میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 11 جولائی، 2019

قصہ سفرِ ناتمام ۔ یورپی یونیئن کا


9 مئی   کو میں اور بڑھیا اپنے تمام کاغذات کے ساتھ ، گیری آفس پہنچے ، ہمارا 30 واں نمبر تھا ، انتظار کے بعد ایک مستعد خاتون کے پاس ہمارا نمبر آیا ۔ جس نے ہماری درخواست  اور منسلک کاغذات دیکھے ۔  
ہم چونکہ  اپنے نئے پاسپورٹ لے کر گئے تھے لہذا   ، ایک حلف نامہ لیا کہ پرانے پاسپورٹ پر شنجیئن ویزہ کے لئے ایپلائی نہیں کیا گیا ۔  پاسپورٹ کہ پہلے اور دوسرے صفحے کی فوٹو کاپی ہم نے ساتھ لگائی تھی ۔ مزید جتنے صفحوں پر ویزے لگے ہیں اُن کی بھی کاپیاں کروانی ہے ، ساتھ والے کمرے میں  فوٹو سٹیٹ کا انتظام تھا جو 20 روپے فی صفحہ کے لیتا ہے ۔
ہم دونوں کے نئے پاسپورٹ پر صرف  4 ویزے لگے تھے اور چم چم کے پاسپورٹ  پر     8 ویزے  اور ہر صفحے کی دو دو کاپیاں بنوانی تھیں ۔
 بڑھیا نے سر پر دوپٹہ لے کر تصویر بنائی تھی ، اب چونکہ دوپٹے کر بغیر بنوانی تھی لہذا اُس کے 500 روپے چارج کئے ۔
پھر  اُسی فلور پر غالباً ترکی کے ویزہ  آفس سے ، عسکری انشورنس سے، اپنی اور بڑھیا کی  ٹریولنگ انشورنس لی  65 سال سے عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے  50 فیصد زیادہ رقم دینا پڑی ۔
واپس اُس نیک دل خاتون  کے پاس گئے اُس نے ہمارے پاسپورٹ بمع درخواست قبول کر لئے ، اور اندر اپنے کسی باس کے پاس گئے ، باس کو شائد یقین نہیں تھا اُس نے ہم سے  مزید ایک درخواست  لی ، مباداء کہیں ہم دونوں بڑھیا  اور بوڑھا ، چم چم کی آڑ میں خرگوش نہ ہوجائیں ۔
اُس نیک دل خاتون کو بتایا ، کہ ہمارا خرگوش ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ، ہماری بیٹی ایسٹ تِمور میں ایک اہم عہدے پر ہے ، ہم اُس کی ساکھ تو داؤ پر نہیں لگائیں گے ، نیز ہمارے پاس پورٹ اِس بات کا ثبوت ہے ، کہ،
 تینوں جہاں بھی گئے ، لوٹے تو پاکستان ہی آئے!
خیر ایک اور حلف نامہ بھی دے دیا ۔
ویزہ فیس  جمع کروائی ، جو ناقابلِ واپسی ہے ۔ہم بھی واپس ہوئے ۔
شام کو  ای میل اور ایس ایم ایس پر گیری والوں کی طرف سے پیغام آیا :
Your application is accepted under ref number ISLA/090519/0030/01. Please track your application at http://www.italyvisa-pakistan.com/
 بوڑھے کا کام روزانہ ٹریکنگ کرے ، وہاں سے ایک جواب روزانہ ملے :

روزانہ صبح سکول جانے سے پہلے  چم چم نانو سے پوچھے ویزہ کب آئے گا ؟
نانو کا جواب 30 دن بعد یعنی 8 جون کو  ، 29 دن بعد ، 28 دن بعد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 20 دن بعد ۔ ۔ ۔
18 مئی  کو چم چم  ، بابا  کے گھر سے ہمارے گھر آگئی ۔ 
روزانہ صبح اُٹھ کر یہی سوال ہوتا ۔
 31 مئی  کو چم چم    اپنی فائینل تیاری کر لی ۔
 یہ کیبن میں لے جانے والا 7 کلوگرام  سامان تھا۔ جہاز میں 30 کلوگرام کے بیگ میں بڑھیا نے چم چم سے سردیوں اور گرمیوں کے کپڑے رکھے کیوں کی 26 جون کو  چم چم کی ماں کا کورس ختم ہونے کے بعد ہم چاروں نے اٹلی کے برف پوش شمالی علاقوں میں جانا تھا ۔

 اور جناب  5 جون کو چم چم کی ماما ، ایسٹ تِمور سے روم پہنچ گئی۔
اُس نے چم چم کی معلومات کے لئے مختلف ویب سائیٹس: روم بچوں کے ساتھ سیر کریں

اور یو ٹیوب کے لنکس بھیجنا شروع کر دئے ۔
چم چم کی ماما   کے وہاں پہنچتے ہی سوال صبح اور شام ہونے لگا ۔
لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ  8 جون کو ہفتہ تھا  اور سوموار کو آفس کھلیں گے  تو منگل سے اتوار9جون تک پھر عید کی چھٹیاں ، اور چم چم کا ایک ایک دن سو برس کا بن گیا تھا ۔ خیر 10 جون آیا کوئی خبر نہیں ۔ 11 جون کو  صبح  10 بج کر 5منٹ پر روم سے بیٹی کی خوشی بھری آواز سنائی دی ،
" پپا ، مبار ک ہو ویزہ آگیا ۔ آپ فوراً گیری جائیں ، مجھے ای میل آئی ہے۔
آپ وٹس ایپ دیکھیں میں نے پکچر شاٹ بھیجی ہے ۔"
روم کا وقت پاکستان سے 3 گھنٹے پیچھے ہے !
چونکہ اُس نے اپنے آفس سے اٹلی کے پاکستانی سفارت خانے کو ای میل پر ویزے کا سٹیٹس پوچھا تھا ۔لہذا اُنہوں نے جواب دیا ۔ 
چم چم ، بڑھیا  اور میں برفی کی بابا کی گاڑی میں جو کوئیٹہ سے برفی اور اُس کی ماما سمیت، عید کی  چھٹی پر آیا تھا ، گیری آفس روانہ ہوگئے ۔  
گیری آفس پہنچے  ویزہ لینے والوں میں 26 واں نمبر ہمارا تھا ، انتظار میں بیٹھ گئے ۔ چم چم خوشی سے بے حال آخر نمبر آیا ،  کاونٹر پر کھڑے ہوئے  نوجوان نے رسیدیں لے کر لفافہ اٹھایا ، کھولا ایک پاسپورٹ نکالا دیکھا اور واپس ڈال دیا ، ایک کاغذ آگے بڑھایا ، اِس پر دستخط کردیں ، میں نے پوچھا ،" ویزہ لگا   ؟"
بولا،" نہیں !"
"وجہ کیا لکھی ؟" میں نے سوال کیا ۔
" آپ کے روم جانے کی کوئی معقول وجہ نہیں "۔
میں نے برفی کے بابا کو بتایا ،" ویزے نہیں لگے "
پاس چم چم کھڑی تھی اُس نے حیرانی سے پوچھا ،" کیوں آوا ؟ "
" معلوم نہیں " میں نے جواب دیا ِ" جو اللہ کرتا ہے بہتر کرتا ہے "
یہ کہہ کر بڑھیا سے دستخط کروائے اور تینوں کاغذات کی فوٹو کاپیاں کروا کر ، نوجوان کو لا کر دیں اُس نے پاسپورٹ اور کاغذ دئیے اور کہا ،
"آپ ویزہ نہ لگنے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں "
" ضرورت نہیں " میں نے جواب دیا ۔ 
بیٹے کو پاسپورٹ  پکڑا کر ہم گیری آفس سے باہر آگئے
٭٭٭٭٭٭٭آگے پڑھیں ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔