میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 23 ستمبر، 2019

لاہوریوں کا پُھدکنا

سوشل میڈیا نے پاکستان میں ہر طرف تھر تھلی مچائی ہوئی ہے ۔
اِس تھرتھلی کا سہرا، 2014 کے دھرنوں سے شروع ہوتا ہے ۔ جب اتنی کثرت سے جھوٹ بولا گیا کہ اب سچ خال خال سنائی دیتا ہے ۔
 دو یا تین دن پہلے ایک تصویر نے  پاکستان میں ریکارڈ توڑا  اور بہت اونچی ریٹنگ لے گئی ۔ اُس کے ساتھ جو خبر تھی اُس نے  ہوٹلنگ کے شوقین  کو یقیناً پریشان کیا ہوگا ۔ 
اور ہمیں بھی لاہوریوں کا پُھدکنا سمجھ  آیا ۔ 
ویسے ایک بات یاد آئی ، کہ ،
کھانے والے مینڈک صرف بنّوں میں 1978 میں پائے جاتے تھے  ۔  جب بارش ہوتی تو  بلاشبہ   باڈی بلڈر ٹائپ  مینڈک سڑکوں پر اچھلتے پھرتے اور بالآخر کسی کار کے نیچے آکر کچلے جاتے ۔ 
شائد اب بھی ہوتے ہوں ؟
 ٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔