میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 2 اکتوبر، 2019

کچھ نئی کہانیاں-یوتھیاپے کی ۔

دنیا کے تمام اپوزیشن لیڈروں ، گمنامی میں ڈوبے سیاست دانوں ، کھلاڑیوں  کی خدمت میں جاکر  ، یہ عرض کرنا کہ وہ دو بول بول دیں ۔  

لیکن سب سے حیرت انگیز یوتھیاپانا  ، حرکت  بلاتردد   کرنا یوتھیاپے کی ادنیٰ ترین مثال ہے ۔  دیکھئے اور  ۔ ۔  ۔!
 
کیا ہم  خیبر پختون خواہ کے اِس باہمت پٹھان کو یوتھیاپا گروپ میں شامل کر سکتے ہیں ؟ 

ہم سے پہلے عجب تھا، پختون خواہ کا منظر ۔
کہاں ڈاکٹر پکوڑے والے ، کہیں کباڑیہ پی ایچ ڈی
پھر ہم نے سینے سے لگایا اُن کو ۔
پیسہ جو اغیار سے مانگا تھا لٹایا اُن پر 
پھر بھی کہتے ہیں کہ ہم ہرجائی ہیں !!

٭٭٭٭٭






٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔