میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 12 نومبر، 2019

ابی سینا اور موجودہ ایتھوپیا

ایتھوپیا  کا قدیم نام ایبے سینیا ہے  جو افریقی براعظم کے مشرقی سرے پر واقع ہے۔ اریٹیریا ، جبوتی ، صومالیہ ، سوڈان اور کینیا ہمسایہ ممالک ہیں۔ 1،1298،00 مربع کی رقبہ کا رقبہ کلومیٹر ، ایتھوپیا فرانس اور اسپین کے جتنا بڑا ہے یا برطانیہ کے سائز سے پانچ گنا زیادہ یا ٹیکساس سے دو گنا سائز کا ہے۔
 ایتھوپیا میں شمالی گونڈر کے سیمین پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر  افار ریجن  کی رفٹ ویلی  میں ڈنکیل  کے نمکین نشیبی وادی اور جھیلیں  ، وسیع  مرکزی سطح مرتفع  ، معتدلہ  جنگلات ، سوانا صحرا ، جھیلیں اور دریاؤں  پر مشتمل   خصوصیات ہیں۔ ادیس ابابا تقریبا     ساڑھے 50 لاکھ  آبادی پر مشتمل  ، یہاں کا دارالحکومت ہے۔
 دریائے نیل دنیا کا سب سے لمبا دریا ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 6670 کلو میٹر ہے۔ براعظم افریقہ کی دو جھیلوں سے نکلتا ہے، افریقہ کی سب سے بڑی  جھیل وکٹوریہ  ،  جھیل سے سفید نیل  نکلتا ہے۔
جب یہ دریا سوڈان میں داخل ہوتا ہے تو اس کی رفتار بہت سست ہوجاتی ہے، کیوں کہ دریا ایک زبردست دلدل سے گزرتا ہے۔ یہ دلدل دنیا کا سب سے بڑا دلدل ہے یعنی 700 کلو میٹر لمبا ہے۔ یہاں ایک قسم کی گھاس پاپائرس پائی جاتی ہے، جو پورے دلدل پر چھائی رہتی ہے۔ یہ اتنی گھنی اور مضبوط ہے کہ اس پر ایک ہاتھی کھڑا ہوجائے تو وہ نیچے نہیں جائے گا اور سیدھا کھڑا رہے گا۔ دریا کا پانی گھاس کے نیچے نیچے بہتا ہے۔ 

بلیو (نیلا ) نیل  جو   ایتھوپیا  میں جھیل تانا سے نکلتا ہے اور فوراً بعد آبشار کی صورت میں ایک نہایت گہرے گڑھے میں گرتا ہے اور بہتا ہوا خرطوم کے مقام پر دریائے نیل میں مل جاتا ہے۔ ایتھوپیا اور سوڈان سے کئی  چھوٹے دریا  نکل کر  دریائے نیل میں شامل ہوجاتے ہیں ۔
 ایتھوپیا  کے دو اہم موسم ہیں،  ایک خشک موسم جو اکتوبر سے  مئی تک جاری رہتا ہے۔ اور
 دوسرا بارشوں کا موسم  ، جو  جون سے ستمبر تک رہتا ہے ۔
 جنوری اور فروری گرم اور زیادہ خشک مہینے ہیں۔ 
 بارشوں کے بعد ، علاقے سبزے سے بھر جاتے ہیں ۔ پہاڑیوں  میں دن کے وقت درجہ حرارت اعتدال   یعنی 30 درجے  سے تجاوز نہیں کرتا ہے ، یہاں تک کہ سال کے سب سے زیادہ گرم وقت  میں بھی رات  عموماً ٹھنڈی ہوتی ہے ،  سارا سال  یو سمجھیں موسم معتدل رہتا ہے ہوائیں خوب چلتی ہیں ۔
البتہ  جنوبی  وادی قدرے گرم ہوتی ہے اُسی طرح     مشرقی نشیبی علاقے بھی  گرم اور خشک  ہیں  ، مغربی نشیبی علاقے گرم اور مرطوب ہیں۔

ایتھوپیا کی آبادی  96 ملین ہے۔ ایتھوپیا میں  زبانوں  کے لحاظ سے بہت سی  اقوام ہیں آباد   90 مختلف زُبانیں بولتی ہیں ۔  ایتھوپیا  کے خاندانِ زُبان  میں شامل۔
 اورومو  (Oromo)، امہاری (Amharic)  ، صومالی  (Somali)،تیگرینیا  (Tigrinya )، سِدامو (Sidamo)،
وولائیتا  (Wolaytta گریز (Gurage)، عفار    (Afar) ،
ھادیہ (Hadiya)  ، اموتائی (Omotic) زبانیں گامو ، گوفا  اور داورو  (Gamo-Gofa-Dawro)، 
دیگر زبانیں (Other languages)  ،سامی     (Semitic) ،   کوشیائی  (Cushitic) ،انگوٹا (افرو-ایشیائی   )   ،  گعز (Ge'ez)  اور نیلوٹک(Nilotic)   زُبانیں بولنے والی  نسلوں  کے لوگ ہیں۔
 انگریزی سب سے زیادہ بولی جانے والی غیر ملکی زبان ہے ، اور یہ سیکنڈری اسکولوں میں تعلیم کا ذریعہ ہے۔ امہارک پرائمری اسکول کی تعلیم کی زبان ہے ، امہارک کو وفاقی حکومت کی دفتری کام کرنے والی زبان کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ جب کہ 1995 کے ایتھوپیا کے آئین میں تمام زبانیں مساوی ریاست کی شناخت حاصل کر رہی ہیں ،امہارک اور ٹگرنیا کے بہت سے الفاظ اطالوی زبان سے  لئے گئے ہیں ۔
  مذہب کے لحاظ سے قدامت پسند عیسائی تقریبا   43.5٪ ، مسلمان 33.9٪، پروٹسٹنٹ عیسائی  18.6٪   ،مذھب پرست  2.6٪ ،کیتھولک عیسائی  0.7٪  ،   اور  یہودی 7٪   اور دوسرے ہیں۔ جو بات ایتھوپیا کے بہت سے لوگوں کو متحد کرتی ہے وہ ان کا مشترکہ آزاد وجود بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔



گو کہ ایتھوپیا پر اٹلی (1936–1941)   پر قبضہ رہا ،   اطالویوں نے ایتھوپیا پراپنا قبضہ برقرار کھنے کے لئے  کافی   سرمایہ کاری کی۔جس میں :
٭- ادیس ابابا اور میسااؤ ، ادیس ابابا - موگادیشو اور ادیس ابابا - اساب کے درمیان "شاہی سڑک" بنائی۔
٭-   900 کلومیٹر سے زیادہ ریلوے  تعمیر  کی گئی -
٭- ڈیم اور پن بجلی گھر تعمیر کیے گئے۔

٭ - بہت ساری سرکاری اور نجی کمپنیاں قائم کی گئیں۔
٭-  اس کے علاوہ ، اطالوی حکومت نے غلامی ، اس عمل کو ختم کردیا جو صدیوں سے ملک میں موجود تھا۔
 19 فروری  1937 میں ،اٹلی کے مشرقی افریقہ کے وائسرائے روڈلفو گریزانی کے قتل کی ناکام کوشش  ہوئی،  اطالویوں نے بہت سے ایتھوپیا کے لوگوں کو قید اور قتل عام کیا 
 دوسری جنگ عظیم میں اٹلی کے داخلے کے بعد ، برطانوی سلطنت افواج نے ، اربیگنوچ کے ساتھ مل کر  "محب وطن" ، مسلح مزاحمتی فوجیوں  کےساتھ،   1941 میں مشرقی افریقی مہم کے دوران ایتھوپیا کی خودمختاری کو بحال کیا۔
 حائلی سلاسی کے وفادار     فوجوں اور اطالوی گوریلا جنگی  حملے مقامی  لوگوں کی مدد سے 1943   تک جاری رہی۔ اُن کی شکست کے بعد  ، انگریزوں نےبغیر کسی خاص برطانوی مراعات کے  ایتھوپیا کی مکمل خودمختاری کو تسلیم کیا ،یوں  دسمبر 1944 میں اینگلو - ایتھوپیا کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔

گو کہ  انگریزوں اور  بادشاہ حائلی  سلاسی کے درمیان   معاہدے کی وجہ سے انگریزوں نے وطن پرستوں کے ساتھ مل کر مسولینی کی فوجوں سے   سے ایتھوپیا کو خالی کروایا ۔ لیکن  ایتھوپیا کو برٹش  نوآبادیاتی  نظام میں شامل نہیں کیا شاید یہ وجہ ہو کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانوی ملکہ  نے اپنے تمام محکوم ملکوں سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں ، یہی وجہ ہے  کہ ایتھوپیا کی قدیم رسوم و روایات برسوں سے  برقرار ہیں ۔
  1947 کے امن معاہدے کے تحت ، اٹلی نے بھی ایتھوپیا کی خودمختاری اور آزادی کو تسلیم کیا۔ لیکن یہ ماننا  پڑے گا کہ جدید ایتھوپیا کی ترقی میں اطالویوں اور فرانسیسیوں کا بھی ہاتھ ہے ۔ جیسے برصغیر کی ترقی میں  برٹش   کا ہاتھ ہے ۔ 
یہ   اقوام  (اطالوی ، فرانسیسی اور انگریز)جانتی تھیں ، کہ   غریب اقوام کے دل اُسی وقت جیتے جاسکتے ہیں ۔ ٹرانسپورٹ (روڈ، ریل ، ہوائی ) نظام بہتر بنایا جاسکے ، ڈیم اور معاشی ترقی کی انڈسٹری کو فروغ دیا جائے ۔
-----------------------
 اگلا مضمون :
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہلے مضامین :
٭-  ایتھوپیا۔ بارہویں جماعت تک مُفت پڑھائی ۔
٭-  افریقہ ۔ نصابِ مصالحہ جات

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔