میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 2 دسمبر، 2019

دُعائیں - ایک چھوٹی سی کہانی

آؤ ، تمھیں مزدوری دلوا دوں ، کہا ایک ہمدرد نے ۔ 
"کیسی مزدوری ہے ؟ " شیدے نے  اپنی پھٹی چادروں کی جھگی کے سائے میں لیٹے ہوئے پوچھا ۔
" دیہاڑی   کرنا ہے " ہمدرد بولا " بھٹے پر  وہاں مُفت جگہ بھی ہے رہنے کے لئے ،
لیکن ایک شرط ہے ، کہ آدھی تنخواہ میری ہوگی" ۔
شیدے نے سوچا ، " جہاں وہ رہ رہا ہے ، 100 روپے مہینہ کرایہ بھی دے رہا ہے  اپنے   خاندان کے 20 افراد کا  ، اُوپر سے  پولیس والے بھی تنگ کرتے ہیں ۔ کہ تم لوگ خطرناک ہو ۔تھانے کے پھیرے الگ ، چنانچہ حامی بھر لی ۔

 ہمدرد نے سیٹھ سے آدھی تنخواہ وصول کر کے ، بھوک کا شکار ، شیدے کو بھٹے پر رکھوادیا اور بھٹے کے پاس رہنے کو جگہ بھی مل گئی ۔ شیدے نے اپنی ، ماں ، بہن ، بیوی سب بچوں کو مالک سے ادھار لے کر بھٹے پر رکھوا دیا۔کیوں کہ تنخواہ تو تین بھٹوں کی اینٹیں کے بِکنے کے بعد ملے گی ، لیکن پیٹ تو کھانا ابھی مانگتا ہے ۔ 
پہلے بھٹے کی اینٹیں پکیں تو ٹھیکیدار لے گیا ۔
 مزدوروں نے شُکر کیا ۔ 
دوسرے بھٹے کی اینٹیں سوکھ رہی تھیں کہ ، کسانوں نے دعا مانگی ۔
اور ناگہانی بارشیں شروع ہو گئیں جو پورے ہفتے لگی رہیں ،کسانوں نے شُکر کیا ۔
اور سوکھی اینٹیں مٹی اور ریت بن کر   تودوں میں تبدیل ہو گئیں ۔ 
شیدے ، نے سوچا   حکومت نے مہنگائی بڑھا دی ہے ، لیکن بھٹہ مالک سال بعد مزدوری بڑھائے گا ۔
کیا کیا جائے ؟
ہمدرد پھر شیدے کے پاس آیا ، شیدے نے اپنی ببپتا سنائی ، ہمدرد نے کہا ، ایک اور جگہ ہے وہاں  دیہاڑی بھی زیادہ   راضی ہو تو بولو ۔ شیدے نے حامی بھری ۔ 

رات کو اُس نے پورے خاندان کے ساتھ نکلنا  تھا ۔ لیکن یہ کیا  ابھی وہ سامان باندھ کر گدھوں پر رکھ رہے تھے ، کہ بھٹہ مالک کے کارندے آگئے ، اُنہوں نے شیدے کو خوب مارا ، اُس کی  چھوٹی دو بچیوں 10 سالہ  صغرا کو  اور 13 سالہ  شنّو کو لے گئے ۔
" یہاں سے کہیں گئے تو  لڑکیاں بیچ کر قرض پورا کر لیں گے " کارندوں کے باس نے دھمکی دی ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔