میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 6 ستمبر، 2019

غذا اور غذائیت

اللہ نے انسانی جسم کی نشونما کے لئے ، بطورِ خوراک  اَن گنت خوردنی اشیاء پیدا کی ہیں ، جن کو کھا کر وہ اپنی جسمانی غذائی ضرورت پوری کرتا ہے ۔مناسب اور متوازن غذا ہی انسان کی نشونما اور صحت   میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ انسانی غذا میں  خالقِ کائینات کی تخلیق کردہ  چھ اشیا ء  انسانی غذائی ضروریات کے لئے نہایت اہم ہیں ۔ پانی ، کاروہائیڈریٹس ، پروٹین، چربی ، وٹامن اور نمکیات ۔ 
ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ خوراک کے بغیر صرف پانی پر انسان تقریباً چالیس دن یا اِس سے زیادزندہ رہ سکتا ہے ۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ بالغ  انسان کا معدہ،   ایک کلوگرام /لٹر سے 4 کلوگرام /لٹر تک غذائی اشیاء  یا مائع  ، اپنے اندر رکھ سکتا ہے ۔  لیکن شاید  کئی لوگوں کو یہ نہ معلوم ہو کہ ، صرف 750 گرام معدے میں جانے والی غذا ، انسانی جسمانی ضرورت  کے لئے کافی ہے ۔ اُس سے زیادہ  خوراک  جسم کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان پہنچاتی ہے ۔ 
لیکن اگر زیادہ غذا کھانے والا ، مشقت کے کام کرتا ہو  ، تو معدے میں جانے والی غذا تونائی کی صورت میں استعمال ہو جاتی ہے ۔ 
ہمیں اِس بات پر لازمی توجہ دینا چاھئیے  کہ ہمارے معدے میں پہنچنے والی غذا    ، ہمارے جسم کا حصہ بنتی ہے ، ضائع ہو جاتی ہے یا جسم میں ذخیرہ ہوجاتی ہے ۔
بچپن سے لے کر بڑھاپے تک انسانی غذائی ضروریات ایک سی نہیں رہتی ،ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ایک متوازن غذا ،  نہ صرف انسانی جسم کو توانائی مہیا کرتی ہے بلکہ  بیماریوں سے بھی دور رکھتی ہے  ۔ 
ایک اوسط کام کرنے والی خاتون کو روزانہ  2000 اور مرد کو 2500 کیلوریز  کی ضرورت ہوتی ہے ۔  جبکہ ایک کلوگرام    سادہ خوراک میں 3500 کیلوریز ہوتی ہیں ۔ 
اب یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ روزانہ آپ نے کتنی خوراک لینا ہے اور اُس میں غذائیت کتنی ہو ؟   پھر جتنی کیلوریز آپ  اپنے جسم کو مہیا کرتے ہیں کم و بیش اُتنی ہی کیلوریز آپ کو  استعمال کرنا ہوتی ہیں ۔  
یاد رہے ، کہ خوراک کا انتخاب ، آپ کے علاقے اور وسائل پر ہے ۔   لیکن آپ کی خوراک میں ،    کاروہائیڈریٹس ، پروٹین ، وٹامن ، چربی اور نمکیات  لازمی شامل ہوں ، بیماری کی صورت  یعنی  بلڈ پریشر  یا ذیابیطس میں  آپ کو  اِن میں سے کچھ اجزاء اپنے ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق کم کرنا ہوں گے ۔
ڈاکٹر عائشہ بنتِ مشتاق
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔