میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 31 جولائی، 2019

میاں بیوی کے جسمانی تعلقات کا یکسر خاتمہ

 سلیم اللہ یوسف زئی :
 جس طرح مرد کا تین مرتبہ طلاق طلاق طلاق کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے جس طرح لڑکی کی تین مرتبہ قبول ہے قبول ہے قبول ہے سے نکاح ہو جاتا ہے ۔
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
 آپ کی بات ، اِس لحاظ سے درست ہے ، کہ مرد نے غصے میں ، اپنی بیوی کے پاس نہ جانے کی وجہ سے " طلاق ، طلاق اور طلاق" کہا ، یعنی آج کے بعد میں تجھ سے جنسی تعلق نہیں رکھوں گا ۔  
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یعنی میاں بیوی  کے جنسی  تعلقات کا یکسر خاتمہ۔
لہذا روح القدّس نے محمدﷺ کو ایسے شخص کی جاہلیت کو ہدایت کی طرف لانے کے لئے اللہ کی طرف سے ھدایت بتائی۔ 

لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَآؤُوا فَإِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ [2:226]

کہ شوہر کو  آخری حد چار ماہ تک بیوی سے رَبُّصُ  رہنے کا کہا ہے ،
 اگر وہ چار ماہ کے اندر واپسی کا میلان رکھتے ہیں تو بہتر وگرنہ ، اُنہیں اب ۔
 عزمِ الطلاق (طلاق نہیں) کرنا پڑے گا ۔
 وَإِنْ عَزَمُواْ الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ [2:227] 
اب یہ عزم الطلاق ، أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ کے اندر ہے یا اُس کے بعد ۔
 میرے فہم کے مطابق یقیناً أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ کے بعد ہے ۔ 

اِن أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ کے دوران وہ تمام کاروائی ہو گی جو میاں بیوی کو جدائی سے بچانے کے لئے اللہ نے الکتاب میں درج کر دی ہے ۔

 کچھ لوگوں کا فہم ہے کہ عزم الطلاق ، ہی دراصل پہلی الطلاق ہے ۔
 جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ 
مرد کے عزم پر فیصلہ،  الطلاق کا نفاذ کروانے والا حاکم کرے گا ۔
 تب الطلاق کا پہلا دن شروع ہو گا ۔ 

روح القدّس نے محمدﷺ کو الطلاق کے سلسلے میں اللہ کا حکم ِ مفصل بتایا ۔
 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّـهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا ﴿65:1﴾ 
بالا دیا ہوا فیصلہ النبیﷺ کو اللہ کا حکم ہے  ، اُن  النساء (ازواج النبی نہیں)  کے لئے  ، جو  دیگر مردوں کی نساء ہیں ! 

روح القدّس نے محمدﷺ کو الطلاق کی عدت کے سلسلے میں ، عورتوں کے لئے اللہ کا حکم ِ مفصل بتایا ۔
 وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُواْ إِصْلاَحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكُيمٌ [2:228]

 روح القدّس نے محمدﷺ کو الطلاق کی عدت کی بلوغت کے بعد مرد کے لئے اللہ کا حکم بتایا : 
فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّـهِ ۚ ذَٰلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ﴿65:2﴾ 
حلال و حرام کے بارے میں ، روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ  کی حدود بتائیں: 
 پہلی  حد اللہ :
 الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ 

دوسری   حد اللہ :
 وَلاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُواْ مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلاَّ أَن يَخَافَا أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ 

 تیسری حد اللہ :
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ

 تِلْكَ حُدُودُ اللّهِ فَلاَ تَعْتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللّهِ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ [2:229] 
 دوسری حد  اللہ  یا تیسری  حد اللہ ۔ میں سے کسی ایک کے انتخاب کے بعد،

چوتھی  حد  اللہ :
 فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ 

 پانچویں   حد اللہ :

 فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ 

وَتِلْكَ حُدُودُ اللّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ [2:230] 

روح القدّس نے محمدﷺ کوالکتا ب ،  کتاب اللہ  کے بارے اللہ کا حکم بتایا :

وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّـهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿2:101

  روح القدّس نے محمدﷺ کو قصص الانبیاء سے،مرد اور اُس کی زوجہ کے درمیان     تفریق ڈالنے والوں کے بارے میں ایک تادیب ، بتائی :

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿2:102

  وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ خَيْرٌ ۖ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿2:103 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔