میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 4 اگست، 2019

کیا الکتاب میں قربانی ہے ؟



 روح القدّس نے محمدﷺ کو قصص الانبیاء سے ایک نباء بتائی ،
 محمدﷺ نے مہاجر زادہ تک یہ الحدیث پہنچا کر حکم دیا ۔ کہ، 
حماز ناصر تک اللہ کا حکم ِعربی پہنچا دیا جائے :

 وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ [5:27]
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 حماز ناصر کا سوال:
سر! ان کےمعنے بھی بتادیں اورسیاق سباق میں جوکہاگیاوہ بھی سمجھادیں تاکہ قربت کاپتہ چل سکے؟
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مہاجر زادہ کا فہم :

  وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ
اور اُن پر تلاوت کر  !  بنی آدم کی خبر ، الحق کے ساتھ ۔۔۔

إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا
إِذْ  (جب)  قَرَّبَ  ( چاہا) ، قُرْبَانً  ( سے) ۔

فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِهِمَا 
پس  (أَحَدِهِمَا) اُن دونوں میں سی ایک کا ( قُرْبَانً  ) کو   تُقُبِّلَ (  قَرَّبَ  ) ملا

وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ  

وَ (اور)  لَمْ (ہرگز نہیں) يُتَقَبَّلْ (قَرَّبَ کیا جائے گا ) مِنَ الْآخَرِ ( آخر میں سے ) ۔ 

قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ
بولا ، میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا !
 
قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّهُ
 بولا صرف جو اللہ کو (  قُرْبَانً ) قبول ہوتا ہے 
 مِنَ الْمُتَّقِينَ
(وہ )  الْمُتَّقِينَ میں سے ہے
٭٭٭٭٭
اے میرے ربؔ اگر میرے فہم میں الْحَقِّ  نہ رہ سکا،تو  مجھے معاف کر دینا ۔ 
الْمُتَّقِينَ  کے لئے ۔ الکتاب میں لکھوائی گئی ، مکمل آیت بھی لکھ رہا ہوں۔
 وہ جو چاہیں اپنا فہم  بِالْحَقِّ  بنا لیں :
  وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ [5:27]
 ٭٭٭٭٭
حماز ناصر نوجوان: آپ نے سیاق و سباق کا پوچھا۔
سیاق:
یقیناً ۔ اللہ کا لفظ  
قُرْبَانً ہے  ، جو اللہ کے    قَرَّبَ کے  لئے  الکتاب میں درج ہے ۔
نوجوان اگر غور کیا جائے تو ،   کے دو انسانوں  کے  درمیان سارا    فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ  ، رَبَّ الْعَالَمِينَ  کے     قَرَّبَ اور اُس کے لئے   قُرْبَانً  کا ہے ۔
 سباق  :
اِس آیت   کے بعد والی آیات ، جن میں اللہ کی طرف سے نباء بھی ہے ، احکام  بھی ہیں  اور تنذیر بھی ہے ۔ جن سے حاصل ہونے والے اسباق میں اپنے فہم کے مطابق درج کر دیتا ہوں:

٭-  قَرَّبَ  اُسی کے لئے  ہے ، جو  رَبَّ الْعَالَمِينَ سے خوف زدہ رہتا ہے ۔
لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ ﴿5:28 

٭-     رَبَّ الْعَالَمِينَ سے خوف زدہ رہنے والے کو قَتْلَ کرنے والا  ہے،   الظَّالِم اور   أَصْحَابِ النَّارِہے  اور  الْخَاسِر ہے ۔
 إِنِّي أُرِيدُ أَن تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ ﴿5:29 


فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿5:30

٭-   دوسرے بنی آدم سے،  اپنے  إِثْمِ چھپانے کے لئے غُرَابً   کا سہارا لیا جاتا ہے ۔

 فَبَعَثَ اللَّـهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَا وَيْلَتَىٰ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَـٰذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ ﴿5:31

٭-  بنی آدم  کے اِس فعل کے باعث        رَبَّ الْعَالَمِينَ  نے ، اپنے احکام بتائے:
مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ ﴿5:32

 حکم ۔1: رَبَّ الْعَالَمِينَ  سے خوفزدہ   رہنے والے کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل۔
حکم۔ 2:
نَفْسً کےبغیر  نَفْسٍ   یا  فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ  کرنے والوں کی خاصیت بَنِي إِسْرَائِيلَ    ۔

حکم۔ 3:  رَبَّ الْعَالَمِينَ     کی  الْبَيِّنَاتِ کے  باوجود  یہ سب مُسْرِفُونَ  ہیں ۔

٭۔  رَبَّ الْعَالَمِينَ     کی  الْبَيِّنَاتِکے  باوجود  اللَّـهَ  اور اُس کے  رَسُولَ سے حرب کرکے   فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ        کرنے والوں کے لئے احکامات :

 
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿5:33

حکم-4: -  وہ   قَتَّلُکر دئیے جائیں گے ۔
حکم-5: -  وہصَلَّبُ کر دئیے جائیں گے ۔
 حکم-6: -  اُن کے   أَيْدِياور أَرْجُلُ ، خِلَافٍ میں  قَطَّعَکر دئیے جائیں گے ۔یا
 حکم-7: - اُنہیں  الْأَرْضِ  میں  سے نَفَ  کیا جائے گا ۔

٭-    جب ایک انسان  ، اللہ سے ڈرنے والے دوسرے انسان  کو قتل کرنے کا سوچتا ہے لیکن اُسے اپنے اوپر  تَقْدِرُ  میں تبدیل نہیں کرتا   اورتَابُ  ہو جاتا ہے    ۔  تو اللہ کا حکم :


إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿5:34


٭-     الَّذِينَ آمَنُوا کے فْلِحُ پانے کے  لئےاللَّـهَ کی طرف اتَّقُ رہنا       اور   الْوَسِيلَةَ کی  ابْتَغُ کرنا  اور اُس کی   سَبِيلِ میں 
جَاهِدُ رہنا ۔
  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿5:35  

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ بھی پڑھیں شکریہ :
٭ ۔ مروّج  قربانی  اور      قُرْبَانً
٭-  کیا آپ نے گناہوں کی توبہ قبول کروانا ہے ؟ 
 ٭۔ قربانی : الھدیٰ   یا نسک  کب فرض ہے ۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔