میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 12 نومبر، 2019

ایتھوپیا۔ بارہویں جماعت تک مُفت پڑھائی ۔


چم چم کو اُس کے سکول 7:40 پر چھوڑنے  کے بعد  ، جب بوڑھا اور بڑھیا   واپس ہوئے ، تو کولمبس کی طرح    دوسرے  راستے سے گھر واپسی  کے لئے  چل پڑے ، جہاں ہم رہتے ہیں یہ ، کِرکوس(Kirkos) کا محلّہ نمبر 1 ہے ۔
 ہم چونکہ ایک ہوٹل اپارٹمنٹ  میں ہیں جو ، چم چم کی ماما کے آفس  کے پڑوس میں ہے ۔اور چم چم کا سکول بھی دس منٹ کے پیدل فاصلے پر ہے ۔ 
یہاں سے ائرپورٹ  روڈ  تک جو ایک کلومیٹر ہے جانے کے لئے دوسڑکیں ہیں ، ایک توپکّی سٹر ک اور دوسری  گلیوں والی سڑک  60-1جو عمودی اینٹوں کی معلوم نہیں کتنی پرانی گلی  ہے ۔ اِس سے ملنے والی تمام گلیوں  پر لگے ہوئے بورڈ  اُن کے نمبروں کے ہیں ۔
ایک ، 4 منزلہ بلند عمارت پر نظر پڑی ۔ جس کے گیٹ پر لگے محراب نما بورڈ کو دیکھا۔
ارے یہ تو سکول ہے ،گیٹ میں جھانکا  تو اچانک گارڈ نمودار ہوا ، نہ ہم امھارک جانتے نہ وہ انگلش ، بہر حال ابھی اُس سے مدّعا بیان ہی ہو رہا تھا کہ ایک ادھیڑ عمر خاتون  گیٹ پر اندر داخل ہونے کے لئے  آئی ، گارڈ ایک طرف ہوا ، خاتون نے مُڑکر  کہا ،
" سلامِ نوح " 
" سلام علیکم " بوڑھے نے جواب دیا ۔
" کیا میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں ؟" اُس نے انگلش سے الجھتے ہوئے کہا ۔
" ہم دونوں اِس سکول کی پرنسپل سے ملنا چاھتے ہیں " بوڑھے نے سلیس انگلش میں کہا ۔
" میں پرنسپل ہوں ، آئیں "   وہ بولی اور مُڑ کر بلڈنگ کی طرف چل پڑی ۔ ایک کمرے کے پاس رُکی ، اپنے پرس سے چابی نکالی  دروازہ کھولا ۔ کمرے میں غالباً ٹیچرز کے لئے کرسیاں اور میزیں لگی ہوئی تھیں ۔ وہ کونے میں پڑی ، پرچوں اور کتابوں سے گھری میز کے پیچھے جاکر بیٹھ گئی ، ہم دونوں بھی بیٹھ گئے ۔
" میڈم ، ہمارا تعلق پاکستا ن سے ہے  ، ہم یہاں  وزٹ پر آئے ہیں اور کورٹا انٹرنیشنل ہوٹل میں رہائش پذیر ہیں ، ہم دونوں یہاں کے سکولوں کے متعلق جانا چاھتے ہیں ، یہ پاکستان  میں آرمی پبک سکول میں  وائس پرنسپل تھیں ، میں نے بھی رفاء انٹرنیشل یونیورسٹی میں  وزٹنگ فیکلٹی پڑھایا ہے ، لیکن بنیادی طور پر  ایک ریٹائرڈ فوجی آفیسر ہوں " اِس تعارف کے بعد  پرنسپل صاحبہ نے  ، ایتھوپیا کے تعلیمی نظام کے بارے جو بتایا  وہ یقیناً ہم دونوں کا حیرت سے منہ کھولنے  کا سبب بنا ۔
" یہ پرائمری سکول گورنمنٹ کا ہے ، جس میں آٹھویں کلاس تک  بچے اور بچیاں پڑھتے ہیں۔ سیکنڈری سکول بارھویں جماعت تک ہوتا ہے ، گورنمنٹ   یہ تمام تعلیم مُفت دیتی ہے نہ صرف  تعلیم بلکہ ، کتابیں ،کاپیاں ،  یونیفارم ، یہاں تک کہ دوپہر کا کھانا بھی مُفت ملتا ہے ۔ 
بارہویں جماعت کے بعد یونیورسٹی کی تعلیم شروع ہوتی ہے ، جس کے لئے ، تمام خرچے کا آدھا گورنمنٹ اور آدھا والدین دیتے ہیں ۔
جیسا کہ آپ  کو معلوم ہوچکا ہے ، کہ میری انگلش اِتنے عرصے کے بعد بھی بہتر نہیں ہوئی حالانکہ کہ میں نے جرمنی سے  پی ایچ ڈی   کی ہے ۔ تو آپ یہ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ہمارے بچوں کی انگلش بہتر ہوگی ؟  جس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں انگلش ایک آپشنل مضمون ہے ،  بچے بولتے بولتے سیکھ جاتے ہیں ۔
ہماری قومی زُبان امھارک ہے اور  ہم  امھارک میں بچوں کو تمام تعلیم دیتے ہیں ۔ جس بچے نے گریجوئشن کے بعد ،  ماسٹر یا پی ایچ ڈی کرنے باہر جانا ہوتا ہے تو وہ اُس مُلک کی زُبان سیکھتا ہے ۔ ایک آزاد جمہوری ملک  اپنے بچوں کو اپنی زُبان میں ہی تعلیم دیتا ہے ۔ غیرملکیوں کو ہم سے بات کرنے کے لئے ہماری زُبان سمجھنا ہوگی ، ویسے ہمارے بچے غیر ملکیوں سے بات کرتے کرتے انگریزی کے کچھ لفظ سیکھ جاتے ہیں ۔"
بوڑھا ، ادھیڑ عُمر پرنسپل کے مختصر اور جامع    لیکچر سے بڑا متاثر ہوا ۔ نکلتے وقت بڑھیا کے ساتھ ایک یادگاری تصویر بنائی ۔
 میں پرنسپل  کی باتوں پر غور کر رہا تھا ، کہ پچھلے 70 سال سے  ہماری قومی زُبان اردو ہے ،  لیکن انگلش آسیب کی طرح ہماری قوم سے چمٹی ہوئی ہے ،۔ جسے ہمارے  صاحبانِ تعلیم نے میٹرک میں لازمی مضمون قرار دیا ہے ، جس کی وجہ سے بہت سے بچے میٹریکولیٹ ہونے کے بجائے ، تعلیمی نظام سے انڈر میٹرک بن کر دھوبی کا کتا بن کر نکلتے ہیں، جو نہ گھر کے نہ  گھاٹ  کے رہتے ہیں ۔  
پانچویں کلاس تک تو        35.3 % بچے سکول چھوڑ دیتے ہیں ، باقی     64.7 %بچوں میں سے   15 سے 30 ٪ بچے میٹرک میں ڈراپ آؤٹ صرف اِس وجہ سے ہوتے ہیں کہ وہ انگلش کا امتحان پاس نہیں کر سکتے یا اگرکر بھی لیں تو اُن کے کل نمبر 40 فیصد سے کم ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے وہ کالجوں میں داخلہ نہیں لے سکتے ۔
پاکستان میں دو کروڑ اٹھائیس لاکھ بچے تعلیمی نظام سے باہر ہیں  ، جبکہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 15 ۔اے، کے مطابق ریاستِ پاکستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بچے کو  16 سال کی عمر تک لازماً مُفت تعلیم دے ۔ 

کہاجاتا ہے کہ پاکستان میں    خواندگی کا تناسب    54.9 % ہے اور ایتھوپیا میں 39.0 % اگر ہم انگریزی کو اپنے نصاب سے نکال دیں ، تو شائد یہ تناسب 20 سے 30 فیصد بڑھ جائے اور پاکستان میں خواندگی کا تناسب     85.0 %  تک جا پہنچے۔
ہمارے گریجوئیٹ بچے انگلش ایسے بولتے ہیں جیسے ،  ایتھوپیئن پرنسپل بولتی ہے ۔ لیکن یہ ایک مکمل آزاد جمہوری ملک ہے۔جہاں قومی زبان کی اہمیت ہے ۔

یہ ماننا  پڑے گا کہ جدید ایتھوپیا کی ترقی میں اطالویوں، فرانسیسیوں  اور انگریزوں  کا بھی ہاتھ ہے ۔ جیسے برصغیر کی ترقی میں  برٹش   کا ہاتھ ہے ۔  لیکن اِس کے باوجود یہاں اطالوی زبان بولنے والے ناپید ہیں ۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔