میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 3 اکتوبر، 2019

آئین سٹائن اور پاکستانی بیوی

سابقہ سے پیوستہ ۔ آئن سٹائن کی بیوی 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭ 
 اگر آئن سٹائن اور اُس کی بیوی کے درمیان شادی سے پہلے یہ معاہدہ نہ ہوا ہوتا ، تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
 بیوی : اِنّو ،  اجی میں نے کہا سنتے ہو ؟
(ایک منٹ بعد)
 بیوی : اِنّو و و وو  و ،   (چمٹے کی میز پر لگنے کی آواز ۔ اور آئین سٹائن کا چوکنا )
کیا کانوں میں روئی ڈال رکھی ہے ۔
میں گھنٹے سے آوازیں دے رہی ہوں ،
 آئن سٹائن: جی جان۔۔۔کیاہوا؟ کیا ہوا  ؟ مم مم ، 
میں ایک مسئلہ کا حل ڈھونڈھ رہا تھا ۔ 
بیوی :  مسئلوں کے حل سے پیٹ نہیں بھرتا ،  یہ لو ڈبہ ،کوکنگ آئل ختم ہوگیا ہے ، اتنا ہی بڑا لے کر آنا !!!
آئن سٹائن: اوہو۔۔۔جان ، ابھی دو دن پہلے تو لایا تھا۔
بیوی: او میرے بھلکڑ شوہر ۔۔۔ پانچ کلو کاڈبہ لانے بھیجا تھا اور تُو کلو والا پیکٹ لے آیا تھا۔
آئن سٹائن: اچھا تھوڑی دیر تک لادیتا ہوں، ذرا ایک سائنسی تھیوری لکھ لوں۔
بیوی:آگ لگے تیری سائنس کو۔۔۔
آئل لے کے آ ، ۔ ۔ 
اور ہاں ایک پیکٹ ماچسوں کا اور  ہنسو ( ہینس 5 سالہ بیٹا) کے لئے کر کرے کا پیکٹ بھی لانا  اور   ’’اسبغول کا چھلکا‘‘ بھی لیتے آنا - تاکہ تمھاری قبض دور ہو ۔
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔
بس صر ف آدھے گھنٹے کی مہلت دے دو،میری ریسرچ مکمل ہونے والی ہے۔
بیوی: دفع کرو اِس سائینس سوتن کو ۔۔۔
جب دیکھو سائنس۔
جب دیکھو سائنس۔۔۔
صبح سائنس ، دوپہر سائینس ، شام سائنس ، بستر پر سائنس ۔۔ 
یہاں تک کموڈ  پر سائنس ، 
 تونے اتنی سائنس پڑھ کے کون سا فواد چوہدری بن جانا ہے ؟؟؟
آئن سٹائن: پلیز جان ایسا مت کہو۔۔۔
سائنس میری زندگی ہے، میں ہر وقت سائنس کے حصار میں رہتا ہوں۔
بیوی: ہا۔۔۔ہائے۔۔۔آگیا نا سچ زبان پر ، شادی سے پہلے تو تم نے کہا تھا کہ میں ڈیفنس  میں رہتا ہوں؟؟؟
آئن سٹائن: اوہو جان، میرا مطلب ہے کہ میں ہروقت سائنس میں گم رہتا ہوں، سائنس میرا عشق ہے، میرا پیار ہے۔
بیوی: لخ لعنت ہے بھئی تیرے عشق پر۔۔۔ ہنسو ، کو ہوا  میں اچھال کر تو سائینس کے پیچھے بھاگ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ 
چل اُٹھ ، مانے کر کٹر کی دوکان پر جا اور جلدی سے سامان لا ۔۔۔!!!
آئن سٹائن: پپ۔۔۔پلیز جان۔۔۔اگر اجازت ہو تو تھوڑا کام کرلوں؟؟؟
بیوی: یہ کام ہے ؟؟
 کام تونے کیا کرنا ہے؟؟
ہڈ حرام مُفت کی روٹیاں توڑتا ہے ، میں لوگوں کے گھر کام کرتی ہوں ، ہزار دفعہ کہا ہے ۔ 
میرے بھائی کے ساتھ سبزی منڈی چلا جایا کر، وہ بھی بہت
بڑا سائنسدان ہے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: وہ کیا کرتاہے جان؟؟؟
بیوی: وہ اپنی سائنس  سے ، سبزی منڈی میں بڑے اور چھوٹے پیاز الگ الگ کرتاہے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔۔۔جان کہاں وہ ، کہاں میں۔۔۔!!!
بیوی: ظاہری بات ہے کہاں وہ روز کا دو سوروپیہ کمانے والا اور کہاں تُو۔ ۔  ۔ ۔! بیوی اور سسرالیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا۔۔۔ اگر میرے ابّا مدد نہ کریں تو گھر میں فاقے ہوں فاقے !!!
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔ایسے تو نہ کہو۔۔۔میرے سسرالی تو خود داتا  دربار  پر گذارہ کرتے ہیں۔۔۔
خود، بھی کھاتے ہیں اور ہمارے لئے بھی چاول لے آتے ہیں، اور تیرا بھائی  سبزی مارکیٹ سے بچی ہوئی سبزیاں  !!!
بیوی: کیا کہا؟۔۔۔وے تیرا بیڑا غرق۔۔۔تیری ریسرچ میں کیڑے پڑیں۔۔۔وہ نہ مدد کریں تو تُو بھوکا مرجائے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: اچھا پلیز جان۔۔۔یہ لڑائی بعد میں کرلینا۔۔۔میرا ذہن کسی اور طرف ہے۔۔۔!!
بیوی: مجھے پہلے ہی شک تھا، سامنے والی ہمسائی کی کھڑکی بھی تھوڑی سی کھلی ہوئی ہے، سچ سچ بتا آئن سٹائن۔۔۔تیرا ذہن کس کی طرف ہے؟جھوٹ بولا تو میں تیرا سانس بند کردوں گی۔
آئن سٹائن: فار گاڈ سیک جان۔۔۔میرے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت نہیں، میرا دماغ تو ہر وقت اپنے سائنسی کام میں مگن رہتا ہے۔
بیوی: سب جانتی ہوں میں تیرے نکمے سائنسی دماغ کو۔۔۔
ٹی وی کا ریموٹ تو تجھ سے ٹھیک ہوتا نہیں، بڑا آیا سائنسدان۔۔۔!!!
آئن سٹائن: (آہ بھر کر) ٹھیک ہے میری جان۔۔۔آج سے سائنس ختم، کل سے میں بھی سبزی منڈی جایا کروں گا۔۔۔!!!
بیوی: (خوشی سے) واقعی؟۔۔۔ہائے آئن سٹائن۔۔۔تم کتنے جینئس ہو۔۔۔!!!
اور آئن سٹائن دروازے کے پیچھے لٹکا ہوا ، کپڑے کا شاپنگ بیگ اُٹھا کر  چیزیں لینے مارکیٹ جاتا ہے ۔ 
اور پاکستانی بیوی فاتحانہ انداز میں کھڑی ، اپنی تصویر کی طرف دیکھ کر ،گنگنا نے لگتی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔