میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 11 جولائی، 2019

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

 ہم گیری آفس سے باہر نکلے ، موبائل فون اور بیگ کار میں چھوڑے تھے ، موبائل فون اٹھایا  چم چم کی ماما کی 10مس کال آچکی تھیں ۔
کال ملائی ، اُس کی اشتیاق بھر آواز سنائی دی 
" پپا ۔ اب آپ فوراً جا کر شام کی سیٹیں بُک کروائیں "
" ڈولی بیٹا ، ویزے نہیں لگے " میں نے کہا 
" پپا آپ مذاق مت کریں ۔ بس فورا رات کی فلائیٹ سے سیٹیں بُک کروائیں " وہ بولی  " اور کل شام تک یہاں ہونے میں ساری فوڈ شاپنگ کر لی ہے "
" ڈولی سنو تو " میں نے کہا ۔
" پپا مذاق مت کریں ، آپ کو معلوم نہیں میں عالی سے ملنے کے لئے کتنا تڑپ رہی ہوں "
" بیٹے میں سچ کہہ رہا ہوں ویزے نہیں لگے  ، لو عالی سے بات کرو "  میں نے یہ کہتے ہوئے فون عالی کی طرف بڑھایا ، پھر اُس کی آنکھوں میں جھلملاتے موتی دیکھ کر فون بڑھیا کی طرف بڑھا دیا ۔
" ڈولی تمھارے پپا سچ کہہ رہے ہیں ، واقعی ویزے نہیں لگے " بڑھیا نے کہا  اور فون  عالی کو دے دیا ۔
چم چم نے پوری توجہ سے ماں کی بات سنی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے وقت ماں کو بالکل احساس نہیں ہونے دیا  کہ وہ ر ورہی ہے ۔ لیکن مجھے اور بڑھیا کو معلوم تھا کہ وہ اندر ہی اندر دھاڑیں مار مار کر رو رہی ہے ۔ فون اُس نے مجھے دیا اور خود نانو کی گود میں منہ چھپا لیا ۔
" پپا میں آپ سے  ٹہر کر بات کرتی ہوں " اور فون بند کردیا ۔ 
ہم واپسی کے لئے روانہ ہوگئے  ساتھ ہی دبئی میں بیٹے کو وٹس ایپ کیا  ،
"ویزہ نہیں ملا ۔ لہذا دبئی کے ویزے کے لئے ایپلائی مت کرے"
راول ڈیم چوک  سے گذرتے وقت ، مجھے سسکیوں کی آواز آئی ۔ پیچھے مڑ کر دیکھا چم چم رو رہی تھی ۔
" میری جان حوصلہ رکھو ، میں اور تمھاری ماما کچھ سوچتے ہیں " میں نے اُسے چمکارتے ہوئے کہا ۔
" آوا ، میں نے ماما کے پاس جانا ہے " ۔ دسمبر میں وہ اپنی ماما سے ملی تھی  ، وہ  اپنے گالوں پر لمبے لمبے آنسو نکالتے ہوئے بولی ۔
" چم چم میری جان ، اب ہم ایسا کرتے ہیں دبئی جاتے ہیں ، وہاں تمھاری ماما روم سے واپسی پر آئیں گی اور تمھیں اپنے ساتھ ایسٹ تِمور لے جائیں گی ۔ یہ ٹھیک ہے نا " میں نے دلاسہ دیا ۔
" نہیں میں نے ابھی جانا ہے آپ کہیں  وہاں سے میرا ویزہ لگا دیں ۔" وہ روتے ہوئے بولی ۔
" ویزہ والوں نے کہا ہے کہ آپ اپیل کریں ہم شائد ویزہ لگا دیں ، میں ایسا کرتا ہو صرف آپ کے ویزہ لے لئے  کل اپیل کرتا ہوں " میں بولا
" پرسوں تک ویزہ لگ جائے گا " چم چم بولی ۔
" نہیں پھر تیس دن لگیں گے " میں نے کہا ۔
" ماما  تو 4  جولائی کو واپس  ایسٹ تِمور چلی جائیں گی " چم چم بولی " کیا کوئی  اور طریقہ نہیں ہو سکتا مجھے جلدی بھجوانے کا ؟"
گھر پہنچے تو بیٹی کا فون آیا،
" پپا ,میرا 26 جون کو کورس ختم ہو رہا ہے ، میں نے  مزید ایک ہفتہ چھٹیاں آپ کے لئے لی تھیں ۔میں وہ کینسل کرا رہی ہوں " بیٹی بولی ،"  میرا اب روم گھومنے کا ارادہ نہیں ،  آپ کل انڈونیشیاء کے ویزہ کے لئے ایپلائی کریں ، 27 تاریخ کو ہم دوہا   میں ملیں گے اور وایا  بالی ۔  ایسٹ تِمور جائیں گے ۔
٭٭٭٭٭٭٭آگے پڑھیں ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مشرقِ بعید کا دوسرا سفر -

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔