میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 9 جولائی، 2019

کعبہ و قبلہ ایسٹ تِمور میں

بڑھیا نے اپنا کعبہ کی سمت بتانے والا جادوئی اعلیٰ نکالا ۔

  " دیکھیں یہ کعبہ کس طرف بتا رہا ہے " پوچھا ۔
بوڑھے نے غور سے دیکھتے ہوئے بولا، " اِس طرف " 
" آپ مجھے غلط سمت میں نماز پڑھواتے رہے " بڑھیا گرجی ۔
 بوڑھا چکرا گیا ۔جب  چکر ختم ہوئے تو کھڑکی سے باہر دیکھا ، جہاں مین گیٹ  سے سوج کی شعاعیں لکیر بناتی  پورچ  میں پڑ رہی تھیں ۔
" ٹھیک تو بتا رہا تھا "بوڑھے نے  کہا ،" وہ دیکھو  سورج کی فرش پر پٹری شعاعیں ، یہی سمت بتا رہا تھا "
" لیکن یہ تو دوسری سمت بتا رہا ہے  " بڑھیا نے پراعتماد لہجے میں کہا ۔ 

" سورج مغرب میں غروب ہوتا ہے ، ٹھیک ہے نا " بوڑھے نے سمجھایا ۔
"لیکن ہم ایسٹ تِمور میں ہیں "  بڑھیا نے کہا 
" بالکل ٹھیک ہے " بوڑھا بولا " ایسٹ تِمور مشرق میں ہے مغرب میں نہیں  ، اگر مغرب میں ہوتا تو پھر یہ سمت ٹھیک تھی ، مگر جو میں نے بتائی وہ صحیح ہے "
" تو کیا یہ  کعبہ کی سمت بتانے والا  کمپاس غلط ہے ؟ " بڑھیا نے پوچھا 

" معلوم نہیں  " بوڑھے نے کہا ،" لیکن میرا علم جغرافیہ اور آسٹرونومی کہتا ہے کہ  کعبہ اِس طرف ہے "
بوڑھے نے جادوئی آلہ  کو اپنی ٹشو پیپر پر بنائے ہوئے سمت نما سے بڑھیا کو سمجھایا ۔



لیکن بڑھیا کا ایمان ، جادوئی آلے پر متزلزل نہیں ہوا ، کیو کہ یہ اُسے اُس کی درس قرآن کی ساتھی کی والدہ نے  مدینہ سے لایا ہوا خصوصی تحفہ زم زم او ر کھجوروں کے ساتھ دیا تھا ۔

اب چونکہ بوڑھا کے بڑھیا نصف بہتر ہے تو  بوڑھا نصف بد تر  ہوا ۔
خیر بوڑھے نے اپنا لیپ ٹاپ سنبھالا اور گوگل  چاچا کی چھوٹی بہن  گوگل ارتھ  سے راہنمائی  لینے کے لئے یہ پکچر بنائی ۔

اب لازمی بات ہے کہ آپ لوگوں کی معلومت بھی برقرار رکھنی تھی تو
 نوجوان دوستو :
٭- ڈیلی ( ایسٹ تِمور )سے مکہ 291 اعشاریہ 92 ڈگری مغرب میں ہے ، آپ آسانی کے لئے اِسے    292 ڈگری ویسٹ کہیں گے 

٭-   ڈیلی ( ایسٹ تِمور )  سے مکہ  کا فضائی فاصلہ  9،990 کلو میٹر ہے ۔ 
٭- اگر بوئنگ   737-800 سے  ڈیلی تا جدہ  سفر کیا جائے تو ، آپ  907  کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے   11گھنٹے    میں جدہ پہنچیں گے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔