میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 29 ستمبر، 2019

یوتھیاپا کا پاکستان میں آواگون

جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ یوتھیاپا ایک ایسی بیماری ہے کہ جس کا تعلق ایک ایسی یوٹوپیائی سلطنت سے ہے ۔ جِس کی بنیاد جھوٹ پر رکھی جاتی ہے ۔  اور وہ تمام جو ایسی  سلطنت کی بنیاد رکھتے ہیں اُن  کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے ۔ 
یہ میرا نہیں اُس شخص کے تخلیق کرنے والے کا قول ہے جو آفاقی سچ ہے :
 یأَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ 
[61:2]
مکّاری اُن کی گھٹی میں رچی بسی ہوتی ہے ، جس کی  ابتداء ماں سے ہوتی ہے اور باپ کی تربیت اُسے پروان چڑھاتی  ہے ۔ 
ایسا شخص بلا تکان جھوٹ ، سچ کی آڑ میں  قسم کھا کر بولتا ہے ۔ اِس منافقانہ جھوٹ پر وہ  نوجوان جو جھوٹ سننے کے عادی ہیں   ۔ وہ اِسے سچ سمجھ کر پھیلاتے ہیں ۔اور اور ہڈ حرام مُفت کی کمائی کھانے والے ، اِسے سن کر مارے حیرت کے گُنگ ہوجاتے ہیں کہ کیا ایسا بھی ممکن ہے ؟
 وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّـهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ ﴿2:204﴾
چلیں میری نہیں  ، لوگوں کی سنیئے !
کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے ،لیکن وہ ہوا کے دوش پر بدبو کی طرح پھیلتی رہتی ہے ۔ 
لیکن جھوٹ  بولنے ولا اتنا مکّار ہوتا ہے  ، کہ وہ   جھوٹ بولتے وقت  ، چند معذرت کے الفاظ بھی بولتا ہے ۔ 
وہ جن کو   جھوٹ سننے کی بیماری ہوتی ہے جسے  وہ مکّاری سے  معذرت نکال کر آگے اتنی شد و مد سے پھیلاتے ہیں کہ سچ،  یوتھیاپے کے غبار میں چھپ جاتا ہے ۔ اور جھوٹ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے ۔اور جھوٹ پسند کرنے والے    ، یوتھیاپے  کے مریض   اُسے اپنا میعار بنا لیتے ہیں ۔
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ ﴿21:18
لیکن حقیقت جاننے والے ، اللہ  کی مدد سے  حق  پر چڑھے  ، باطل کے ملبوسات کی پرتیں  اتارتے  رہتے ہیں ۔ 

باطل کے ملبوسات  پہننے والے میں ، یوتھیاپا جنم لیتا ہے ۔
آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ یوتھیاپے کی ابتداء   پاکستان میں ہوئی ۔ 
نہیں!
جناب ، یہ مرض بہت پرانا ہے ۔
٭ ٭٭٭٭٭٭٭
٭-یوتھیاپا ۔ کا بانی کون ؟


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔