میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 28 ستمبر، 2019

عجیب بیماری ۔ مسّوں کا ہوائی جڑیں بن جانا

بنگلہ دیش کے اِس نوجوان جس کا نام ابو بجندر ہے ،  کو دونوں ہاتھوں پر عجیب بیماری ہے ۔
جس کی وجہ سے اُس کی انگلیوں سے  جڑ نما   سخت قسم کے مسّوں نما خلیے بن رہے ہیں اور وہ   بڑھ کر کسی درخت کی جڑوں سے مشابہ ہوتے ہیں ۔ 
یہ نہ صرف ہاتھوں پر ہے بلکہ پیروں پر بھی یہیں  خلیے نکل رہیں ہیں ۔


24 سرجری کے بعد بھی اِن خلیوں کر دوبارہ نمودار ہونا ختم نہیں ہوا ۔
ڈھاکا ہسپتال کے سرجن   سمنتا لعل سین  کے مطابق یہ ایک ایسا کیس ہے  ، جو بہت پیچیدہ ہے  ، جس کا ٹھیک ہونا ناممکن ہے ۔ 

جنوری 2016 میں ابو بجندر  جو پہلے رکشہ کھینچتا تھا اُسے 25 سال کی عمر میں یہ بیماری شروع ہوئی تو وہ ہسپتال آیا ۔ ڈاکٹروں کے لئے مسّوں بھرے ہاتھوں کا یہ انکھا کیس تھا جس میں ، مسّے  بڑھتے جا رہے تھے اور رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے ، سرجن   سمنتا لعل سین   نے ذاتی دلچسپی لے کر اِس نوجوان  کےآپریشن  کئے ۔ جن کی تعداد 24 ہے جو ایک سال میں کسی بھی انسان پر کئے جانے والے آپریشنز میں سب سے زیادہ ہے ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مہاجرزادہ نے ،  اِس بیماری کو گوگل سے چیک کیا تو  معلوم ہوا کہ اِس بیماری کو  
 (Epidermodysplasia verruciformis ( EV  ، جسے ٹری مین سنڈروم بھی کہا جاتا ہے ، ایک انتہائی نایاب آٹومومل ریسیسییو  جلد کے کینسر کے اعلی خطرہ سے وابستہ جلد کی موروثی بیماری ہے ۔ اس کی خصوصیات جلد کے انسانی پیپیلوما وائرس (HPVs) کی غیر معمولی حساسیت کی ہوتی ہے۔   
نتیجے میں بے قابو HPV انفیکشن کے نتیجے میں اسکیلی میکولس اور پیپلوں کی نشوونما ہوتی ہے ، خاص طور پر ہاتھوں اور پیروں پر۔
 یہ عام طور پر HPV اقسام 5 اور 8 کے ساتھ منسلک ہوتا ہے ،  جو عام آبادی کے تقریبا 80٪ میں غیر تسلی بخش انفیکشن کے طور پر پائے جاتے ہیں ،  اگرچہ دوسری اقسام بھی اس میں حصہ ڈال سکتی ہیں۔ 
یہ حالت عام طور پر ایک سے 20 سال کی عمر کے درمیان ہوتی ہے ۔ مگر درمیانی عمر میں بھی موجود ہوسکتا ہے۔ 
 اس حالت کو لیونڈوسکی - لٹز ڈسپلیا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، جس کا نام ڈاکٹروں فیلکس لیوینڈوسکی اور ولہیلم لٹز۔  کے نام پر رکھا گیا تھا ، جنھوں نے پہلے اسے دریافت کیا ،
٭-  جو 1973 میں لاس اینجلس کے  ایک نوجوان میں نمودار ہوئیں ۔ 

٭- مارچ 2007 میں ، ایون ٹوڈر نامی رومانیہ کے ایک شخص کو یہ مرض ہوا تھا۔ 
٭ - نومبر 2007 میں ، اسی طرح کی بیماری میں مبتلا 34 سالہ انڈونیشی شخص کی ڈیڈ کوسوارہ نامی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر سامنے آئی۔
26 اگست 2008 کو ، کوسوارا اپنے جسم سے 6 کلو (13 پونڈ) وارٹ کے 96 مسّے  نکالنے کے لئے سرجری کے بعد گھر واپس آیا ۔
  سرجری میں تین اقدامات شامل ہیں:
1-  اس کے ہاتھوں پر مسوں اور بڑے پیمانے پر سینگوں کے گھنے قالین کا خاتمہ۔ 
2- اس کے سر ، ٹورسو اور پیروں پر چھوٹے چھوٹے  مسّوں کو ہٹانا۔
 3- ہاتھوں کو چھپی ہوئی جلد سے ڈھکنا۔
٭- کوسوارا کے لئے ، ڈسکوری چینل نے خون کے تجزیے کے لئے مالی اعانت فراہم کی اور پتہ چلا کہ اس میں خمیر کے انفیکشن سے لڑنے کے لئے مدافعتی نظام کے اینٹیجن کی کمی ہے۔ اس کی پیش کش کی گئی تھی کہ وہ قابل علاج ہے یا نہیں اس بات کا تعین کرنے کے لئے مزید ٹیسٹ چلائے جائیں ، اور ڈاکٹر کافی حد تک پر امید تھے ، لیکن انہوں نے علاج سے انکار کردیا۔
٭- کوسوارا نے 2011 کے موسم بہار میں دوبارہ گنتی وارٹس کو ختم کرنے کے لئے جراحی کے نئے طریقہ کار کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ تاہم ، سرجری کوسوواڑ کے لئے ایک عارضی حل ثابت ہوا تھا ۔اور 42 سال کی عمر می کوسوارا کا اِس بیماری کی وجہ سے انتقال ہوا ۔ 

٭ـ جنوری 2017 میں یہ اطلاع ملی تھی کہ بنگلہ دیش میں ایک 10 سالہ بچی ، سہانا خاتون ، کو یہ بیماری لاحق ہو گئی ۔
٭- اگست 2017 میں یہ اطلاع ملی تھی کہ غزہ سے تعلق رکھنے والا ایک 42 سالہ شخص ، محمد تولی ، کا یروشلم میں واقع حدساہ میڈیکل سنٹر میں کامیابی کے ساتھ آپریشن کیا گیا تھا۔
٭- اکتوبر 2018 میں ، ہونڈوراس میں پانچ سالہ بچی ، کرسٹل سویاپا مارٹنیز ، کی حالت تشخیص ہوئی۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔