میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 8 ستمبر، 2019

ناک کا سوال ہے بابا

ناک سے کون فرد نا آشنا ہے۔

 ہر وہ شخص جس کی دسترس میں ایک مُکّا ہے اس کی نظر دوسرے کی ناک پر رہتی ہے اور جس کی ملکیّت میں ایک چھوٹا یا بڑا آئینہ ہے اس کی نظر، وہ چاہے یا نہ چاہے، اپنی ناک پر رہتی ہے۔
 اسی لئے ہم سمجھتے ہیں اور جب موقع ملتا ہے تو سمجھاتے ہیں کہ آئینہ کو آئیناک کہنا چاہیے۔ بلکہ چونکہ آئینہ کا لفظ جب بولا سنا جائے تو آئین کی یاد دلاتا ہے، وہی آئین جو پیچھے پلٹ کر دیکھنے کی پاداش میں پتھرا کر رہ گیا، اس لیے آئینہ کا آ نکال دیا جانا چاہیے اور صرف ایناک کہا جائے تو اور بھی اچھا ہوگا۔ پھر تو کسی کو بھولے سے بھی آئین کا خیال نہیں آئے گا۔
اگر کسی دوست کو آئین کے پتّھرا جانے کے بارے میں کوئی شک ہو تو یہی دیکھ لیجیے کہ پچھلے دنوں (اگست 2019 کے پہلے ہفتے میں) انڈیا نے کشمیر کے بارے میں جو اندوہناک فیصلہ کیا، اس کا ہمارے یہاں کیا رد عمل ہوا؟ 

کوئی جمہوری ملک ہوتا تو سب سے پہلے پارلیمان کا اجلاس بلایا جاتا مگر ہمارے یہاں اجلاس کس کا ہوا؟
 فوج کی اعلیٰ قیادت کا۔ وہی اصل پارلیمان ہوئی نا؟

اگر یہ سوال پوچھا جائے کہ انسان شروع کہاں سے ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب دینا شاید آسان نہ ہو۔ لیکن تجربہ کہتا ہے کہ کسی چیز کا جواب سمجھ میں نہ آئے تو اس کی مشابہ چیزوں میں تلاش کرنا چاہیے تو ہم کیوں نہ اس کا جواب شیر میں تلاش کریں۔ اب تو ایک بچہ بھی بتا دے گا کہ شیر ناک سے شروع ہوتا ہے اور دم پر ختم ہوتا ہے۔
تو ہمارا خیال ہے کہ ہر وہ شخص جو ایک وسیع و عریض توند کا مالک ہے ۔۔ادھر ادھر دیکھنے کی ضرورت نہیں، ایسا کوئی شخض ہماری محفل میں نہیں۔  ماشاء اللہ سب ہی اسمارٹ ہیں ۔ بہرحال ایسا شخص توند سے شروع ہوتا ہے اور کسی دروازے سے داخل ہو تو سب سے پہلے اسکی توند اندر جاتی یے۔ لیکن جو لوگ کسی ایسی توند سے محروم ہیں وہ بلا شبہ ناک سے شروع ہوتے ہیں اس لیے ہم ناک کو کسی بھی اسمارٹ انسان کا پہلا تعارف کہہ سکتے ہیں۔

اسی لیے تو زمانہ قدیم سے لوگ انسانوں کا ناک نقشہ ہی دیکھتے آئے ہیں۔ کبھی کسی کو آنکھ نقشہ، کان نقشہ یا ہونٹ نقشہ دیکھتے نہیں دیکھا۔
ناک وہ اہم ترین شے ہے جو کسی چہرے کی صورتی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، صورتی خوب ہو یا بد۔ رنگ و نسل اور انفرادی کارستانیوں کے سبب ناکیں بھی بھانت بھانت کی پائی جاتی ہیں۔ ان میں خوابناک، حیرتناک، عبرتناک، وحشتناک، دہشتناک، حسرتناک، خطرناک، خوفناک، دردناک، کربناک، اندوہناک، تابناک اور ہولناک وغیرہ سبھی ناکیں شامل ہیں۔ خوابناک تو وہ ناک ہے جو خوابوں میں ہی ملے، سوکھے ہوئے پھولوں جیسی۔
حیرتناک وہ ناک ہوئی جو بہت خوبصورت ہو اور جس کو دیکھ کر انسان بے ساختہ کہہ اٹھے
ایسی فنکاری بھی یارب کیا ترے دفتر میں تھی
عبرتناک وہ ناک ہوتی ہے جو اتنی زیادہ ہو کہ انسان اپنی ناک کا ضمیمہ محسوس ہونے لگے۔

وحشتناک ایسی ناک جس پر عرصے سے نظرِ ثانی نہ کی گئی ہو۔ 
دہشتناک وہ ناک ہوتی ہے جو واقعی عجیب سی ہوتی ہے۔ اچھے بھلے شریف انسان کی ناک دیکھ کر ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی ہونے لگتی ہے۔ 
حسرتناک ایسی ناک جسے ہونے کی حسرت ہو۔ خطرناک وہ ناک ہے جسے دیکھ کر لگے کہ اس کا حامل، خواتین کے لیے بھی حامل کا لفظ ہی استعمال ہو گا، روزانہ دو چار قتل تو کرتا ہی ہوگا۔ اسی طرح خوفناک وہ ناک ہے جسے دیکھ کر عجیب سا خوف محسوس ہو کہ اب یہ شخص ٹشو پیپر مانگے گا۔جو ہمارے پاس نہ ہوا تو؟
دردناک وہ ناک ہے جس پر کسی بچے نے اپنا سر دے مارا ہو۔

کربناک وہ ناک ہے جس پر بینڈیج لگی ہو۔ سبب کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ 
اندوہناک کسی بچے کی وہ ناک ہے جس کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ ناک بھی مائع بہا رہی ہو۔ 
تابناک وہ ناک ہے جو سات گھنٹے پہلے ہی پاؤنڈز کے سات روزہ وظیفے سے فارغ ہو گر جگمگا رہی ہو۔۔۔۔اور 
 ہولناک آف کورس وہ ناک ہے جس میں کیل یا نکیل پہننے کے لیے ہول یعنی سوراخ ہو۔
کیا اب بھی ضرورت ہے کہ ہم ناک کی اقلیدسی تقسیم یعنی لمبوتری ناک۔۔۔ کھڑی ناک۔۔ موٹی ناک یا بالکل چپٹی ناک۔۔۔پکوڑہ ناک وغیرہ کا جنجال سامنے لائیں ۔۔۔نہیں نا!

بس اتنا جان لیجیے کہ جب کسی گھر میں ایک فرد کا اضافہ ہونے والا ہو تو ماں کہتی ہے اللہ نہ کرے منے/منی کی ناک اپنے باپ کی طرح ہو۔ 
جبکہ باپ کہتا ہے دیکھ لینا بیٹا ہو یا بیٹی ناک میری طرح ہی ہو گی۔ 
ہاں ایک طوطا ناک ایسی ناک ہے جس پر روشنی ڈالنے کو جی مچل رہا ہے۔ ہماری امّی کی ناک بالکل کھڑی سی تھی جو ان کے باریک فیچرز کے ساتھ ان کے حسن کی شان بڑھاتی تھی۔۔ ویسے تو ایسی ناک کو سَتواں ناک کہتے ہیں۔ مگر پتا نہیں کیوں امّی بتاتی تھیں کہ اس ناک کو طوطے کی چونچ سے مشابہت کے سبب طوطا ناک کہتے ہیں۔
کیا قسمت ہے طوطے کی بھی۔ کبھی کوئی طوطا چشم کہلائے!
کبھی کسی کی ناک کو طوطا ناک کہا جائے، کبھی کسی بچے کو رٹّو طوطا کہا جائے، 
کبھی کسی بڑے کو اپنے منہ میاں مٹھو، اور کچھ نہ ہو تو ایک انتہائی بدشکل آم کو طوطا پری کہہ دیا جائے۔ 
طوطوں کی تو خیر ہے لیکن سوچیئے، پری کے دل پر کیا گزرتی ہو گی؟
اور زیادہ پرانی بات بھی نہیں کہ وزیر خارجہ صاحب زادہ یعقوب خان کی ناک بھی طوطا ناک کہلاتی تھی۔۔۔ شاید اسی کی برکت سے ان کی پروقار شخصیت ماحول پر چھا جاتی تھی ۔۔۔اور شائد اس ناک کے باعث ہی ہم نے اپنے پڑوسی اور ان کے پڑوسیوں کو چھوڑ کر سات سمندر پار طوطا چشم امریکہ سے یاری گانٹھی ہوئی تھی ۔
نسیم حجازی سے کون نہیں واقف۔ سوائے بہت سے لوگوں کے۔ ان کے ایک کامیاب پیروکار اسلم راہی تھے جن کے اسلامی ہیروز کا حلیہ بہت دلچسپ ہوتا تھا اور ہمیں ایسے لگتا تھا کہ مفت میں چڑیا گھر کی سیر بھی ہو گئی ہے۔۔کیسے؟
ملاحظہ کیجیے اسلامی ہیرو کا حلیہ۔۔
اسکی کمر چیتے جیسی، نظریں عقاب کے جیسی اور ناک ہاں ناک ۔۔اس ناک کی خاطر ہی تو بیان جاری ہے جی ہیرو کی ناک طوطا ناک تھی۔

لیکن اب زمانہ بدل رہا ہے اورطوطا ناک کی جگہ چپٹی ناک کی اہمیت بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ یہ کرشمہ ہے چین کے دنیا کی پہلی یا دوسری بڑی اقتصادی طاقت بننے کا۔ اسی کو تو کہتے ہیں، یا شاید اس کو نہیں کہتے، بہرحال
خدا جب حسن دیتا ہے، نزاکت آ ہی جاتی ہے
گو ایک زمانے تک یہ بات بڑے دھڑلے سے کہی جاتی رہی ہے چینی ہوں یا جاپانی ناک نقشہ سب کا ایک سا ہوتا ہے، مگر جب سے گراں خواب چینی سنبھلنے لگے، ہمیں بھی ان کی شکلوں کا تنوع محسوس ہونے لگا۔ بھلا کہاں ژو این لائی کا بیضوی چہرہ اور کھڑی ناک اور کہاں ماؤ زے تنگ کا گول چہرہ اور دبی دبی سی ناک۔
جاپانیوں کے ملک میں جھک جھک کر سلام کرنے کی تہذیب شائد اس لیے رائج ہو سکی ہو کہ ان کی ناک اونچی نہیں ہوتی۔ لیکن ہم میں سے اکثر کی ناک اس قدر لمبی ہوتی ہے کہ ہر بات ہر چیز میں آرام سے کسی سازش کی بُو سونگھ لیتے ہیں ۔۔۔

اور چونکہ ناک بھی لمبی ہی ہے اس لیے پہلی سازش کے بارے میں کچھ کرنے کرانے سے پہلے ہی کسی اور سازش کی بو آجاتی ہے۔ اور پھر جیسے ایک پالتو جانور اپنی دُم پکڑنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے یوں دائرے کا سفر چلتا رہتا ہے۔
-------------------
آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہی ہوگا کہ ماما نے بچوں کو سمجھایا اور پپّو کو خاص تاکید کی کہ شام کو ایک معزز مہمان آئیں گے خبردار کوئی ان کی ناک کی بابت کچھ نہ کہے، ورنہ بُرا حشر ہوگا۔۔۔ سب بچوں کے ساتھ ساتھ پپّو نے بھی سر ہلا دیا ۔
اب جناب شام ہوئی۔ مہمان پھلوں اور مٹھائی کے ساتھ تشریف لائے۔ مہمان کو تزک و احتشام سے ڈرائنگ روم میں بٹھایا گیا۔ پپّو نے بیتابی کے مارے ڈرائنگ روم میں جھانکا مارا تو چلا اٹھا 

"ماما آپ نے تو کہا تھا مہمان کی ناک پر کوئی بات نہ کرنا مگر اَنکل کی تو ناک ہے ہی نہیں۔"
ناک تو ناک ہی رہے گی اور ناک جیسے الفاظ کا مفہوم بدلتے وقت کے ساتھ نہ بھی بدلے تو بھی قومیں ضرور اپنے شرمناک ماضی پر ناک بھوں چڑھاتے ہوئے تاریخ تک بدل لیتی ہیں۔ پر ہم سا عبرت ناک بھی کون ہوگا؟

 ہم نے تو تاریخ کے ساتھ ساتھ اپنا جغرافیہ بھی بدل ڈالا ہے۔۔ ہاں احتیاطاً نصابی کتب میں جمہوریت کی شان اور افادیّت کا ذکر ڈال دیا ہےتاکہ پپّو جیسے شرارتی بچے سوال نہ کر بیٹھیں کہ ماما یہاں جمہوریت کہاں ہے؟؟؟
اس سے پہلے کہ ہم ناک کے محاوروں کی طرف آئیں، کیوں نہ بچارے پنوکیو کا حال چال پوچھ لیں۔ پنوکیو ایک کٹھ پتلی تھا جس میں جان پڑ گئی تھی۔ اور وہ گھر سے بھاگ کھڑا ہوا تھا۔ اس کی خاص بات یہ تھی کہ جب بھی وہ کوئی جھوٹ بولتا تھا تو اس کی ناک کچھ لمبی ہو جاتی تھی۔ اب کوئی بغیر جھوٹ کے کیسے جی سکتا ہے؟چاہے سقراط ہی کیوں نہ ہو۔ تو ہوتے ہوتے پنوکیو کی ناک اتنی لمبی ہو گئی کہ اس سے ندی کا پل بنایا جا سکتا تھا۔
سنا ہے کہ اب ہماری حکومت نے ثمر مبارک مند کو یہ ٹاسک دیا ہے کہ انسانوں میں پنوکیو کی ناک کے جینز ڈالنے کی کوشش کریں۔ اگر اس میں بھی کامیابی ہو گئی تو ہماری ناکیں لکڑی کی ہوں گی اور عمارتی لکڑی کی کمی کا کوئی مسئلہ ہی نہیں رہے گا۔
کہتے ہیں کہ کسی ملک کے لوگوں کو جب آزادی ملی تو جشن منایا گیا۔ اس جشن کے شور شرابے میں ایک لڑکے کا ہاتھ ایک باکسر کی ناک سے جا ٹکرایا۔ باکسر نے احتجاج کیا،  تو وہ بولا ہم آزاد ملک کے آزاد باشندے ہیں، جو چاہیں گے کریں گے۔ باکسر نے فی الفور اس کو آٹھ دس مکّوں کی خوراک دی اور پھر کہا، 

"جوان تم اپنے ہاتھ کو ہلانے میں پورے طور پر آزاد ہو، مگر جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے وہاں یہ آزادی ختم ہو جاتی ہے۔"
ہماری پیاری حکومت نے بھی وحشتناک انداز میں خلائی مخلوق، دھاندلی اور سلیکٹڈ جیسے الفاظ لکھنے بولنے پر پابندی لگا دی ہے۔ گویا خبرناک دور میں بھی میری آزادی وہیں تک ہے جہاں سے حکومت کی ناک شروع ہوتی ہے۔ اور حکومت کی ناک تو پنوکیو کی ناک کی طرح ہر وقت بڑھتی جا رہی ہے اور ہمارے ہاتھ ہلانے کی گنجائش کم سے کمتر ہو رہی ہے۔۔
ہماری زبان میں بھی، دنیا کی دوسری زبانوں کی طرح، انسانی اعضاء کے بارے میں بہت سے محاورے رائج ہیں۔ ان میں سے ناک کے بارے میں چند دیکھتے ہیں۔
ناک بھوں چڑھانا ہمارا قومی کھیل ہے۔ یعنی کسی اپنے لیے ناپسندیدہ مگر دوسروں کی روزمرہ زندگی میں داخل چیز کو دیکھ کر چہرے کو ایسے بھینچنا کہ سامنے والے کو شرمندگی ہونے لگے۔ 

ناک کا یہ ایک استعمال دس ہزار الفاظ سے زیادہ کارگر ہوتا ہے۔ اس سے آپ کی اعلیٰ اور دوسروں کی ادنیٰ حیثیت کا بھی اظہار ہوتا ہے، فخر اور غرور بھی کماحقّہ ظاہر ہوتا ہے۔ جان بھی چھڑانے کے کام آتا ہے اور وقت کی بچت تو بونس میں۔ 
ایسے ہی ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینے کا معاملہ ہے۔ کہ کسی ناپسندیدہ بات کو مطلق برداشت نہ کرنا۔ جیسے ہماری افسرشاہی۔
ناک کٹ جانا ایک ایسا ہی محاورہ ہے۔ پرانے زمانے میں عموماً، اور آج بھی کبھی کبھی، لوگ اپنے دشمنوں کی اور مجرموں کی ناک کاٹ دیتے تھے۔ تو ناک کٹا شخص جسے نکٹا یا نکٹی کہا جاتا ہے اپنی سزا کا اشتہار خود ہوتا تھا۔ یہ کٹی ناک پھر خاندان کی ناک میں بدلی اور ذرا ذرا سی بات پر خاندان کی ناک کٹنے لگی۔ پھر اس سے بڑھ کر برادری، قبیلے، بستی اور ملک و قوم کی ناکیں بھی گھیرے میں آ گئیں۔ وہ تو شکر کی خاندان کی کٹی ناک اتنی آسانی سے دکھتی نہیں ورنہ کٹی دموں سے زیادہ کٹی ناکیں نظر آتیں۔
بانکوں پر عبد الحلیم شرر کا ایک بڑا معروف مضمون ہر ایک کی نظر سے ہی گزرا ہو گا۔ اس میں ایک بانکے میاں کی عجب داستان ہے جنہوں نے نواب صاحب کی ناک کٹوا دینے کی دھمکی سن کر خود اپنے خنجر سے اپنی ناک کاٹ کر اپنے والد کو پیش کر دی تھی۔
کہتے ہیں نواب سعادت علی خاں کے زمانے میں دہلی کے آئے ہوئے مشہور بانکوں میں ایک میرزا جہانگیر بیگ تھے۔ اُن کا نوعمری کا زمانہ تھا۔ باپ نواب صاحب کے درباریوں میں تھے۔ جہانگیر بیگ کی جھگڑا و فساد کی خبر کئی بار سُن کے نواب سعادت علی خاں خاموش ہورہے، مگر آخرکار ایک دن بہت برہم ہوئے اور اُن کے والد سے کہا

 ’’آپ کے صاحبزادے کی شورہ پشتیاں حد سے گزرتی جاتی ہیں اور انھوں نے سارے شہر میں اُدھم مچا رکھا ہے۔ اُن سے کہہ دیجیے گا کہ اپنے اس بانکپن پر نہ بھولیں۔ ناک نہ کٹوالی ہو تو میں سعادت علی خاں نہیں‘‘۔ 
 باپ خود ہی بیٹے کی حرکتوں سے عاجز تھے۔ عرض کیا ’’خداوند! اُس کی شرارتوں سے غلام کا ناک میں دم ہے۔ ہزار سمجھاتا ہوں نہیں مانتا۔ شاید حضور کی یہ دھمکی سُن کے سیدھا ہوجائے‘‘۔
 یہ کہہ کے گھر آئے اور بی بی سے کہا ،
’’تمھارے صاحبزادے کے ہاتھوں زندگی سے عاجز آگیا ہوں۔ دیکھیے اس نالائق کی حرکتوں سے ہماری کیا گت بنتی ہے؟ جی چاہتا ہے نوکری چھوڑ دوں اور کسی طرف منہ چھپا کے نکل جاؤں‘‘۔
 بی بی نے کہا،
 ’’اے تو کچھ کہو گے بھی؟ آخر ہوا کیا؟‘‘
 کہا ’’ہوا یہ کہ آج نواب صاحب بہت ہی برہم بیٹھے تھے۔ میری صورت دیکھتے ہی کہنے لگے اپنے بیٹے سے کہہ دینا کہ میں سعادت علی خاں نہیں جو ناک نہ کٹوالی ہو‘‘۔ 
اتنے میں مرزا جہانگیر بیگ جو کہیں باہر گئے ہوئے تھے، گھر میں آگئے۔ ماں نے کہا 
’’بیٹا خدا کے لیے اپنی یہ حرکتیں چھوڑدو، تمھارے ابا بہت ہی پریشان ہیں‘‘۔ 
مرزا صاحب نے کہا،
 ’’میرا کچھ قصور بھی بتائیے گا یا خالی الزام ہی دیجیے گا‘‘۔ باپ نے کہا،
 ’’کوئی ایک قصور ہو تو بتایا جائے؟ تم نے وہ سر اُٹھا رکھا ہے کہ سارے شہر میں آفت مچ گئی۔ آج نواب صاحب کہتے تھے کہ اپنے صاحبزادے سے کہہ دینا میں سعادت علی خاں نہیں جو ناک نہ کٹوالی ہو‘‘۔ 
 باپ کی زبان سے اتنا سنتے ہی مرزا صاحب کو جو طیش آیا تو کمر سے خنجر نکال لی اور خود ہی اپنی ناک کاٹ کے باپ کی طرف پھینک دی اور بولے،
 ’’بس اسی ناک کاٹنے کی نواب صاحب دھمکی دیتے ہیں؟ لیجیے یہ ناک لے جاکے انھیں دے دیجیے‘‘۔
 یہ دیکھتے ہی ماں باپ دونوں سناٹے میں آگئے اور جب باپ نے بیٹے کی ناک نذر کے طریقے سے نواب صاحب کے سامنے پیش کی اور واقعہ بیان کیا تو وہ بھی دم بخود رہ گئے اور معذرت کرنے لگے کہ ،
’’بھئی میرا یہ منشا نہ تھا، میں تو سمجھا تھا کہ اس دھمکی سے انھیں تنبیہ ہوجائے گی‘‘۔
 باپ نے کہا ، ’’خداوند! ایسا نالائق اور اپنی دُھن کا پکّا ہے کہ کسی کا زور ہی نہیں چلتا۔ جسے نہ جان کا خیال ہو نہ عزت آبرو کا، اُس کے منہ کون لگے؟‘‘
ایسے ہی ایک محاورہ، " نکّو بنانا ہے"۔ یعنی کسی کو بیوقوف بنانا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ کئی بچے مل کر کسی ایک بچے کو کہتے ہیں کہ تمہارے چہرے پر ناک لگی ہوئی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ناک کے اندر کی رطوبت لگی ہے۔ بار بار صاف کرنے پر بھی یہی کہا جاتا ہے اب بھی لگی ہوئی ہے۔ اب جب وہ رونے کے قریب ہوجاتا ہے تو اس کی ناک پکڑ کر کہتے ہیں یہ ناک ہے جو لگی ہوئی ہے۔
"ناک سے لکیریں کھنچوانا"، بھی ایسی ہی ایک سزا ہے جس کا مقصد دوسرے کو بےحد ذلیل کرنا اور اس سے اس کی بے بسی اور عاجزی منوانا ہوتا ہے۔
"ناک میں دم کر دینا" بھی ایسی ہی ایک چیز ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی کو اتنا تھکایا جائے کہ اس کی سانس بہت تیز تیز چلنے لگے، لیکن رفتہ رفتہ اس کا مفہوم ستانے اور عاجز کرنے کا ہو گیا۔ جیسے ہمارے دیس میں بھی مسائل کا انبار دیکھ کر نو زائدہ حکومت کی ناک میں دم آگیا ہے۔
پھر "ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینے" کی بات آتی ہے۔ یوں تو شاید ہی کوئی ہو جو کسی مکھی کو یہ اجازت دے مگر بڑے لوگ مکھی کا یہ استحقاق بہت شور شرابے کے ساتھ چھینتے ہیں۔ پھر جب کپتان کی حکومت میں کرکٹ کا ورلڈ کپ ہو رہا ہو تو ٹیم کے جانے سے پہلے تک تو ہم ناک پر مکھی تک بیٹھنے نہیں دیتے۔۔ 

پھر انتہائی عبرت ناک آغاز کے بعد ناک پر مکھی، مچھر، پسّو، جونکیں سب بٹھا کر بعید از امکان امیدوں اور دردناک دعاؤں پر گزارا کرتے رہے۔ بالآخر دشمنوں کے ہارنے پر خوشیاں منائیں مگر یہی رمز مسلمانی نہ پا سکے کہ اپنی جیت کی حقیقی خوشیاں ہی اور ہوتی ہیں۔۔
ایک چیز ، "ناک کا بال" بھی ہوتی ہے۔ یوں تو ہمیں یہ چیز بہت مکروہ لگتی ہے مگر بڑے لوگ اپنے ساتھ کم از کم ایک ناک کا بال ضرور رکھتے ہیں۔ یعنی وہ شخص جس کی وہ ہر بات مانتے ہوں۔ یہ ناک کا/کی بال بڑے صاحب/صاحبہ سے بھی زیادہ بڑا ہوتا ہے، جب تک صاحب/صاحبہ کو زور کی چھینک نہ آ جائے۔ پھر کوئی اس جگہ آجاتا ہے۔
"ناک کی سیدھ میں دیکھنا" بھی ایک دلچسپ محاورہ ہے لیکن اس پر عمل مشکل۔ یہ کام سیدھے لوگ ہی کر سکتے ہیں جو اب کم کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔
اسی طرح "ناک کان دے کر جانے" کا محاورہ ہے جس کا مطلب وعدہ پورا نہ کر پانے کے سبب عزت گنوا کر جانا ہے۔
"ناک پر انگلی رکھ کر بات کرنا" بھی ایک بہت دلچسپ بات ہے۔ یہ عورتوں کا کام تھا کہ جب کسی کام کا دو ٹوک انکار کرنا ہو، خاص کر جس کے کرنے میں عزت گھٹنے کا اندیشہ ہو تو وہ ناک پر انگلی رکھ کر کہتی تھیں "نوج"۔ اور اکبر الٰہ آبادی شہید۔
ناک کے بارے میں آخری بات یہ کہ ، "اونچی ناک" والے ہمیشہ ایک دوسرے سے خار ہی کھاتے آئے ہیں۔ 

میر تقی میر کے ایک ہم عصر شاعر تھے بقا ۔ وہ بھی میر ہی رہے ہوں گے۔ ایک دفعہ خدائے سخن میر سے خفا ہوگئے کہ میر نے ان کے شعر کے مقابلے پر دوآبے پر شعر کیسے کہا ؟
اور کیوں کہا۔ سو بد دعا پر ہی اتر آئے اور یہ قطعہ کہا
'
میر نے گر ترا مضمون دوآبے کا لیا
اے بقا تو بھی دعا دے جو دعا دینی ہو
یا خدا میر کی آنکھوں کو دوآبہ کر دے
اور بینی کا یہ عالم ہو کہ تربینی ہو
'
واضح رہے کہ ناک کا مترادف فارسی زبان میں بینی ہے اور تربینی یوں تو گنگا جمنا کا سنگم ہے، جہاں گنگا، جمنا اور ایک تیسرا خیالی دریا ملتے ہیں، لیکن یہاں تربینی سے مراد بہتی ہوئی ناک یا گیلی ناک ہے، جسے انگریزی میں رننگ نوز کہتے ہیں۔
انگریزی کی بات آ گئی تو ہم بھی ایک اعتراف کرتے چلیں کہانگریزی تفہیم کی محدود قابلیت ک بل بوتے پر ، ایک مدت تک ہم ناک آؤٹ کا مطلب ناک سے آلائش باہر کر دینا ہی سمجھتے رہے۔


 از قلم : حبیبہ طلعت

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

24 اگست 2019 بزم زعفرانی مناثرہ کی بارہویں نشست میں پڑھا گیا شگفتہ انشائیہ  ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ :

محمد بقاء اللہ خان بقاؔ :۔حافظ لطف اللہ خان خوش نویس اکبر آبادی کے بیٹے تھے ، فارسی میں مرزا محمد فاخر مکینؔ اور   حاتمؔ کے شاگرد تھے ، طبیعت میں شوخی اور ظرافت تھی قصیدہ گوئی میں سوداؔ کے حریف تھے ۔ میرؔ اور سوداؔ پر بھی چوٹیں کر جاتے تھے ۔
اسی عہد میں بقاء اللہ خاں بقا نے دو شعر کہے۔
ان آنکھوں کا نت گریہ دستور ہے
دو آبہ جہاں میں یہ مشہور ہے
سیلاب آنکھوں کے رہتے ہیں خرابے میں
ٹکڑے جو مرے دل کے بستے ہیں دو آبے میں

میر صاحب نے خدا جانے سن کر کہا یا توارد ہوا۔
 وہ دن گئے کہ آنکھیں دریا سی بہتیاں تھیں
سوکھا پڑا ہے اب تو مدت سے یہ دوآبہ

اس پر بقا نے بگڑ کر یہ قطعہ کہا۔
میر نے گر ترا مضمون دو آبے کا لیا
اے بقا تو بھی دعا دے جو دعا دینی ہو
یا خدا میر کی آنکھوں کو دوآبہ کر دے
اور بینی کا یہ عالم ہو کہ تربینی ہو



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔