میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 14 اگست، 2019

پاکستانی قومیت تبدیل کرنے کا حلف !






میں قسمیہ حلف پر یہ اعلان کرتا(کرتی) ہوں  کہ میں بقائم ہوش وحواس میں وفاداری کا اعلان کرتا ہوں اور اپنے پچھلی قومیت سے دستبرداری کا علان کرتا ہوں جس کا میں باشندہ تھا-
(
اس لائن کا حلف اُٹھانے سے میری وفاداری آئیندہ پاکستان کے بجائے امریکہ سے ہو گی)
   
میں اس کا بھی اعلان کرتا ہوں، کہ میں آئین اور قوانین ِ امریکہ کا تمام ملکی اور غیر ملکی دشمنوں سے دفاع کروں گا،
  (اس لائن کا حلف اُٹھانے سے میں نے پاکستان کا آئین اور قانون ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں:
(ا) اگر امریکہ پاکستان کو دشمن قرار دیتا ہے تو میں پاکستان کے خلاف لڑوں گا -
(
۲)۔  اگر امریکہ یہ اعلان کرتا ہے کہ سارے مسلمان ہمارے دشمن ہیں تو میں امریکہ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف لڑوں گا)
    یہ کہ میں خلوص دل سے اس ایمان کی وفاداری کروں گا۔
(اس لائن کے مطابق میرا،ایمان وہ ہے جو آئین اور قانون امریکہ مجھے بتائے گا)

 اور میں یہ بغیر کسی ذہنی اور جسمانی دباؤ کے بغیر اِس کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔
(اس لائن کے مطابق میں ہوش و حواس میں ہوں اور مجھ پر کوئی دباؤ نہیں)
    خدا میری مدد کرے ۔
(اس لائن کے مطابق،میں نے امریکی آئین اور قانون کے مطابق خدا سے مدد مانگی ہے۔ کیوں کہ میرا سابقہ اللہ مجھ سے یہ توقع رکھتا تھا کہ میں ”یہود اور نصاریٰ کو اپنا مدد گار نہ بناؤ اگر میں نے ایسا کیا تو میں بھی اُن جیسا ہو جاؤں گا۔ حالانکہ امریکہ یہودی اور نصرانیوں کا ملک ہے  جو فرزندِ زمین ہیں۔ لہذا میں اپنے سابقہ اللہ کے آئین اور قوانین جو پرانے اور فرسودہ ہیں دستبرداری کا حلف پر اعلان کرتا ہوں)
    ثبوت کے طورپر میں اپنے دستخط کرتا ہوں۔
(اس لائن کے مطابق، میں نے وہ تمام ماضی کے رابطے ختم کرتا ہوں اور امریکی تھرڈ کلاس شہری کے حقوق قبول کرتا ہوں۔ اس کے لئے مجھے، یہودیت، عیسائیت، کی طرح نژرادیت کی قومیت عطا کی گئی ہے)
--------------------------------------------------
یہ دستخط کرتے ہی ، محمد عبداللہ پاکستانی سے امریکن شہری بن جاتا ہے
 --------------------------------------------------


نوٹ: سرخ الفاظ میں تشریح کئے گئے الفاظ میرے نہیں لیکن میں اُن سے متفق ہوں۔ آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


کیا ا مریکی قوم سے حلف وفاداریاُٹھانے کے بعد اُن کے ملک میں موجیں اُڑانے کے بعد کوئی اُن سے غداری کا تصّور کر سکتا ہے؟


 ڈالروں، عیاش زندگی اور امریکی خدا کے زیر سایہ رہنے والی فری سوسائیٹی میں،”قومی وقار کا سودا“ کرنے کے بعد کیا یہ لوگ:
٭۔    ہماری رہبری کر سکتے ہیں؟
٭۔    ہم سے مخلص ہو سکتے ہیں؟


نوٹ :       مضمون پڑھنے کے بعد اگر پسند آئے تو نیچے خانے میں کمنٹ لازمی دیں
               اور باقی دوستوں کے ساتھ بھی شئیر کریں ۔ شکریہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں :
٭- قومی وقار کا سودا  
٭- قومی وقار کا سودا کرنے والے   
 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔