میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 7 نومبر، 2019

یتیموں کے قوانینِ تحفظ کے لئے اللہ کی ناقابلِ تبدیل سنت

روح القدّس نے محمدﷺ کو یتیموں کے قوانینِ تحفظ کے لئے اللہ کی ناقابلِ تبدیل سنت بتائیں :

 1- مرد اور عورت کو ازواج بنانے کی سنت :

 يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ﴿4:1﴾ 

 2- یتیموں کے مال کے تحفظ کی سنت :

 وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا ﴿4:2﴾ 

 3-یتیموں میں قِسط (توازن)  نہ کرسکنے کی صورت میں ، چار یا کم از کم ایک یتیم النساء سے نکاح کی سنت : 
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا ﴿4:3﴾ 

 4- یتیم النساء کی اپنے صدقات ، اُس کی مرضی سے شوہر کے کھانے کی سنت :
 وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ۚ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا ﴿4:4﴾

 5- کم عقل یتیموں کو اُنہی کے مال سے کھلاؤ اور اُس پر قائم رہنے کی سنت : 
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّـهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ﴿4:5﴾ 

 6- یتیم بیوہ جس سے تم نے نکاح کیا ہو، اُن بچوں کا بلوغت کے بعد رشد آنے پر نکاح کردو اور اُن کے مال جن سے تم اُن کی پرورش کر رہے تھے اُنہیں گواہوں کے سامنے دے دو ۔ کی سنت 
وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ حَسِيبًا ﴿4:6﴾


 7- یتیم مرد اور عورت کے لئے اُنے کے والدین کا چھوڑا ہوا ترکہ ہے (یتیموں کی دیکھ بھال کی آڑ میں تم  ہڑپ نہ کرنا) کے بارے میں اللہ کی سنت ۔
 لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا ﴿4:7﴾ 
 8- صاحبِ جائداد یتیموں کے ترکے کی تقسیم پر ، حاضر ہونے والے صاحبِ جائداد یتیموں کے ، أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ، کو بھی اُس میں سے کھلا نے کی سنت :
 وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ﴿4:8﴾ 

 9-یتیموں کی پرورش کرنے والوں کی اگر ذریّت مالی طور پر ضعیف ہو ، تو وہ اُن پر خائف ہوں کہ وہ یتیموں کے مال کو اپنے باپ کا مال نی سمجھ بیٹھیں ، تو اُنہیں چاھیئے کہ وہ اِس معاملے میں ٹھوس بات کریں کہ اُس کے پاس یتیموں کا مال امانت ہے ۔ کی سنت :
وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّـهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ﴿4:9﴾ 

 10۔ جو لوگ (یا اُن کی ذرّیت ) یتیموں کا مال ہڑپ کرتی ہے ، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں ۔ جو ہمیشہ بھڑکتی رہے گی ( خواہ جتنے حج ، نمازیں یا روزے رکھ لے ) کی سنت :
 إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا ﴿4:10﴾ 
٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔