میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 8 اگست، 2019

انکم ٹیکس فائیلنگ کو کیسے آسان بنایا جائے ؟ حصہ اوّل

پورے ملک میں خوف و ہراس کی فضا چھائی ہوئی ہے ۔ کہ انکم ٹیکس فائلر نہ بننے پر بزنس کرنے والوں پر قیامت ٹوٹ پڑے گی ۔

 ایف بی آر نے رسیدوں پر شناختی کارڈ  نمبر ، انکم ٹیکس نمبر  اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر  لکھنے کا حکم دیا ہے ۔ جس کے مطابق   13 ، 15 ، یا 17 فیصد کی شرح کے مطابق  خریدی جانے والی اشیا ء پر سیلز ٹیکس کاٹ  کی اُسی مہینے ایف بی آر میں جمع کروانا  ضروری ہے ۔

٭- انکم ٹیکس  اور جی ایس ٹی تو پاکستان کا ہر ملازم پیشہ شہری  دیتا ہے ۔ 
٭- اِسی طرح بزنس کرنے والے   ، ہر خریدار سے  سیلز ٹیکس کاٹتے ہیں  ۔
 لیکن یہ حکومت کے پاس جمع نہیں ہوتا ۔ کیوں ؟
اپنی پیچیدگیوں اور  ٹیکس فائلر نہ بننے کی وجہ سے اِس کا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا ۔
 مہاجرزادہ : چونکہ  ملازم پیشہ بھی رہا  ہے ، دکاندار بھی ، فرم کا مالک بھی اور ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کا  چیف ایگزیکٹو بھی اور اِن تمام کے بعد اب ایک پنشن یافتہ  فرد ہے ۔ 
لہذا، انکم ٹیکس کی تمام پیچیدگیوں کو اچھی طرح جانتا ہے کہ کس طرح انکم ٹیکس فائل کرتے وقت  ،اچھا بھلا انسان پریشانی میں پسینے سے شرابور ہو جاتا ہے ۔
جب پہلی دفعہ انکم ٹیکس وکیل کو اپنی تمام فائلیں دیں اور جب ڈرافٹ  مہاجرزادہ نے دیکھا تو اُس کے  بطور ٹریول ایجنسی کےچیف ایگزیکٹو ،پسینے چھوٹ گئی ۔ 
کیوں کہ انکم ٹیکس   منافع سے کئی گنا ، زیادہ  بن رہا تھا ۔  اور انکم ٹیکس کے کاغذات میں کیوں نہ بنے  ، جب کہ کلائینٹ سے اکاونٹ اور کیش بُک میں آنے والی  رقم  کے تناسب سے اُنہوں نے بنایا تھا ۔
مہاجر زادہ نے ، کیسے انکم ٹیکس والوں کے سوالوں کے جواب دئیے؟
اور کیسے انکم ٹیکس کمشنر کو تمام ریکارڈ سے قائل کیا، کہ جرمانہ اور ٹیکس کو ویو آف کیا جائے  ؟ 

یہ ایک نہایت    جانگسل قصہ ہے ۔
لیکن بالآخر اُنہیں یہ بات سمجھ آگئی کہ ٹریول ایجنٹ ایک پوسٹ ماسٹر ہوتا ہے ، جس کے کمپنی اکاونٹ میں لاکھوں روپے آتے ہیں اور اُتنے ہی نکل جاتے ہیں ۔ جو باقی بچتا ہے وہ سروس چارجز ہوتے ہیں۔
 جس میں  دکان کا کرایہ،آفس  ملازمین کی تنخواہیں ، مارکیٹنگ  گروپ کا کمیشن ،    یوٹیلٹی چارجز  ، ٹیلیفون ، موبائل ، انٹرنیٹ  اور اشتہار ت کے اخراجات کے علاوہ   شامل ہوتے ہیں ۔تمام اخراجات کو منہا کرکے جو رقم بچتی ہے اُسے  ، ٹریول ایجنٹ کا منافع کہا جاسکتا ہے ۔

  2000  ء میں ، بریگیڈئر عتیق  انور (یونٹ آفیسر) سے نادرہ میں ملاقات کا شرف حاصل ہو ا، وہاں اُنہوں نے اپنے ادارے کی کارگذاری  کے بارے میں بتایا ۔ کہ نیشنل رجسٹریشن کا اختیار اب اُن کے پاس آگیا ہے ۔ 
اُن دنو ں   شناختی کارڈ نمبر  ، اِس طرح ہوا کرتا تھا ۔

مہاجرزادہ نے تجویز دی ، کہ ملک کمپیوٹرائزیشن کی طرف جا رہا ہے ، کیوں نہ سال پیدائش کے بجائے   دو  ہندسوں کو   حروف تہجی میں تبدیل کیا جائے۔
اور یہی  شناختی نمبر ، ٹیکس ، پاسپورٹ ، ڈرائیونگ لائسنس  اور بنک اکاونٹ  نمبر قرار دے دیا جائے۔ جس سے  کسی بھی پاکستانی کے ریکارڈ کو ، کمپیوٹر سے  کھنگالنا نہایت آسان ہوجائے گا ۔
 اُن دنوں کمپیوٹر چونکہ نیا نیا آیا تھا ، لہذا یہ تجویز ہنس کر اُڑا دی ، اور مہاجر زادہ کا  علم ِ  کمپیوٹرّیاضی  کسی کام نہ آیا ۔
اب جب مہاجرزادہ ، اُفق کے پار ماضی میں جھانکتا ہے  ۔  توسوچتا ہے کہ اگرماضی میں یہی تجویز مان لی جاتی تو ، پاکستان کے ہر فرد کی جنم کُنڈلی بنائی جا سکتی تھی ۔
اور  کیسے پاکستان کے ہر فرد کے خرید وفروخت کا ریکارڈ، خود بخود ، ایف بی آر کے ریکارڈ میں  جمع ہوتا رہتا ۔ جس کو سال کے آخر میں صرف ،ایک  جملے  کے آگے ٹک لگا کر
    ٹیکس ریٹرن میں تبدیل کیا جاسکتا ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔