میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 26 اکتوبر، 2019

یوتھیائی فسانہ - چھوٹا پانی اور کالا پانی

بہت دنوں سے  داستانِ نمک  کے ساتھ دیو سائی پلین کا ،  یوتھیائی فسانہ  چھوٹا پانی اور کالا پانی  بھی وٹس ایپ کی زینت بن رہا تھا ۔ 
بوڑھا فوجی ، اِسے علم ِناقص و فساد  کے باعث توجہ نہیں دیتا تھا ۔ اکیس اکتوبر کو ہمارے ایک انجنیئر دوست نے ، شائد معلومات عامہ کے لئے اِسے گروپ میں گھما دیا ۔ 


کئی نادان  دوستوں نے اِس سے صرفِ نظر  کیا  کیوں کہ اُن کا پسندیدہ ٹاپک  ، وہ تمام یوتھیائی پوسٹ جو گرم مصالحوں کے ساتھ  وٹس ایپ پر ناچتی پھر رہی ہیں ۔باعثِ کمنٹس بنتی ہیں ۔
 لیکن  ایک دا و بینا  دوست نے کمنٹ لکھا :
Pls have a proper look at some decent map and you will be embarrassed to have shared this absurd post.
 اِس کمنٹ نے بوڑھے فوجی کو مجبور کیا کہ وہ اپنی  معلومات کا ااظہار کرے ۔ بوڑھا سیاچین کے محاذ پر پورا  ایک سال اور دو مہینے رہا  ،   اگست  1993کے پہلے ہفتے میں سیاچین سے سکردو آیا اور  والنٹیئرز کے ایک گروپ کے ساتھ دیوسائی پلین  کے مسحور حسن سے لطف اندوز ہونے روانہ ہوا ۔ واقعی پہاڑی نالوں اور دریاؤں سے اَٹی ہوئی دنیا کی سب سے بلند وادی ، حسین وادیوں میں سے ایک ہے ، جہاں تا حدِ نظر  پھولوں کے بستر نے آنکھوں کو عجیب تراوٹ بخشی ۔  سیر کے علاوہ فوجی نقطہءِ نگاہ سے وادی سے دریائے شگر کے ساتھ سفر کیا ، این ایل آئی کے نوجوانوں سے بھی ملاقات کی اور ہفتے کا ٹور لگا کر واپس سکردو پہنچا ، ایک رپورٹ بنائی اور  20دن کی چھٹیاں گذارنے کوئٹہ روانہ ہو گیا ۔ 
اب پورے کوئی  26 سال بعد  ، تحت الشعور سے معلومات کا خزانہ نکالا اور ایک نقشے پر انڈیل دیا آپ بھی پڑھیں ۔ 
 دیو سائی وادی میں آنے والا پانی نانگا پربت پر پڑنے والہ مشرقی برف و بارش سے آتا  ہے مختلف ندی اور نالوں  سے دریائے شگر ، دریائے چھوٹا پانی اور دریائے کالا پانی میں آکر  دریائے شگر میں مل جاتا ہے ،
 پہلے چھوٹا پانی دریائے شگر میں ملتا ہے اور اُس کے بعد کالا پانی ۔
دریائے شگردیوسائی وادی سے  کنٹرول لائن تک تمام  پانیوں کو لئے انڈیا میں داخل ہوتا ہے
 کالا پانی  اور دریائے شگر کے سنگم  سے کنٹرول لائن تک کا فضائی فاصلہ  60 کلومیٹر ہے لیکن دریائے شگر کے ساتھ ہم نے یہ فاصلہ  10 گھنٹوں میں جیپوں پر طے کیا تھا ۔ 
کنٹرول لائن کراس کرنے کے بعد دریائے شگر ، دریائے شنگو میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں سے یہ کارگل کی وادی سے گذرتا ہوا ، دوبارہ کنٹرول لائن کراس کر کے پاکستان میں داخل ہو کے دریائے شگر کا نام دوبارہ  حاصل کر لیتا ہے  ۔ 
اور کنٹرول لائن کے پار سے سے آنے والے دریائے سند ھ سے بغلگیر ہوجاتا ہے ۔
حسین آباد کے پاس  کے  سیاچین سے آنے والے  تمام پانی دریائے خپلو سے آکر دریائے شیوک میں ملتے ہیں اور دریائے شیوک دریائے سندھ کی آغوش میں پناہ لیتا ہے ۔
 آگے تو آپ جانتے ہیں کہ دریائے سندھ کی آخری منزل کہاں ہے ۔ 

بہر حال  فسانہ گروں کے مطابق اگر ہم کنٹرول لائن سے  سے 30 کلومیٹر 3 پہاڑوں کی کٹائی کر کے ، اں کا پانی دریائے سندھ میں ڈالیں ، تو انڈیا تباہ و برباد ہو سکتا ہے ۔ 
سوچیں ذرا ، احمقوں کی جنت میں رہنے والوں کا مشورہ ، کیا قابلِ عمل ہے ؟ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ماں کی آپ بیتی

وہ بھی کیا دن تھے جب میرا گھر ہنسی مذاق اور لڑائی جھگڑے کی آوازوں سے گونجتا تھا۔ہر طرف بکھری ہوئی چیزیں ۔ ۔ ۔ 
بستر پر پنسلوں اور کتابوں کا ڈھیر ۔ ۔ ۔
 پورے کمرے میں پھیلے ہوئے کپڑے۔
جوتا یہاں تو جراب وہاں  ۔ ۔ ۔ 
 میرا پورا دن ان کو کمرہ صاف کرنے اور چیزیں سلیقے سے رکھنے کے لیے بچوں کو  ڈانٹنے میں گزرتا۔
صبح کے وقت بیٹی  جاگتے ہی کہتی :
ماما مجھے ایک کتاب نہیں مل رہی!
بڑا بیٹا چیختا:
میرے جوتے کہاں ہیں؟ میں نے یہاں اتارے تھے ۔ 

دوسرا بیٹا رندھی آواز میں کہتا :
ماما میں ہوم ورک کرنا بھول گیا ۔ پلیز چھٹی کر لوں !

چھوٹی بیٹی منمناتی :
ماما میری ہوم ورک والی ڈائری!
ہر کوئی اپنا اپنا رونا رو رہا ہوتا۔ 

اور میں چیختی کہ آپ کی چیزوں کا خیال رکھنا میری ذمہ داری نہیں ۔ ۔ ۔ 
اب آپ بڑے ہو گئے ہو، خود سنبھالو! ذمہ داری کا احساس کرو ۔
میں کچن سے آوازلگاتی ۔
کتاب ، اپنی  الماری میں دیکھو  وہاں ہے ۔

جوتے ، میں نے پالش کرکے  دروازے کے پاس رکھے ہیں وہاں سے لے لو ،
اور تم سکول جاؤ گے ، کیوں یاد نہیں رہا ہوم ورک کرنا ، کھیل میں زیادہ دھیان ہے۔
چھوٹی تم اپنی ڈائری  ٹی وی کے اوپر دیکھو!
ڈائینگ ٹیبل پر ناشتہ لگا کر کہتی ۔
چلو ناشتہ کرو ، بس آنے والی ہے ۔ ڈرائیور  ہارن پر ہارن بجا کر دماغ خراب کرے گا ۔ 
یہ روز کا معمول تھا معلوم نہیں  20 سال کیسے پلک جھپکتے  گذر گئے ۔

آج میں ان کے کمرے کے دروازے پر کھڑی ہوں۔

بستر خالی ہیں. الماریوں میں صرف چند کپڑے ہیں۔ 
 جو چیز باقی ہے، وہ ہے ان کی خوشبو۔
اور میں ان کی خوشبو محسوس کر کے اپنے خالی دل کو بھرنے کی کوشش کرتی ہوں۔
اب صرف ان کے قہقوں، جھگڑوں اور منانے کے لئے ، میرے گلے لگنے کی یاد یں ہے۔

آج میرا گھر صاف ہے۔ سب کچھ اپنی جگہ پر ہے۔ 

یہ پرسکون، پرامن اور خاموش ہے ۔ ۔ ۔
 زندگی سے خالی ایک صحرا کی طرح۔

وہ ان کا دروازے کھلے چھوڑ کر بھاگ جانا اور میرا چیختے رہنا کہ دروازے بند کرو۔

آج سب دروازے بند ہیں اور انہیں کھلا چھوڑ جانے والا کوئی نہیں۔

سب زندگی کے سفر میں پرندوں کے بچوں کی طرح   اپنی منزل کی طرف اُڑ گئے ۔

بیٹیاں اپنے گھر کی ہوگئیں  اور بیٹے ، ایک دوسرے شہر چلا گیا ہے اور دوسرا  ملک سے باہر ملک۔ دونوں زندگی میں اپنا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔
ہر بار وہ آتے ہیں اور ہمارے ساتھ کچھ دن گزارتے ہیں۔ جاتے ہوئے جب وہ اپنے بیگ کھینچتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے میرا دل بھی ساتھ کھنچ رہا ہے۔
میں سوچتی ہوں کہ کاش میں ان کا یہ بیگ ہوتی تو ان کے ساتھ رہتی۔

لیکن پھر میں دعا کرتی ہوں کہ وہ جہاں رہیں آباد رہیں۔


اگر آپ کے بچے ابھی چھوٹے ہیں تو انہیں انجوائے کریں۔ ان کو گدگدائیں، ان کی معصوم حیرت کو شیئر کریں اور ان کی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کا مداوا کریں۔

 گھر گندا ہے، کمرے بکھرے ہیں اور دروازے کھلے ہیں تو رہنے دیں۔ یہ سب بعد میں بھی ٹھیک ہو سکتا ہے۔ لیکن بچوں کے ساتھ یہ وقت آپ کو دوبارہ نہیں ملے گا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعہ، 25 اکتوبر، 2019

افریقہ - نصابِ مصالحہ جات

جب آپ کسی ایسے ملک جاتے ہیں ، جہاں کی زُبان آپ کے لئے اجنبی ہوتی ہے تو سب سے پہلے انسان سوچتا ہے ۔کاش اِن کو انگلش آتی یا مجھے یہ زُبان ۔
سب سے زیادہ مشکل جو پیش آتی ہے وہ کھانے پینے اور دیگر اشیاءِ ضروریہ کی ہے ،جن کی آپ کو  اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ 
بوڑھے اور بڑھیا کے ساتھ بھی یہی پریشانی لگی ، ایسٹ تِمور میں تو گذارا ہوگیا لیکن یہاں عدیس ابابا (ایتھوپیا) میں بوڑھے نے سوچا کہ سب سے پہلے یہاں کی زُبان کے کچھ الفاظ سیکھے جائیں ۔
دُکان پر سودا لینے جاتا ، تو مشہور آئیٹم ہیں وہ تو اُٹھانے اور وزن کروا کر پیسے  دینے میں کوئی تامل نہ  تھا ، سب سے بڑا مسئلہ، بُڑھیا کی خریداری میں تھا  اور وہ بھی اِس لئے ، کہ بڑھیا کی خواہش کے مطابق وہ اپنی بیٹی اور یہاں پر رہنے والے پاکستانیوں  کو اپنے کھانے کھلا کر انگلیاں چٹوائے ۔ پہلے تو وہ اپنا ٹریڈ مارک  کھانے کامصالہ بنوا کر پاکستان سے ساتھ لائی ، ساتھ کچھ اور مصالحے تھے ۔
ایسٹ تِمور میں زردے کا رنگ کافی سٹورز یعنی سُپر سٹورز میں ڈھونڈا ، مگر نہ پایا تو ایبٹ آباد کے خواتین کے ملبوسات بنانے والے نوجوان پاکستا نی  حسن زیب کی مدد لی اور زردے  کے رنگ کو تِموری نام پوچھا  جو اُس نے " پوَارنا مکانا"  بتایا ۔ یہ بتانے پر بھی کامیابی نہ ہوئی  ، تو بوڑھے نے  زردے کی اور سادے چاولوں کی تصویر   اکٹھی لگا کر  اپنے موبائل میں ڈالی

لیٹا سٹور میں قسمت آزمائی کی اور ایک تِموری خاتون سے  پوچھا کہ ، چاولوں کو ایسا رنگ کیسے کرتے ہیں ؟
اُس  
نے تصویر دیکھی اور کہا " کم "
بوڑھا اُس کے پیچھے چل پڑا ، بڑھیا نے جب یہ دیکھا تو پوچھا ، " کہاں جارہے ہو ؟"
بوڑھے نے کہا، " کم " 
بڑھیا بھی لپکتی جھپکتی ، پیچھے  چل پڑی ۔
اُس نیک بخت نے لے جاکر ایک  بھرے ریک کے سامنے جا کر کھڑا کردیا ۔ 
 "یو وانٹ دِس   ؟  پیوارنا  مکانان" وہ بولی ۔
" یس  " بوڑھے نے جواب دیا  ، یہ وہی  حسن زیب کا " پوَارنا مکانا"تھا ۔تمام انڈین  کھانوں میں ڈالنے والے رنگ اور ایسنس موجود تھے اور نہیں موجود تھا۔ تو ، " کیوڑہ "  خیر وہ بھی مل گیا اور عرقِ گلاب  ، بڑھیا نے گلاب جامن اور شاہی ٹکڑے بنا کر ، چم چم کی ماما کی سہیلیوں کو کھلائے ۔ 
 پچھلے تجربے کی بنیاد پر ، ضروری چیزیں تو بوڑھا پاکستان سے ڈھو کر  اپنے سامان میں لے آیا ، جب کھانوں کا وقت آیا تو معلوم ہوا ، کہ سفید زیرہ  اور املی لانا بھول گئے ۔ 
بوڑھے نے سوچا کہ کیوں نہ تصویری زُبان سے مدد لی جائے اور دیکھنے والے کے لئے آسانی پیدا کرتے ہوئے خود بھی امھاری (Amharic) زُبان میں شُدھ بُدھ پیدا کی جائے ۔ 
بوڑھا انڈے لینے گیا جو جہاں  5 بِر(Birr) کا ایک ملتا ہے ، یعنی  پاکستانی 27 روپے کا ایک  اور درجن انڈے ہوئے، مبلغ    321 روپے !!
پوچھا انڈے کو  امھاری زُبان میں کیا کہتے ہیں "
کم عمر    سیلز خاتون  نے  بتایا ۔ " اِنکو لال "
  ہوٹل میں آتے آتے بوڑھا بھول گیا ، کہ اِنکو لال تھا  یا  اُنکو لال ۔ خیر گھر میں کام کرنے والی خاتون سے پوچھا  ، اُس نے بتایا ، وہ بھی بھول گیا ۔ نئی زبان سیکھنا بہت مشکل ہے  ۔ لیکن بوڑھے نے اپنے تجربے کی بنیاد پر ایک ایسا نصابِ تعلیم ، چاچی  گوگل  کی مدد سے بنایا کہ  اب بے شک بھول جائے کوئی بات نہیں ۔
سب سے پہلے نصابِ  ناشتہ جات ۔
پھر نصابِ مصالحہ جات ! 
ارے بوڑھا یہ تو بتانا ہی بھول گیا ، کہ دکاندار سے کلام کیسے شروع کیا جائے ؟
چلیں یہ اگلے سبق میں پڑھتے ہیں ۔
٭- امھاری (Amharic)بول چال 
-----------------------


٭٭٭٭٭٭٭




منگل، 8 اکتوبر، 2019

انسانی شخصیت سازی کے سنہری اصول

روح القدّس نے محمدﷺ کو ،اللہ کی انسانی شخصیت سازی کی ناقابلِ تبدیل سنت بتائی :
1-  دنیاوی معاملات میں جاہلوں کے تخاطب پر اُن کی سطح پر اترنے کے بجائے   عباد الرحمٰن اُنہیں سلام (امن کا پیغام)   کہتے ہیں ۔

وَعِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا ﴿25:63 

 2-  اور وہ لوگ    بِيتُ ،  اپنے ربّ کے لئے سجدہ اور قیام  کے لئے (رکھتے ) ہیں ۔

وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًاوَقِيَامًا ﴿25:64 

3-اپنے ربّ سے  کہتے ہیں ،   کہ  ہمارے ربّ ہم  سے جہنم کے  عذابِ غرام کو پھیر دے ۔
وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴿25:65

 4-  بے شک اُس میں  (جہنم مجرموں کے لئے   )     بُرا مستقل مقام اور ٹھکانہ ہے ۔
 إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا ﴿25:66 

جہنم کے عذابِ غرام کو مستقل ٹھکانہ بنانے سے بچنے   والے ، 
٭-عباد الرحمٰن کے لئےاللہ کی ناقابلِ تبدیل و ناقابلِ تردید ، سنّت برائے عمل !٭

5-  اور وہ  لوگ  ،اسراف  یا بُخل سے بچتے ہوئے ،  درمیانی   رویّہ سے انفاق  کریں گے ۔
وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا ﴿25:67 

6-  اور وہ لوگ  :
٭- اللہ کے ہمراہ کسی اور سے دعا نہیں کریں گے ، 

٭- جس انسان کو قتل اللہ نے حرام کردیا ہے  اُسے سوائے الحق  کے قتل نہیں کریں گے ۔
٭- وہ زنا نہیں کریں گے ۔
بالا افعال اثم بن کر اُن کے اوپر   
لَقِي (چسپاں  )    رہیں گے۔
وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا ﴿25:68 
(وہ عباد الرحمٰن     اللَّـهِ سے شرک کی بنیاد پر شامل نہیں  ہوں گے   اور کوئی ملائی وظیفہ یا فتویٰ اِن  کے اِثم کو نہیں اتار سکتا ، سوائے اللہ کے بتائے ہوئے توبہ کے طریقے کے )    

(پڑھیں :    اللہ  کی سنّت - توبہ کا میعار    )
7-  مشرک قاتل اور زانی  پر یوم القیامت عذاب دُگنا کر دیا جائے گا  اور وہ اُس میں ہمیشہ اھانت  میں رہے گا ۔ 
يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا ﴿25:69 

8-  سوائے اُس کے  کہ جو  بالا احکامات     کے خلاف عمل کرنے کے بعد احساس ہونے یا دلانے پر ،    اپنے گناہوں کا کفارہ  اور  قصاص اور صدقہ  دینے کے بعد توبہ کرے گا اور عملِ صالح  کرے گا ۔تو اللہ اُس کی شخصی برائیوں کو  اپنی آیات  کے مطابق کئے جانے والے افعال سے ،  اچھائیوں میں بدلتا رہے گا ۔
إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَـٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّـهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿25:70  

9-  اور جس  نے ایک دفعہ توبہ کر لی  اور عملِ صالح  کیا   تو صرف وہ   مَتاب  بن کر ،اللہ  کی طرف توبہ کرتا رہے گا  ( کسی دوسرے سے توبہ کروانے کا ڈھونگ اللہ کو قبول نہیں ) ۔
 وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّـهِ مَتَابًا ﴿25:71 

10- اور وہ لوگ  ،   الزُّورَ ( جھکائے  یاموڑے  ہوئے الفاظ )  کی شہادت (کبھی نہیں)   دیں گے   اور جب اُن کا  اِس قسم کیاللَّغْوِشہادتوں  سے  سامنا ہو، تو وہ     کراماً گزر جاتے ہیں ۔
وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا ﴿25:72 

11-  اور اُن لوگوں پر ، جب کے ربّ کی آیات سے  ذکّر کیا جاتا ہے ، تو وہ اُن (انسانی اذکار پر )  پر  بہرے اور اندھے  ہو کر   (سجدے میں ) نہیں گر پڑتے      (ربّ کی آیات کو اہمیت دیتے ہیں  ، انسانی ذکر و اذکار   پر زیادہ توجہ نہیں دیتے  )۔ 
وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا ﴿25:73

12-  اور وہ لوگ کہتے رہتے ہیں ، اے ہمارے ربّ  ہمارے لئے   ،ہماری ازواج اور ہماری  ذریّت  کو آنکھوں کا قرار   ھبہ کر ، اور ہمیں المتقین (الکتاب سے ہدایت لینے والی ازواج اور ذریّت  )  کا امام قرار دے ۔
   وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ﴿25:74 

13-  یہ وہ لوگ ہیں  جنھیں   اُن کے صبر پر جزاء میں   الْغُرْفَةَ دیا جائے گا  اور اُس  (   الْغُرْفَةَ) میں اُن پر  (لازوال) حیات   اور سلام  القا ءکیا جائے گا ۔
أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا ﴿25:75

14-  اُس  (   الْغُرْفَةَ) میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اچھا مستقل مقام اور ٹھکانہ ہے ۔ 
  خَالِدِينَ فِيهَا ۚ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا ﴿25:76 

 15-  کہہ ،     میرے ربّ   کے ساتھ تمھارے لئے کوئی عباء نہیں  (پھر)    تم دعا کیوں نہیں کرتے  ؟  پَس حقیقت میں  (دُعا نہ کرکے )   تم نے کذّب کیا ،   پَس تمھارے ساتھ  یہ   (کذّب)      لٹک گیا ۔
 قُلْ مَا يَعْبَأُ بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ ۖ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا ﴿25:77

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ : اردو میں لکھا ہوا فہم (ذکّر) ، مہاجرزادہ کا ہے ۔ آپ اپنا فہم اللہ کی آیات سے بنائیں ۔ جہا ں  اللہ کا لفظ  مہاجرزادہ کے فہم  کو رَد کر دیتا ہے وہاں ، اللہ کا لفظ ہی لکھ کر  اُس میں باقی الفاظ کا لِنک دے دیا ہے ۔ آپ اُن الفاظ کو دیکھ سکتے ہیں ۔
کیوں کہ مہاجرزادہ کے فہم کے مطابق  ، الکتاب  اللہ نے   1182 مادوں  پر  مشتمل   کلمات  سے بنا کر محمدﷺ کو بذریعہ روح القدّس حفظ کروائی   ہے ، لکھوائی نہیں ۔ 
وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ ۖ 
إِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ  ﴿29:48
 
ایک مادہ سے بننے والے الفاظ کا آسان ( يَسَّرْ)  فہم ہر جگہ ایک ہی ہوگا ، جب ہی تو اللہ کا قول ہے ۔ 

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ﴿54:17

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
  الزُّورَ ( جھکائے  یاموڑے  ہوئے الفاظ )   ۔ 
  كَذَّبْ (کذّب)
 المتقین (الکتاب سے ہدایت لینے والے) 
  مُّدَّكِرٍ (القرآن کو  الذکّر کے لئے آسان سمجھنے والا )

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔