میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 11 جولائی، 2019

مغرب وسطیٰ کی طرف سفر کی تیاری

اپریل کے پہلے  ہفتے میں ،  چم چم کی ماما نے بتایا کہ اُس کا روم کا ایک دو ماہ کا کورس آرہا ہے ، لہذا وہ چم چم کو روم کی سیر کروائے گی ۔ 
12 اپریل کو چم چم کے سالانہ امتحان تھے ، اُس نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ اٹلی زبان کے بنیادی الفاظ بھی سیکھنا شروع کردیئے ۔ 
یہاں تک تو ٹھیک تھا ، لیکن ہنگامہ اُس وقت پیدا ہوا جب چم چم کی ماما نے دھماکہ کیا کہ
بوڑھے اور بڑھیا   کو بھی ساتھ جانا ہو گا ۔

 چم چم نے گرہ لگائی ،" نانو آپ نے وہاں استغفراللہ نہیں پڑھنا "
بوڑھے اور بڑھیا میں   کچھ بحث ہوئی ، بیٹی کو بوڑھے نے کہا ،
"ایسا کر و،کہ آپ پاکستان آجاؤ اور عالی کو لے کر روم جاؤ ، میں اور ماما وہاں جاکر کیا کریں گے سوائے کمرے میں بند رہنے کے !!!"
" پپا ، بات ختم آپ لوگ اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ چیک کریں اگر ایکسپائر ہو رہے ہیں تو نئے بنوائیں ۔ میں ضروری کاغذات ای میل کرتی ہوں ، آپ ویزے کے لئے ایپلائی کردیا" چم چم کی ماما نے حکم سنایا ۔
" یہ آپ باپ اور بیٹی اپنی کیوں چلاتے ہیں دوسرے کی کیوں نہیں سنتے ؟؟" بڑھیا غصے میں بولی ۔
بوڑھا سوچ میں پڑھ گیا ۔ جب سوچ سے اٹھا تو اپنے کمرے میں گیا ، اپنا بڑھیا اور چم چم کا پاسپورٹ دیکھا ، ٹھیک تھے۔ بوڑھے کا   شناختی کارڈ تاحیات تھا ، ہاں بڑھیا کا 30 اپریل کوختم ہورہا تھا ۔  
3 اپریل کو دوپہر کو سو کر اٹھا  تو ایسا لگا منہ میں زبان سوج گئی ہے  ۔  بڑھیا  نے پوچھا ،
" آپ کی زبان کو کیا ہوا  کوئی الفاظ سمجھ نہیں آرہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ چوہدری شجاعت کی نقل اتار رہے ہیں "۔

" میں تو صحیح الفاظ ادا کر رہاہوں ، تمھارے شائد کان خراب ہو ہے ہیں ۔" یہ کہہ کرگالف کھیلنے گاڑی لے کر نکل گیا ۔
وہاں  بریگیڈئر انعام الحق نے ، تشویشاً پوچھا ،" چیکو بھائی یہ آپ بولنے میں لڑکھڑا کیوں رہے ہیں ؟"
تب احساس ہوا کہ ڈاکٹر کے پاس جانا چاھئیے ۔ خیر نیورو فزیشن ، سی ٹی سکین  اور ڈاپلر ٹیسٹ کے بعد گولیوں میں مزید دو گولیوں کا اضافہ ہوگیا ۔



  ہفتے بعد زُبان لوٹ پوٹ کر پھر پتلی ہوگئی ۔ لیکن بیٹی نے حکم دیا کہ آپ گاڑی نہیں چلائیں گے اور کریم پر باہر جایا کریں گے ۔
اُسے بتایا کہ میری گاڑی اتنی جدید نہیں کہ وہ  ، چم چم کے آئی پیڈ کی طرح زُبان سے چلے ۔

   اسلام آباد نادرہ کے آفس جانے کا پروگرام بنا ۔  جو وہاں کام کرنے تھے اُن کو ایک کاغذ پر لکھا :
٭- بڑھیا کے نادرہ شناختی کارڈکی تجدید۔
٭-بوڑھے اور بڑھیا کا فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ   (بمع چار نوجوان بچوں کے )،
٭- چم چم کا  
فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ  ،
چنانچہ جب 10 اپریل کو  گھر سے  نادرہ آفس جانے کے لئے چھوٹی بیٹی نے کار بمع ڈرائیور بھجوا دی ۔
جب ہم  بلیو ایریا کی طرف   جارہے تھے تو چم چم اپنے رات کے خواب ،اٹلی میں ماما کے ساتھ روم میں گھومنے کی داستان   بلا تکان  سناتی رہی ،  بوڑھا اور بڑھیا اپنی اِس چہکتی بُلبل کو مزے سے  سنتے رہے ،نادرہ کے آفس جاکر چُپ ہوئی ۔
 نادرہ آفس میں خاتون نے بتایا ، کہ باہر جانے کے لئے ڈیجیٹل شناختی کارڈ لازمی ہے ۔
ارجنٹ شناختی کارڈ کے دو ٹوکن لئے اور انتظار کے لئے بیٹھ گئے ۔
تما م معلومات نئے سرے سے دینا پڑی کیوں کہ نادرہ کے دوسسٹم آپس میں گلے نہیں ملتے ، کیوں ؟ 
شاید نادرہ جعلی شناختی کارڈز  کو پکڑنے کے لئے  یہ جال بچھایا ہے ، جس کے لئے ڈیجیٹل شناختی 
کارڈ  میں رجسٹر  کسی خاندان کے فرد کا شناختی نمبر بتانا لازمی ہے ، چنانچہ چھوٹے بھائی کا نمبر بتایا یوں ہمارا ڈیٹا  کمپیوٹر کی سکرین پر نمودار ہوا ۔
 ہمیں تین دن کی خوشخبری سنائی ، مگر ہفتہ گذرگیا کوئی معلومات نہیں ، انکوائری کی سرنگ سے گذرتے ہوئے ہمیں ایک مرددانا نے ، ایک نمبر بتایا جس پر کوئی ایکسچینج نہیں تھی ، لہذا فوراً دفتر بلوایا گیا ، جہاں کاغذوں پر دستخط لئے گئے ۔
اور دوسرے دن یعنی 30 اپریل کو نادرہ کا ڈیجیٹل کارڈز ہمارے ہاتھ میں تھے ۔
6  مئی کو بوڑھا ،بڑھیا اور چم چم  چک شہزاد سے آگے ۔ گیری ویزہ سروسز کے آفس گئے ۔  یہ تو آب پارہ اور جی نائن ون سے ترقی ہوئی جو نہایت اعلیٰ تھی ۔
موبائل اور بیگ جمع کروانے کے بعد سکیورٹی چیک سے گذرتے  انفارمیشن ڈیسک پر پہنے جہاں سے اٹلی ویزہ سروس کاونٹر کا ٹوکن ملا ۔ جو یوں سمجھیں ۔ 25 افراد کے بعد تھا ۔ 
انتظار شروع ہوا ۔ باالاآخر نمبر آیا ایک مستعد نوجوان اویس نے ، کیس سنا تمام معلومات اور کاغذات دیئے ۔ پوچھا کہ چم چم کے امتحان ہورہے ہیں آئیندہ حتمی پیپرز بمع اپلیکیشن جمع کروانے کے لئے اِس کی موجودگی ضروری ہے اُس نے کہا نہیں ، ہاں البتہ پاسپورٹ واپس لینے کے لئے نہیں ۔ 
اٹلی کے ویزہ کے لئے لوازمات  (Italy Visa Application Requirements)
اب ہمیں جو حتمی پیپرز جمع کروانے تھے ۔ اُن میں :
1-تمام پرانے پاسپورٹ اور اُن کے پہلے اور دوسرے صفحات کی دو فوٹو کاپیاں۔

2- ڈیجیٹل شناختی کارڈ کی دو   کاپیاں ۔
3-تازہ  سفید بیک گروانڈ پر کھینچی ہوئی دو عدد تصاویر ۔ 
4-پولیو ویسکینیشن کارڈ     ( پولی کلینک ہسپتال سے ) 
5- 30 ہزار یورو کی ٹریول انشورنس (عسکری انشورنس گیری آفس سے لی )
6- آنے جانے کا ریٹرن ٹکٹ ۔ (  بلا ل ٹریول  سے لیا )
7۔ 6 ماہ کی بنک سٹیٹ منٹ  ساتھ لگائیں ۔
8- روم سے بیٹی کی کمپنی کا انوٹیشن لیٹر ۔
9- روم میں رینٹ پر لئے گئے اپارٹمنٹ  یا ہوٹل رہائش  کا لیٹر ۔
10- بیٹی کی طرف سے گارنٹی لیٹر۔
11-   ویزہ فیس  - (Visa Fees At A Glance)
12- مکمل بھرا ہو ا   اٹلی ویزہ درخواست فارم ۔ (Italy Visa Application Form) 
 13- ویزہ  فیس:  بالغ 70 ڈالر ، 6 تا 12 سال کے بچے  41 ڈالر  اور 6 سال سے کم کوئی فیس نہیں ۔
درخواست جمع کروانے کا طریق کار
(
Submission Procedure)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔