میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 14 نومبر، 2019

پرانا اسلام آباد

  جب اسلام آباد کا ماسٹر پلان بنا اور آباد ہونا شروع ہو ا،  تو عوام کی تفریح کے لئے ، چار  پلاٹ سینما کے لئے مخصوص کئے گئے تھے :
 1- 1966 میں پہلا سینما ، میلوڈی سینما ، جو جی 6 مرکز میں میلوڈی کے نام سے بنا ۔
 2-  1974 میں  نیف ڈیک (نیشنل فلم، ڈویلپمنٹ کارپوریشن) کے نام سے  ایف 6 بلیو ایریا میں بنایا گیا ۔
3-  جی 7  مرکز میں ، کہسارسنیما (ستارہ مارکیٹ ) کے نام سے بنا ۔ 
 4- جی 9 مرکز  میں ایک پلاٹ  ۔ یہ فلم سٹار رنگیلا کو الاٹ ہوا تھا ، لیکن بعد میں  یہ منسوخ کر دیا گیا ۔

یہ تمام پلاٹ ، انویسٹرز کو کوڑیوں کے مول الاٹ ہوئے تھے ۔
اب اِن کی جگہ کمرشل پلازے ہیں ۔
 ٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔