میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 26 اکتوبر، 2019

یوتھیائی فسانہ - چھوٹا پانی اور کالا پانی

بہت دنوں سے  داستانِ نمک  کے ساتھ دیو سائی پلین کا ،  یوتھیائی فسانہ  چھوٹا پانی اور کالا پانی  بھی وٹس ایپ کی زینت بن رہا تھا ۔ 
بوڑھا فوجی ، اِسے علم ِناقص و فساد  کے باعث توجہ نہیں دیتا تھا ۔ اکیس اکتوبر کو ہمارے ایک انجنیئر دوست نے ، شائد معلومات عامہ کے لئے اِسے گروپ میں گھما دیا ۔ 


کئی نادان  دوستوں نے اِس سے صرفِ نظر  کیا  کیوں کہ اُن کا پسندیدہ ٹاپک  ، وہ تمام یوتھیائی پوسٹ جو گرم مصالحوں کے ساتھ  وٹس ایپ پر ناچتی پھر رہی ہیں ۔باعثِ کمنٹس بنتی ہیں ۔
 لیکن  ایک دا و بینا  دوست نے کمنٹ لکھا :
Pls have a proper look at some decent map and you will be embarrassed to have shared this absurd post.
 اِس کمنٹ نے بوڑھے فوجی کو مجبور کیا کہ وہ اپنی  معلومات کا ااظہار کرے ۔ بوڑھا سیاچین کے محاذ پر پورا  ایک سال اور دو مہینے رہا  ،   اگست  1993کے پہلے ہفتے میں سیاچین سے سکردو آیا اور  والنٹیئرز کے ایک گروپ کے ساتھ دیوسائی پلین  کے مسحور حسن سے لطف اندوز ہونے روانہ ہوا ۔ واقعی پہاڑی نالوں اور دریاؤں سے اَٹی ہوئی دنیا کی سب سے بلند وادی ، حسین وادیوں میں سے ایک ہے ، جہاں تا حدِ نظر  پھولوں کے بستر نے آنکھوں کو عجیب تراوٹ بخشی ۔  سیر کے علاوہ فوجی نقطہءِ نگاہ سے وادی سے دریائے شگر کے ساتھ سفر کیا ، این ایل آئی کے نوجوانوں سے بھی ملاقات کی اور ہفتے کا ٹور لگا کر واپس سکردو پہنچا ، ایک رپورٹ بنائی اور  20دن کی چھٹیاں گذارنے کوئٹہ روانہ ہو گیا ۔ 
اب پورے کوئی  26 سال بعد  ، تحت الشعور سے معلومات کا خزانہ نکالا اور ایک نقشے پر انڈیل دیا آپ بھی پڑھیں ۔ 
 دیو سائی وادی میں آنے والا پانی نانگا پربت پر پڑنے والہ مشرقی برف و بارش سے آتا  ہے مختلف ندی اور نالوں  سے دریائے شگر ، دریائے چھوٹا پانی اور دریائے کالا پانی میں آکر  دریائے شگر میں مل جاتا ہے ،
 پہلے چھوٹا پانی دریائے شگر میں ملتا ہے اور اُس کے بعد کالا پانی ۔
دریائے شگردیوسائی وادی سے  کنٹرول لائن تک تمام  پانیوں کو لئے انڈیا میں داخل ہوتا ہے
 کالا پانی  اور دریائے شگر کے سنگم  سے کنٹرول لائن تک کا فضائی فاصلہ  60 کلومیٹر ہے لیکن دریائے شگر کے ساتھ ہم نے یہ فاصلہ  10 گھنٹوں میں جیپوں پر طے کیا تھا ۔ 
کنٹرول لائن کراس کرنے کے بعد دریائے شگر ، دریائے شنگو میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں سے یہ کارگل کی وادی سے گذرتا ہوا ، دوبارہ کنٹرول لائن کراس کر کے پاکستان میں داخل ہو کے دریائے شگر کا نام دوبارہ  حاصل کر لیتا ہے  ۔ 
اور کنٹرول لائن کے پار سے سے آنے والے دریائے سند ھ سے بغلگیر ہوجاتا ہے ۔
حسین آباد کے پاس  کے  سیاچین سے آنے والے  تمام پانی دریائے خپلو سے آکر دریائے شیوک میں ملتے ہیں اور دریائے شیوک دریائے سندھ کی آغوش میں پناہ لیتا ہے ۔
 آگے تو آپ جانتے ہیں کہ دریائے سندھ کی آخری منزل کہاں ہے ۔ 

بہر حال  فسانہ گروں کے مطابق اگر ہم کنٹرول لائن سے  سے 30 کلومیٹر 3 پہاڑوں کی کٹائی کر کے ، اں کا پانی دریائے سندھ میں ڈالیں ، تو انڈیا تباہ و برباد ہو سکتا ہے ۔ 
سوچیں ذرا ، احمقوں کی جنت میں رہنے والوں کا مشورہ ، کیا قابلِ عمل ہے ؟ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔