میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 10 دسمبر، 2019

رومانس، ایک جملے میں پیدا کرنا اُس کی خصوصیت ہے

فیس بُک فرینڈ لِسٹ میں شامل   ایک اچھی  بھتیجی       صبیحہ کیانی (زرینہ صمد)
جس نے اپریل 2019 میں فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی ،  جو بوڑھے نے، قبول کرکے   جواباً یہ پوسٹ ڈالی 

  اُس کے بعد  بھتیجی کی، چبھتی ، سوالیہ ، بیانیہ ، ذہانیہ ،جھنجھلاپا اور گنڈاسا    قسم کی پوسٹ  میری وال پر نظر آنے لگیں ۔
 کل     صبیحہ کیانی (زرینہ صمد) کی ایک پوسٹ پر، اُن کے فرینڈز کے  کمنٹس   ،  تحت الشعور سے شعور میں لے آئے ۔
 میرے خیال میں ،
" رومانس، ایک  جملے    میں پیدا کرنا صبیحہ کیانی  کی خصوصیت  ہے "

 انسانی معلومات جب ماضی کے اُفق پر ، ذہن کی گہرائیوں میں ڈوب جاتی ہیں ، تو ہوا کے دوش پر اُڑتا ہوا ایک لفظ ، اُن یادوں کو دوبارہ تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے ۔ 
 انسانی شخصیت  ، شعور اور تحت الشعور میں جمع یاداشت  کااظہار ہے ۔

پاکستان ملٹری اکیڈمی میں ، گریجوئشن کرتے ہوئے ، انگلش کے مضامین میں ایک مضمون  نثر (prose) کابھی تھا ۔ جِس میں رومانس کا  ایک مضمون  کھلی کھڑکی  (“The Open Window) بھی تھا  ۔اور مجھے یاد اِس لئے ہے کہ ہمارے انگلش کے  استاد میجر تصدّق  نے پڑھنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی ۔   آپ بھی یہ   کہانی پڑھیں،  میں نے انگلش سے اپنے الفاظ میں ترجمہ کیا ہے اور پھر آخر میں وڈیو دیکھیں ۔ شکریہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔