبہ بانو  عرف زلیخہ سندس ایک  صاحبہ ، عقل و دانش ،   فہم و فکر ، شعور اور تدبّر نے بالا پوسٹ اپنی  فیس بک پر پوسٹ کی ، لیپ ٹاپ کھولا تو پہلی  پوسٹ  یہی نظر آئی ، لائک کا بٹن دبایا  اور کمنٹ پڑھے ۔ 

ایک نوجوان کے کمنٹ :


جس نے جواب لکھنے پر مجبور کیا ، ہوسکتا ہے کہ بہت سے دوست میرے جواب سے متفق نہ ہوں ، لیکن،
 67 سالہ بوڑھا   ایک وسیع تجربے کے ساتھ ، اللہ کی آیات ( الکتاب کی آیات اور کتاب اللہ کی آیات  )  کو اپنے سامنے  رکھا کر اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے فہم سے جواب لکھتا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

  جب ، ہالی وُڈنہیں تھا ، بالی وُڈ نہیں تھا یا لالی وُڈ نہیں تھا ۔ 
سلیم عالم خان :
جنسی بے راہ روّی عام تھی ، نوجوان ، ادھیڑ عمر اور ہماری عمر کے لوگ اپنی جنسی بے راہ روّی کو سکون پہنچانے کے لئے ، وہاں آفاقی کموڈ کی طرف جاتے تھے جسے ضیاع الحق نے اسلام کے نام پر ختم کرکے 1978 میں گلی محلّوں میں پھیلا کر اللہ کی ایک آیت کو ،مِن دون اللہ آیت بنادی ۔ اور ایمان والوں نے بھی ، مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ بن کر يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ ہو گئے ، اور مفتیان الوقت نے فتاوے دینا شروع کر دیئے کہ،
 انسانی سنڈاس خانے میں داخل ہونے والا ایجاب و قبول بھی کرتا ہے اور متاع بطور اجازتِ داخلہ بھی دیتا ہے ،
 سلیم عالم خان : یہ شاید آپ کے لڑکپن کا قصص ہے ۔ کہ :
 جنسی بے راہ روّی کے کموڈ کی صفائی کے لئے جو عورتیں مامور من الشیطان کی جاتیں اب وہ گلی محلٗوں میں نقاب پوش بن کر ، نقاب پوش پاکباز عورتوں کے لئے تہمت بن  چکی ہیں ۔

  یہی وجہ ہے ، کہ:
 برقعہ ، پرویزیوں اور ملحدوں کے لئے انسانی سنڈاس کا نشان بن گیا ،
جو پاک باز عورتوں کو اپنی حیلہ جوازوں اور شیطانی چالوں سے مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ بنانے کی کوششوں پر کمر بستہ ہیں ۔
 1- عورت ترقی نہیں کر سکتی ۔
 2- عورت تعلیم حاصل نہیں کر سکتی -
3-عورت محصور ہو جاتی ہے ۔
 4- عورت مرد کی جنسی غلام ہی رہتی ہے ۔
بالآخر عورت عضو ناقص بن کر بچوں کی پیدائش کے لئے ہی رہ جاتی ہے ۔


یہ پکچر مجھے کل وٹس ایپ ہوئی میں نے پکچر میں جو کمنٹ لکھا ہے،
کہ زارا وسیم (ایک مسلمان لڑکی) نے ایمان بچانے کے لئے برقہ پہنا ، نہیں میری رائے میں ایک مسلمان لڑکی ، کفر میں گئی اب واپس ایمان میں آئی ، فلم انڈسٹری چھوڑی اور خود کو ایک مسلمان ظاہر کرنے کے لئے حجاب لیا تاکہ حرامیانِ جنس اِسے واپس   مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ  بنانے یا ہراساں کرنے کے لئے نہ اکسائیں اور یہ پاگل کُتوں سے بچنے کے لئے ، واپس اُسی خول میں کچھوے کی طرح چلی گئی ۔ اور،آپ متفق ہوں یا نہ ہوں !
 میرے خیال میں ہر اُس عورت کو اُسی خول کی پناہ لینا چاھئیے ، اگر اُس کے ارد گرد حرامیانِ جنس بستے ہوں ۔ 
یا پھر حکومت ایسے حرامیانِ جنس کے گلّے میں کانٹوں والا پٹہ ڈالے ، تاکہ معمولی سا کھنچاؤ اُس کی جنسی بے راہ روّی کو خوف کے سیلاب میں بہا لے جائے ۔
اللہ کے حکم  کے مطابق، نکاح،   مرد اور عورت کا جنسی فعل اللہ کی آیت ہے ۔ [7:189]
جس کی وجہ سے میں اور آپ  اِس دنیا میں موجود ہیں ۔ 
اللہ کی ہی آیت کے مطابق،   زنا   ،  أَخْدَ اور سَافِحَ  ، مرد اور عورت کا جنسی فعل  شیطان کا اکسانا ہے اللہ کی آیت ہے ۔( 17:32)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔