میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 25 اکتوبر، 2019

افریقہ - نصابِ مصالحہ جات

جب آپ کسی ایسے ملک جاتے ہیں ، جہاں کی زُبان آپ کے لئے اجنبی ہوتی ہے تو سب سے پہلے انسان سوچتا ہے ۔کاش اِن کو انگلش آتی یا مجھے یہ زُبان ۔
سب سے زیادہ مشکل جو پیش آتی ہے وہ کھانے پینے اور دیگر اشیاءِ ضروریہ کی ہے ،جن کی آپ کو  اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ 
بوڑھے اور بڑھیا کے ساتھ بھی یہی پریشانی لگی ، ایسٹ تِمور میں تو گذارا ہوگیا لیکن یہاں عدیس ابابا (ایتھوپیا) میں بوڑھے نے سوچا کہ سب سے پہلے یہاں کی زُبان کے کچھ الفاظ سیکھے جائیں ۔
دُکان پر سودا لینے جاتا ، تو مشہور آئیٹم ہیں وہ تو اُٹھانے اور وزن کروا کر پیسے  دینے میں کوئی تامل نہ  تھا ، سب سے بڑا مسئلہ، بُڑھیا کی خریداری میں تھا  اور وہ بھی اِس لئے ، کہ بڑھیا کی خواہش کے مطابق وہ اپنی بیٹی اور یہاں پر رہنے والے پاکستانیوں  کو اپنے کھانے کھلا کر انگلیاں چٹوائے ۔ پہلے تو وہ اپنا ٹریڈ مارک  کھانے کامصالہ بنوا کر پاکستان سے ساتھ لائی ، ساتھ کچھ اور مصالحے تھے ۔
ایسٹ تِمور میں زردے کا رنگ کافی سٹورز یعنی سُپر سٹورز میں ڈھونڈا ، مگر نہ پایا تو ایبٹ آباد کے خواتین کے ملبوسات بنانے والے نوجوان پاکستا نی  حسن زیب کی مدد لی اور زردے  کے رنگ کو تِموری نام پوچھا  جو اُس نے " پوَارنا مکانا"  بتایا ۔ یہ بتانے پر بھی کامیابی نہ ہوئی  ، تو بوڑھے نے  زردے کی اور سادے چاولوں کی تصویر   اکٹھی لگا کر  اپنے موبائل میں ڈالی

لیٹا سٹور میں قسمت آزمائی کی اور ایک تِموری خاتون سے  پوچھا کہ ، چاولوں کو ایسا رنگ کیسے کرتے ہیں ؟
اُس  
نے تصویر دیکھی اور کہا " کم "
بوڑھا اُس کے پیچھے چل پڑا ، بڑھیا نے جب یہ دیکھا تو پوچھا ، " کہاں جارہے ہو ؟"
بوڑھے نے کہا، " کم " 
بڑھیا بھی لپکتی جھپکتی ، پیچھے  چل پڑی ۔
اُس نیک بخت نے لے جاکر ایک  بھرے ریک کے سامنے جا کر کھڑا کردیا ۔ 
 "یو وانٹ دِس   ؟  پیوارنا  مکانان" وہ بولی ۔
" یس  " بوڑھے نے جواب دیا  ، یہ وہی  حسن زیب کا " پوَارنا مکانا"تھا ۔تمام انڈین  کھانوں میں ڈالنے والے رنگ اور ایسنس موجود تھے اور نہیں موجود تھا۔ تو ، " کیوڑہ "  خیر وہ بھی مل گیا اور عرقِ گلاب  ، بڑھیا نے گلاب جامن اور شاہی ٹکڑے بنا کر ، چم چم کی ماما کی سہیلیوں کو کھلائے ۔ 
 پچھلے تجربے کی بنیاد پر ، ضروری چیزیں تو بوڑھا پاکستان سے ڈھو کر  اپنے سامان میں لے آیا ، جب کھانوں کا وقت آیا تو معلوم ہوا ، کہ سفید زیرہ  اور املی لانا بھول گئے ۔ 
بوڑھے نے سوچا کہ کیوں نہ تصویری زُبان سے مدد لی جائے اور دیکھنے والے کے لئے آسانی پیدا کرتے ہوئے خود بھی امھاری (Amharic) زُبان میں شُدھ بُدھ پیدا کی جائے ۔ 
بوڑھا انڈے لینے گیا جو جہاں  5 بِر(Birr) کا ایک ملتا ہے ، یعنی  پاکستانی 27 روپے کا ایک  اور درجن انڈے ہوئے، مبلغ    321 روپے !!
پوچھا انڈے کو  امھاری زُبان میں کیا کہتے ہیں "
کم عمر    سیلز خاتون  نے  بتایا ۔ " اِنکو لال "
  ہوٹل میں آتے آتے بوڑھا بھول گیا ، کہ اِنکو لال تھا  یا  اُنکو لال ۔ خیر گھر میں کام کرنے والی خاتون سے پوچھا  ، اُس نے بتایا ، وہ بھی بھول گیا ۔ نئی زبان سیکھنا بہت مشکل ہے  ۔ لیکن بوڑھے نے اپنے تجربے کی بنیاد پر ایک ایسا نصابِ تعلیم ، چاچی  گوگل  کی مدد سے بنایا کہ  اب بے شک بھول جائے کوئی بات نہیں ۔
سب سے پہلے نصابِ  ناشتہ جات ۔
پھر نصابِ مصالحہ جات ! 
ارے بوڑھا یہ تو بتانا ہی بھول گیا ، کہ دکاندار سے کلام کیسے شروع کیا جائے ؟
چلیں یہ اگلے سبق میں پڑھتے ہیں ۔
٭- امھاری (Amharic)بول چال 
-----------------------


٭٭٭٭٭٭٭




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔