میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 15 ستمبر، 2019

آئن سٹائن کا خدا

ایک چالیس سال پرانا دوست ،  دو سالہ  اکیڈمی فیلو  ، اُس نے وٹس ایپ پر آئن سٹائن کے خدا کے نام سے انگلش میں ایک مضمون ڈالا   جو سپائینوزا    (Spinoza) کا  خود ساختہ  خدا ہے ۔  میرا دوست بھی جزاء و سزا اور آخرت کے بارے میں یقین نہیں  رکھتا ، اُس کا بھی کہنا ہے کہ سپائینوزا    (Spinoza) کے خدا   کی خاصیت ،  ہوبہو میرے خدا  سے ملتی  ہے ۔
 پہلے مضمون ، بعد میں میر ی رائے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 کہا جاتا ہے کہ جب بھی ، آئن سٹائن نے مختلف یونیورسٹیوں میں لیکچر دیا تو طلباء اُس سے ایک سوال ضرور پوچھتے ۔ 
کیا آپ خدا پر یقین رکھتے ہو ؟
تو وہ ہمیشہ ایک ہی جواب دیتا ، 
" میں سپائینوزا    (Spinoza) کے خدا پر یقین رکھتا ہوں "۔
بہت سوں کو نہیں معلوم کہ،   سپائینوزا    (Spinoza) کے خدا کون تھا ؟
Baruch De Spinoza ، ایک  پرتگیز   یہودی النسل   سے تعلق رکھنے والا  ڈَ چ   فلاسفر تھا ۔ 
جو اپنے وقت کا ایک  حقیقت پرست فلاسفر  اور نقّاد  کے طور پر  مشہور تھا  ۔تالمود تورا  کا ماہر تھا ، لیکن 21 سال کی عمر میں اُسے  27 جولائی 1656  میں اُسے یہودیت سے خارج کردیا گیا ۔   اُس نے  فرینچ فلاسفر ،    Rene Descartes  ۔  ( 1596-1650)   ، سائینسدان، حساب دان اور فلاسفر  تھا ، کی فلاسفی پر ریسرچ کی اور اپنایا  ،     سپائینوزا ایمسٹرڈیم میں  24 نومبر 1932 میں پیدا ہوا اور  44 سال کی عمر میں  21 فروری 1677 میں  ہیگ میں فوت ہو ا ، والد ایک بزنس مین تھا ۔ 
اب ہم آتے ہیں  ،  فلاسفر سپائینوزا    (Spinoza) کے  اپنے خدا  کے اقوال پر، جو تالمو تورا سے منحرف ہونے کے بعد    اُس نے    اپنے لئے خود تخلیق کیئے  :
٭-  دعائیہ کلمات اور اپنے سینے پر دوہتڑ مارنا بند کرو ! میں چاہتا ہوں کہ تم دنیا میں باہر جاؤ اور مزے کرو !
٭-   میں چاہتا ہوں  تم گاؤ ، مزاح  کرو ،اور ہر اُس چیز کا  مزہ اُڑاؤ   جو میں نے تمھیں دی ہیں ۔
٭- اُن اداس ، تاریک  اور ٹھنڈے   مکانوں میں مت جاؤ جنہیں تم نے بنایا اور میرا گھر قرار دے دیا ۔
٭- میرا گھر تو پہاڑوں میں ہے ، جنگلوں میں ہے ، دریاؤں میں ہے ، جھیلوں میں ہے اور سمندر کے ساحل پر ہے ، جہاں میں رہتا ہوں اور اپنی محبت کا اظہار کرتا ہوں ۔ 
٭-  اپنی مصیبت زدہ زندگی پر مجھے الزام مت دو ، میں نے کب کہا کہ تم گناہ گار ہو ؟
خوفزدہ ہونا بند کرو ، میں نہ تمھیں   جج کرتا ہوں نہ تمھیں ٹوکتا ہوں اور نہ ہی غصہ ہوتا ہوں ، مجھے کسی کی پرواہ نہیں  اور نہ ہی میں نے تمھارے لئے سزائیں بنائیں ہیں ، میں صرف محبت ہوں ۔
٭- مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مت  مانگو !   کوئی ایسی وجہ  نہیں کہ تمھیں معاف کیا جائے ، اگر میں نے تمھیں تخلیق کیا ہے  ، تو میں نے ہی تم میں بردباری ، کمزوریاں ، خوشیاں ، ضروریات  اور خامیوں   کی خواہشات بھری ہیں ،
 - میں کیسے اُس بات پر تمھیں الزام   یا  سزا دوں  جو میں نے تم میں ڈالیں ہیں ؟
- جب میں نے تمھیں ایسا ہی بنایا ہے جیسے تم ہو تو میں تمھیں کیوں سزا دوں ؟
ـ کیا تم یہ سوچ سکتے ہو ۔ کہ میں اپنے تمام بچوں کو جلانے کے لئے ایسی جگہ بناؤں گا ۔جس میں نافرمانی کی وجہ سے تمام زندگی کے لئے ڈال دوں ؟
- کِس قسم کا خدا ایسا کر سکتا ہے؟
٭- اُن تما م احکامات اور قوانین  کو بھول جاؤ   ، جو تمھیں استعمال کرنے ،  قابو کرنے اور صرف  تمھارے اندر  شرمندگی پیدا کرنے کے لئے  بنائے گئے ہیں ۔
٭ ۔ اپنے  خیالات کی ہم آہنگی کی عزت کرو ، اور دوسروں کے لئے وہ مت چاہو جو اپنے لئے پسند نہیں کرتے ہو ۔
 ٭- میں تم سے صرف  یہ  چھتا ہوں کہ اپنی زندگی پر توجہ دو ،  جو تمھاری آگاہی  اور تمھاری ھادی ہے ۔
٭- یہاں اور وہاں صرف زندگی ایسی چیز ہے جس کی تمھیں ضرورت ہے۔
٭- میں نے تمھیں مکمل آزاد بنایا ہے ۔ کوئی انعام یا سزا نہیں ، کوئی  گناہ یا خوش نصیبی نہیں ،  کوئی بھی   (گناہوں کے ) نشانات  نہیں اٹھائے گا اور کوئی بھی اپنے (اعمال کا) حساب ساتھ نہیں لے جائے گا ۔
٭- تم اپنی زندگی میں جنت یا جہنم  بنانے کے لئے بالکل  آزاد پیدا کئے گئے ہو !
٭-  میں تمھیں یہ نہیں  کہہ سکتا کہ  اِس زندگی کے ختم ہونے کے بعد بھی کوئی زندگی   ، لیکن میں تمھیں ایک اشارہ ضرور دے سکتا ہوں  ، ایسے زندگی گذارو کہ بس  یہی زندگی ہے ۔
٭-  تمھارے لئے انجوائے اور محبت کرنے کے لئے بس صرف یہی زندگی ہے ۔
٭- اگر  ایسا کچھ نہیں تو جو موقع میں نے تمھیں دیا  ، کیا تم اُس سے لطف اندوز ہوئے ؟
٭- اور اگر ایسا ہوا بھی تو میں تم سے  یہ نہیں پوچھوں گا کہ تم نے اچھا کیا یا بُرا ؟
٭- میں تم سے یہ سوال ضرور کروں گا :
- کیا تم نے اِس  (دنیادی ) زندگی کو پسند کیا ؟
- کیا تم نے مزے اُڑائے ؟
ـ تمھیں سب سے زیادہ کیا پسند آیا ؟
ـ تم نے کیا سیکھا ؟
٭ ۔ بس اب مجھ پر آنکھیں بند کرکے ،ایمان لانا بند کرو ! یہ صرف اندازے  ، گمان اور قیاس ہیں  ، میں نہیں چاہتا کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ،۔
٭- میں چاہتا ہوں کہ تم اُس وقت مجھے محسوس کرو جب:
- تم اپنی محبوبہ کو بوسہ دیتے ہو ۔ 
- جب تم اپنی  چھوٹی بیٹی  کے ساتھ کھیلتے ہو ۔
- جب تم اپنے کتّے کو پیار کرتے ہو ۔
- جب تم سمندر میں نہاتے ہو ۔
٭- میری تعریفیں کرنا بند کرو !
٭- تم مجھے کس قسم کا انا پرست خدا سمجھتے ہو ؟
٭ - میں تمھاری تعریفوں  سے بور ہو چکا ہوں اور تمھارے خیالات سے  تنگ آچکا ہوں ۔ 
٭- اگر تم میرے شکر گزار بننا چاھتے ہو  ، تو اپنا ، اپنی صحت ، رشتہ داریاں  اور اپنے ارد گرد کی دنیا کا  خیال رکھو۔
٭- جب تم خوشی سے بے قابو ہوجاؤ ، تو اِس  اظہار کرو ۔بس یہی میری تعریف کا طریقہ ہے ۔
٭- یہ بات یقینی ہے کہ تم   موجود ہو ، تم زندہ ہو  اور یہ دنیا عجائبات سے بھری ہوئی ہے ۔
٭ ۔تمھیں مزید معجزات کِس لئے چاھئیں ؟
٭- اتنی وضاحتیں  کِس لئے ؟
٭- تم مجھے باہر مت دیکھو ،  تلاش  نہیں کر سکو گے ، میں تو تمھارے اندر دھڑک رہا ہوں  ،

Baruch De Spinoza 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔