میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 12 اگست، 2019

طوفانوں سے لڑنے والے !

وہ جو طوفانوں سے لڑنا جانتے ہیں۔ منفی لفظ (طوفان) اُن کی زندگی بدل دیتے ہیں ۔

 سکول اور محلّے میں پاگل اور سنکی کی نام سےپہچانا جاتا تھا ۔ اُس کا دماغ نت نئی ترکیبیں سوچتا  یہ ترکیبیں اُسے بیرونی دنیا  سے موصول ہوتیں ۔

ایڈیسن  ان سے مسلسل سوال پوچھتا رہتا تھا
مرغی کے ا نڈے سے چوزہ کس طر ح نکلتا ہے؟
پرندے کو کیا چیز اڑاتی ہے؟
پانی آگ کو کیو ں بجھا دیتا ہے؟
سات سال کے عمر میں اڈیسن اپنے والدین کے ساتھ ہو ران مک منتقل ہوگیا۔جہاں اس کے والدین نے اُسے ایک پبلک اسکول میں داخل کرا دیا
ایڈیسن کی اسکول  ٹیچر بھی اس کے چند سوالوں کا جواب نہ دےسکی۔
اگر کو ئی اس کے سوال کا جواب نہ دے پاتاتو وہ خود تجربے سے اس کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کرتا۔
ایک دن ا اُس نے پڑھا  کہ غبارے اس لیے اڑتے ہیں ان میں گیس بھری ہوتی ہے۔لہذا اس نے ایک لڑکے کو سڈلٹ سفوف کی تین گولیا کھلا دیں۔
ایڈیسن  کو یقین تھا کہ جب لڑکے کے معدے میں گیس بھرے گی تو وہ اڑنا شروع کردے گا۔ لیکن اس کے بجاے وہ لڑکا بیمار ہو کر زمین پر لیٹ گیااوردنیا اسے اپنے سامنے گھومتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔؟

جو سوالات اُس کے ذہن میں جنم لیتے  ۔
اُن کا جواب اُس کے ٹیچرز تو کیا کسی کے پاس بھی نہیں ہوتا ۔ سکول کی پڑھائی اُس کے لئے نہایت بور ہوتی ۔
ایک دن ٹیچر نے اُسے ایک لفافہ دیا اور کہاِ"گھر جاکر   یہ اپنی ماں کو دے دینا!"
ایڈیسن جب چھٹی کے بعد گھر پہنچا   ، تو اُس نے لفافہ اپنی ماں کو دیا۔
ماں نے لفافہ کھولا ، اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ،
" ماما ۔ کیا ہوا ؟ " ایڈیسن نے ماں کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو پوچھا ۔
" تمھارا بیٹا ایک جینئس ہے ۔ یہ سکول اُس کے لئے بہت چھوٹا ہے  اور اتنے اچھے استاد نہیں کہ اُسے بڑھا سکیں ۔ سو آپ خود ہی اُسے پڑھا لیں " ماں نے بلند آواز میں پڑھا ۔
ایڈ یسن کی باقاعدہ تسلیم صرف تین ماہ جاری رہ سکی۔
پھر ایڈیسن کی ماں اُس کی ٹیچر بن گئی، اس کی ماں نے اسے کھیل تما شے کےذریعے سکھانے کا ارادہ کیا، جو اس وقت کے لحاظ سے غیر معمولی تھا۔اس کی ماں نے پڑھائی کو اس کے لیے کھیل بنا دیا۔پہلے تو وہ اس پر حیران ہوالیکن بعد میں بہت خوش۔جلد ہی اس نے اتنی تیزی سے سکھنا شروع کر دیااس کی ماں اس کو خود مزید نہ پڑھا سکی۔اور دن گذرتے گئے ۔
پھر  ماں کا انتقال ہوگیا ۔

لیکن 11 فروری   1847  میں پیدا ہونے والا،    تھامس ایلوا  ایڈیسن ،  امریکہ کا ایک مشہور سائینس دان بن چکا تھا ۔جس نے اپنی ذاتی تحقیق شدہ  1093 ایجادات پیٹنٹ کروائیں ۔
جن میں فونو گراف(جس نے آگے چل کر گرامو فون کی شکل اختیار کی) بجلی کا قمقمہ، میگا فون، سینما مشین، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔  1915ء میں اسے نوبل پرائز ملا۔ 

ایڈ یسن نے غیر معمولی ذہانت کی تعریف ان الفاظ میں کی : 
ایک فیصلہ ا لہام (خیال) اور ننانوے فیصلہ پسینہ(محنت)۔ 
ایک  دن وہ اپنے پرانے کاغذات میں ۔ اپنا کوئی تخیّل تلاش کر رہا تھا کہ اُسے ایک لفافہ ملا ، اُس نے اُس میں رکھا ہوا کاغذ نکالا ، یہ اُس کے سکول کا ایک خط تھا ،اُس نے پڑھا ۔
" آپ کا بیٹا انتہائی غبی اور ذہنی  ناکارہ ہے ۔ ہم اُسے اپنے سکول میں مزید ایک دن رکھنا بھی گوارا نہیں کر سکتے " 
ایڈیسن نے اپنی ڈائری میں لکھا ۔
" تھامس ایلوا ایڈیسن ، ایک ذہنی  ناکارہ  بچہ تھا ، جسے اُس کی ماں نے اُسے صدی کا سب سے بڑا سائینس دان بنا دیا "
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 تھامس ایلوا ایڈیسن ایک امریکی سائنس دان اور موجد تھا۔ ریاست اوہائیو کے ایک گاؤں میلان میں پیدا ہوا۔ والدین بہت غریب تھے، سکول سے نکالے جانے کے بعد ، ابتدائی تعلیم اپنی ماں سے  گھر پر ہی حاصل کی۔
جب ایلوا نو سال کا ہوا تو اس کی ماں نے اسے رچرڈبے پارکر کی لکھی ہوئی ایک کمیسڑی کی کتاب لا کردی جو انیسویں صدی کے وسط کا ایک مشہور استاد تھا۔
  ایڈ یسن نے اس کی تحروں کو ماننے سے انکار کر دیا۔اس نے مصنف کو غلط ثابت کر نے کے لیے ہر تجربے کو خود دہرایا۔ ایڈ یسن کے پاس مختلف کیمیکلزکی سو سے زیادہ بو تلیں تھیں۔
اپنے خا ندان کے افراد کو ان سے دور رکھنے کے لیے اس نے سب بو تلوں پر زہر لکھ دیا تھا۔ ایڈ یسن  کے ایک دوست چارلس بیچلر کا کہنا ہے(ایک رات میں واپس لوٹا تو میں نے د یکھاایڈ یسن بیٹھا ہوا ہے اور اس کے آگے علم کیمیا اور دوسری کتابوں کاڈھیر لگاہوا ہے جو کوئی پانچ فٹ تک کا اونچا ہے۔یہ اس نے نیو یارک،لند ن،اور پیر س سے منگوائی تھیں۔ان کا مطالعہ وہ دن رات کرتا ۔چھ ہفتوں میں اس نے ساری کتابیں دیکھ ڈالی تھیں اور ان کے خلاصوں پر مبنی ایک جلد تیار کر لی تھی۔
وہ فار مولوں پر بھی کئی تجربات کر چکا تھا۔ نو سے بارہ سال کی عمر میں اس نے ہیوم کی تاریخ انگلستان،سلطنت روم کا عروج و زوال،پوٹر کی ڈ کشزی آف دی ساسئنسز اور ٹیوٹن کی پرنسپل آف ٹیچرل فلا سفی جیسی کئی کتاب پڑلی تھیں۔ 
بارہ سال کی عمر میں اس کو گرنیڈ ٹرنک ریل گاڑی میں ٹرین بوائے کی حیثیت سے نوکری مل گی۔وہ اس ریل گاڑی میں (جو پورٹ ہوران اور ڈ یٹرائٹ کے درمیان چلتی تھی)اخبار، ٹافیاں، چا کلیٹ،اور مونگ پھلی بچتا تھا۔ اپنے فارغ اوقات میں وہ ریل گاڑی کے خالی ڈبے میں ا پنی کیمیاو ی اشیا کے ساتھ تجربات کرتا تھا۔حتی کے اس نے ایک پریس خرید کر اپنا ایک اخبار( ہفت روزہ ہیرالڈ) شائع کرنا شروع کردیا ۔
 یہ منفر د ہونے کی وجہ سے ہاتھوں ہاتھ بکنے لگا۔یہ اخبار چلتی ریل گا ڑی میں شائع ہونے والا پہلا اخبار تھا ا یلوا کے ر یل گاڑی میں کیمیاتی تجربات نے اس کو مشکل میں پھنسا دیا۔
ایک دن فارسفورس کی قلم میں شعلے بھڑک اٹھے جس سے ریل گا ڑی کے ڈ بے میں آگ بھڑک ا ٹھی۔اس واقع پر کنڈیکٹر نےایڈ یسن کے کان پرزور دار مکا رسید کیا اور اسے اس کی کیمیائی ا شیاء ،پرنٹنگ پر یس اور دوسری چیزوں سمیت ڈبے سے باہر پھینک دیا۔
اس واقعہ کی وجہ سے  ایڈ یسن کو ایک کان سے بہرہ ہونا پڑا۔ 
تاہم ایڈ یسن  اپنے بہرے پن کو ایک اور واقعے سے منسوب کرتا ہے۔جب وہ چلتی گا ڑی میں سوار ہونے کی کوشش کررہا تھا کنڈ یکٹر اس کو کان سے پکڑ کر کھنچ کر پلیٹ فارم تک لایا ۔
ایڈ یسن نے کچھ سال بعد کہا( میں نے ا پنے سر میں کوئی چیز ٹوٹتی ہوئی محسوس کی)۔میرا بہرہ پن اس وقت سے شروع ہوا اور پھر اس میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ ا یڈ یسن اگر چہ مکمل طور پر بہرہ نہیں ہوا لیکن آخری برسوں میں وہ چیخ کی آواز بھی بمشکل ہی سن سکتا تھا۔ آ پریشن سے اس کا بہرہ پن ختم ہو سکتا تھالیکن اس نے سرجری کرانے سے ا نکار کر دیا۔
ا یڈ یسن نے بہرا ہونے کا برا خیال نہیں کیا بلکہ یکسو ئی حاصل کرنے کا آسان ذریعہ خیال کیا۔ اس کے کان کی خرابی کی وجہ سے ا یڈیسن ایک بارموت کے منہ سے بچا۔ ہوا یہ کہ ایڈ یسن نے پرانی کتابوں کا ایک بڑا ڈھیر دوڈالر میں خرید لیا اور وہ اسے لے کر رات کے تین بجے گھر کی طر ف چل دیا۔راستے میں اسے ایک پہرے دار نے دیکھا اور چور سمجھ کر رُکنے کا حکم دیا لیکن ایڈ یسن بہرہ ہونے کی وجہ سے سن نہ سکا ۔ پہرے دار نے اس پرگولی چلادی۔ مگر گولی ایڈیسن کے کان کے پاس سے گزرگی۔اس طرح یہ عظیم موجد نشانہ خطا ہونے سے بچ گیا۔ ریل گا ڑی کے ڈبے میں آگ لگنے کے بعد ، ایڈ یسن نے اسٹیشنوں پر اخبار بچنا شروع کر دیئے۔ایک دن کلیمنز ریلوے ا سٹیشن پر  ایڈ یسن نے دیکھا کہ ایک سامان لے جا نے والاٹھیلا، اسٹیشن ملا زم کے بیٹے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ایڈ یسن  نے بچے کو بروقت بچالیا ۔ شکرگزارا سٹیشن ملا ز م نے اس کے بدلے ایڈ یسن کو ٹیلی گراف استعمال کرنا سکھا دیا۔
12 سال کی عمر میں ایڈ یسن  کو اونٹاریو ریلوے ا سٹیشن کینیڈا میں ٹیلی گراف کی نوکری مل گئی۔اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ ہر گھنٹے بعد ٹیلی گراف کے ذریعے ٹورانٹو پیغام بھیجے ۔
ا یڈ یسن نے اسے وقت کا ضیاع خیال کیا۔اس نے چالا کی سے مشین کا ایک پرزہ گھڑی کے ساتھ جوڑدیا جو ہر گھنٹے بعد خود بخود پیغام بھیج دیتا تھا،چاہے وہ سو رہا ہوتا۔
یہ ا یڈیسن کی پہلی ایجاد تھی ۔ اس کا خمیازہ اسے اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے کی صورت میں اس وقت بھگتنا پڑا ،جب سپرنٹنڈ نٹ نے اسے سو تے ہوئے پا یا۔
 1863ء میں موسم خزاں میں ایڈیسن امریکہ واپس لوٹ گیا اور شہری جنگ کے دوران ٹیلی گراف آ پریٹر کے طور پر ایک شہر سے دوسرے شہر مڑگشت کر تا ر ہا۔
 1869ء  میں ایڈیسن بوسٹن سے نیویارک آ گیا۔اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھااور اس نے گولڈانڈیکیٹر کمپنی کے ایک ملازم کے د فتر میں سونے کے لیے اجازت حاصل کرلی ۔
ایڈ یسن اپنا زیاد ہ تر وقت ا سٹاک ٹکر کو سمجھنے کے لیے صرف کر تا تھا۔ ٹیلی گراف قسم کی مشین تھی جو کمپنی بروکرز کوسونے کی قیمت بتانے کے لیے استعمال کرتی تھی۔ کچھ دنوں بعد اسٹاک ٹکر ٹوٹ گیا اور ایڈ یسن نے اس کو ٹھیک کر کے مینیجر کو حیران کردیا کیونکہ باقی سب لوگ اسے ٹھیک کرنے میں ناکام ہو چکے تھے۔اسی وقت مینیجرنے اسے سپروائزر کی ملازمت کے لیے۳۰۰ ڈالر کی پیشکش کی جو اس وقت ایک بڑی ر قم تھی۔
 ایڈیسن کے مصروف دماغ نے اسٹاک ٹکر پر اپنے تجربات کو جاری رکھا۔اس نے اسے اتنا بہتر بنا دیا کہ گولڈاینڈ اسٹاک ٹیلی گراف کمپنی کے صدر ، جزل مارسل لیفرٹس نے اس میں دلچسپی ظاہر کی۔ لیفرٹس نے ا یڈیسن کے لیے پیغا م بھیجا اور پوچھا کہ وہ اپنے اسٹاک ٹکرکو پیٹنٹ کر وا نے کے لیے کیا رقم لے گا۔
ایڈ یسن نے ایک فیصلہ کیا کہ وہ 5000 ڈالر کہے گا اور 3000 ڈالر تک قبول کرلے گا۔ اس نے ہچکچا تے ہو ئے کہا 
" اچھا جنرل   اگر یہ آپ کی ہوتی تو آپ مجھے  کیا پیشکش کرتے؟"
 لیفر ٹس نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر کہا،"  کیا تمہیں 40 ہزار  ڈا لر قبول ہیں؟"
ایک لمحے کے لیے ایڈ یسن کے لیے خود پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔اس نے اپنے آپ کو سیدھا کھڑا رکھنے کے لیے میزکو پکڑ لیا اورآہستہ سے کہا،

"  ہاں! میرے خیال میں یہ ٹھیک رہے گا"

اِسی سال ا یڈ یسن نے لیفرٹس سے حاصل شدہ رقم سے نیوآرک،نیوجرسی میں اپنی پہلی ورکشاپ  قائم کی۔ اس جگہ اس نے اپنے بنائے ہوئے اسٹاک ٹکر کی تیاری شروع کردی۔
۱۸۷۴ء میں اس نے ٹائپ رائٹر کے فولادی اجزاء کو لکڑی سے بدل کر بہتر بنایا ۔ اس نے لفظوں کی تر تیب اورسیاہی کی تقسیم کو بھی درست کیا ۔ ایڈ یسن نے ٹائپ رائٹر کواتنا بہتر کرلیا مشین کے ذریعے ہا تھ کی بہ نسبت زیادہ تیز رفتاری سے لکھنا ممکن ہو گیا ۔
۱۸۷۶ء میں ایڈ یسن مینلو پارچلا آیا ۔ اسی سال اس نے ٹیلی فون میں کار بن ٹرانسمیڑکا اضافہ کر کے اسے بہتر بنا یا۔ یہ ٹیلی فون کو عملی بنا نے کے لیے ایک انتہائی اہم قدم تھا۔اس تبد یلی سے پہلے لوگوں کو ٹیلی فون میں بہت بلند آواز میں بو لنا پڑتا تھا ۔
 ۱۸۷۷ء میں ایڈ یسن کے ایجاد کردہ فونوگراف یا ریکارڈ پلیئر کو دنیا کی سب سے جدت پسند ایجاد کادر جہ دیا گیا ہے۔اس و قت تک کسی نے بھی فونوگراف کا عملی نمونہ نہیں بنایا تھااور اس کا نمونہ بالکل نیا اور اچھوتا تھا۔ ایڈ یسن نے ہمیشہ فونوگراف کو اپنی پسندیدہ ایجا د قرار دیا۔ فونوگراف کا خیال اسے تب آیا جب وہ ٹیلی گراف پیغاما ت کو خود کار طریقے سے ریکارڈ کرنے کے طریقے دریافت کرنے کی کوشش کرر ہاتھا ۔وہ ایک گھومتی ہوئی پلیٹ پررکھی ہوئی پیپرڈسک پرپیغامات ریکارڈ کرنا چاہتا تھا۔وہ ڈسک آج کل کے فونوگراف کی طرح ہی گھومتی تھی۔ 
ایڈ یسن نے اپنے ٹیلی گراف تجر با ت سے سیکھا کہ ڈایا فرام کس طر ح بنا یا جا تا ہے یا ڈسک میں ا ر تعا ش کس طر ح ہو تا ہے جو آواز کی ا ر تعا شی مو جو ں پر رد عمل ظا ہر کرے۔اس نے ایک کھلو نا بنا یا جس میں ایک قیف خا ص پر کیپ سے جڑی ہو ئی تھی۔اس کے آ خر پر ایک کاغذ لگا دیا جس میں کھلو ناآد می آری پکڑ ے ہو ئے تھا۔
جب ایڈ یسن نے قیف میں چلا یا ،
"میری کے پاس چھوڑا بھڑ کا بچہ ہے ،Marry had a little lamb"
تو اُس آدمی  نے لکڑی کا ٹنا شر وع کر دی۔ ایڈ یسن نے فیصلہ کیا کے وہ کسی چیز کو حر کت د ینے کے بجا ئے ان مو جو ں کو ر یکا رڈ کر سکتا ہے اور  وہ ا پنے کہے ہو ئے ا لفاظ کو ر یکا رڈ سے دوبارہ  پیدا کر سکتا ہے۔ 

ایڈ یسن نے ایک خا کہ بنا یا اور اپنی ور کشا پ کے فو ر مین جا ن کرو سی کے حو ا لے کر کے حکم دیا  یہ بنا ؤ ۔ کرو سی نے خا کہ کامطا لعہ کیا لیکن اس نے اسے ا لجھن میں ڈا ل د یا ۔ اسے ایسی چیز بنا نے کے لیے کہا گیا جو نہ تو کیمیا ئی تھی اور نہ بر قی، بلکہ میکا نیکی تھی۔
عا م طو ر پر ایڈ یسن نے کو ئی بھی چیز ایسی ا یجا د نہیں کی جو مکمل میکا نیکی ہو۔کرو سی یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ کس استعما ل کے لئے  ایڈ یسن کو یہ آ لہ بنا نے پر مجبو ر کیا۔  لیکن اس نے یہ خا کہ لیا اور اس کو بنا د یا۔
جب کر و سی ،سلنڈر نما مشینی پر زہ ایڈ یسن کے پا س لے کر آ یا تو پو چھا  ،"  یہ کیا ہے؟"
ایڈ یسن نے بلا ارادہ کہا ، " اوہ!یہ مشین بو لے گی"
 اس نے قلعی کے ورق کو سلنڈر کے گر د لپیٹا،


"میری کے پاس چھوڑا بھڑ کا بچہ ہے ،Marry had a little lamb"  اس نے یہ الفا ظ مشین کے ما ؤ تھ پیس میں بو لے ۔
مشین نے ایڈ یسن کے الفاظ د ہر ا دیئے۔کرو سی کا چہرہ حیر ت سے سفید ہو گیا۔ ایڈ یسن خو د بھی حیرا ن رہ گیا ۔ 
بر قی رو شنی (بلب)کی ایجا د فو نو گر ا ف کی طر ح جد ت پسند نہیں تھی ۔ بہت سے دو سرے لوگوں نے اس خیا ل پر سالہا سا ل کا م کیا تھا۔
1876 ء میں  رو سی الیکڑ یکل ا نجینئر پا ل جیبلو کو ف نے پیرس کے با زاروں کو  آر ک لا ئٹ سے رو شن کیا لیکن ایڈ یسن چھو ٹی ر و شنیاں چا ہتا تھا جن کو گھر و ں اور د فتروں میں استعمال کیا جا سکے۔در حقیقت وہ گیس کا متبا دل چا ہتا تھاجو اس و قت رو شنی کا بنیادی زر یعہ تھی۔
1879ء میں ایڈ یسن نے بر قی روشنی کا کامیاب ا صول ڈھو نڈ نکا لا ۔اس نے منا سب فلا منٹ یا تا رتلاش کر نے کے لیے دوسال صرف کیے جو برقی روگزرنے پر روشنی دے سکے۔اس نے پختہ فلا منٹ کی تلاش میں ایک ملازم کو ا میزون اور دوسرے کو جاپان کے جنگلوں میں بھیجا۔اس نے تقریبا تین ہزار چیزوں کو فلا منٹ کے لئے آزمایا تھا ۔
19اکتوبر 1879ء کو بہت سی کوششوں کے بعدآخر کار ایڈ یسن کا ربو نا ئزڈ دھاگے کا فلامنٹ بلب میں لگانے میں کامیاب ہو گیا ۔بلب نے بہت اچھی روشنی دی ۔

 20 اکتوبر کی صبح پو پھٹنے تک قیمتی بلب جل رہا تھا۔وہ تمام دن جلتا رہا ۔ آخر کار 21اکتوبر کو رات ڈ یڑھ بجے ایڈ یسن نے دو لٹچ بڑھانے کا فیصلہ کیا جس سے بلب جل گیا۔ 

21 د سمبر 1879ء کو ایڈ یسن کی برقی چمکتی ہو ئی روشنی کی ایجاد نے  د نیا کو ششدر کر دیا ۔
 ایڈ یسن تمام دنیا میں مینلو پارک کا جادو گر کے نام سے مشہور ہوگیا۔ ایڈ یسن نے برقی روشنی کا پیٹنٹ جنوری1880ء میں حا صل کیا۔ ایڈ یسن نے بلب کی ایجاد کے لیے 70 ہزار سے زائد تجربات کیے۔

1880ء کے عشرے کے آخر میں ایڈ یسن نے متحرک تصویروں اور فلموں کی تیاری میں حصہ لینا شروع کیا۔ اس نے جارج ایسٹ مین اور دوسروں کی ا یجادوں کی بنیاد پر ایک کیمر ہ بنا یا۔
  1887ء میں ایڈ یسن نیوجرسی میں ویسٹ اور نج کی بڑی اور جدید لیبا رٹری میں منتقل ہوگیا۔وہاں  اس نے زیادہ تر وقت اپنی ا یجادو ں کومکمل کرنے میں صرف کیا۔اس نے اپنی ایجادوں کی تیاری کے لیے بہت سی کمپنیوں کی تنظیم کی۔


 1914ء میں ایڈ یسن نے بولتی ہوئی تصویریں بنانے کے لیے فونوگراف اور کیمرے کو جوڑ دیا ۔ مشین نے کچھ خامیاں دکھائیں اور ایڈ یسن نے اسے ایک طرف ڈال دیا ۔دوسرے لوگوں نے بعدازاں خامیوں کو دور کیا ۔ پہلے پہل لوگوں نے متحرک فلموں کو ایک کھلونا خیال کیا۔ لیکن ایڈ یسن نے ان کو اس امید سے دیکھا کہ یہ تعلیم دینے کا ذریعہ ہوں گی۔اس نے پیش گوئی کی
"  ایک دن یہ تعلیم دینے کے دوسرے طر یقوں کو بدل دیں گی۔"
اس کی کچھ بعد کی ایجادوں اور اختر اعات میں، اسٹوریج بیڑی، ٹیسی میٹر، سیمنٹ مکسر،ڈکٹا فون اور فوٹوکا پی مشین شامل ہیں۔اس کی پہلی پیٹنٹ ایجاد(گولڈن راڈ پودے سے مصنوعی ربر بنانے کا طریقہ)تک ایڈ یسن نے معاشرے میں اپنی شرکت ایک ہی رفتار سے جاری رکھی۔

وہ 18 اکتوبر 1931ء کو 84 سال کی عمر میں ویسٹ اور نج میں انتقال کر گیا۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
" مزید پڑھیں ۔
٭-  آئی لو یو آل ۔
٭- استاد(اتالیق) اور ٹیچر کا فرق
٭۔ شخصیت کے ستون 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔