میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 8 اپریل، 2020

صحافت کے کالے کرتوت -

 میں نے اپنے شوہر کی صحافتی زندگی کے خطرناک اور دلخراش واقعات لکھنے اجازت طلب کی تو انھوں نے مجھے اصل ناموں کے ساتھ واقعات لکھنے کی اجازت دے دی۔
ان کی زندگی کے کئی واقعات ہیں جن میں سے سب سے بہترین واقعات لکھتی رہوں گی۔
سوشل سکیورٹی ہسپتال راولپنڈی سے ہم سب واقف ہیں- اس ہسپتال کے بارے میں میرے شوہر نے ایک  سٹوری 2010 میں روزنامہ جناح میں چھاپی-
 آئیں،  اس کی اندرونی کہانی آپ۔کو سنائیں تاکہ آپ۔کو علم ہو کہ صحافت کے نام پر کیا کچھ کون کون کرتا ہے؟؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کامران اس وقت روز نامہ جناح کے راولپنڈی آفس میں سٹاف رپورٹر کی حیثیت سے نوکری کر رہےتھے۔ اور انھیں روز نامہ جناح کے اس وقت کے بیورو چیف عثمان نے محکمہ ہیلتھ  راولپنڈی کی بیٹ دی۔ 
ایک دن کامران شام کے وقت اپنے آفس میں نیوز فائل بنا رہے تھے کہ ایک بزرگ آدمی آیا اور اس نے روتے ہوئے بتایا  کہ میں ایک مزدور ہوں اور میرا بیٹا 3 سال سے سوشل سکیورٹی ہسپتال راولپنڈی میں کومہ میں ہے ۔ اس پر چیف جسٹس نے سو موٹو ایکشن بھی لیا  ہوا ہے ۔لیکن سوشل سکیورٹی ہسپتال کی انتظامیہ اور ایم ایس سوشل سکیورٹی ڈاکٹر اظہار عدالت کے ساتھ بھی تعاون نہیں کرتے اور میں بے بس ہوں۔
کامران نے اس بزرگ سے تمام ڈاکومنٹ طلب کئے۔ اگلے روز وہ بزرگ تمام ڈاکومنٹ لے کر آیا۔ جب کامران نے ان ڈاکومنٹس کو دیکھا تو انھیں علم ہوا کہ سوشل سکیورٹی ہسپتال میں معاملات کافی خراب ہیں۔ 

بزرگ نے کہا کہ آپ ایک دو کالمی خبر دے دیں آپ کی مہربانی ہو گی۔ لیکن یہاں ڈاکومنٹس میں کئی دنوں کی سٹوری بن رہی تھی۔ جس میں نرسوں سے زیادتی سے لیکر آڈٹ رپورٹس میں کروڑوں روپے کے گھپلے بھی شامل تھے اور اس سٹوری میں کسی ایک آدمی کے بجائے کمشنر سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ پنجاب شیر عالم مسعود کا نام بھی آ رہا تھا۔ سو کامران نے یہ ایک خبر چھاپنے سے انکار کر دیا اور بزرگ سے کہا کہ اگر آپ تعاون کریں تو میں پورے سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کو ہلا کر رکھ دوں گا آپ کا نام صیغہ راز میں رہے گا۔ بزرگ مان گیا اور کامران نے ہسپتال کی ریکی شروع کر دی۔  کامران کے مطابق  ،
"  میں صبح سویرے ،  پرانے کپڑے پہن کر ہسپتال ہسپتال چلا جاتا اور ہسپتال کے اندر جاکر مریضوں میں اخبارات فروخت کرتا اور ساتھ ہسپتال کے اندرونی منظر دیکھتا اور بزرگ کی طرف سے دی گئی معلومات کی تصدیق کرتا۔ جب ابتدائی ریکی مکمل کی تو آڈٹ رپورٹ 2007 نکالوانا تھی- جس کے لئے مجھے آڈٹ برانچ میں   کسی  لڑکی کی مدد کی ضرورت تھی، جو وہاں آڈٹ برانچ میں کام کرتی ہو ۔
آڈٹ برانچ کی لڑکی کے ساتھ دوستی کرنا انتہائی لازمی تھی تا کہ اُس کا اعتماد حاصل کر کے یہ رپورٹ حاصل کی  جا سکے۔یہ آسان کام نہ تھا  لیکن اتنا مشکل بھی نہیں ،  ہسپتال میں کسی کو علم نہیں تھا کہ، میں کون ہوں اور کیوں آتا ہوں؟
جب پرانے کپڑے پہن کر داڑھی بڑھا کر  اخبار بیچتا تھا، تو اُس وقت  میں ایک اخبار فروش تھا  کسی کو شک نہ ہوا ۔ لیکن اب   اِس کام کے لئے مجھے  اپنا  حلیہ  تبدیل  کرنا تھا ، کیوں کہ آڈٹ برانچ میں کام کرنے والی مجھ سے ہمدردی تو حاصل کر سکتی ہے ،
آڈٹ رپورٹ 2007  ، کسی بھی صورت میں  اپنی نوکری کو خطرے میں ڈال کر نہیں دیتی  ۔
لہذا  میں نے  گاڑی رینٹ پر لی اور  اچھے  کپڑےپہن کر سیدھا آڈٹ برانچ پہنچ گیا۔ جب آڈٹ کے روم میں جارہا تھا کہ دیکھا میری خالہ کی بیٹی جو یہاں نوکری کرتی تھی،  سامنے وارڈ کے دروازے پر کھڑی تھی۔ میں نے ایک دم رخ تبدیل کیا اور اسے چکما دے کر نکل گیا۔ لیکن آڈٹ روم میں جانے کے بجائے واپس نیچے آگیا۔ گاڑی میں بیٹھ کر سوچا کہ ، عشال ( خالہ کی بیٹی کا فرضی نام ) نے  مجھے دیکھ لیا  تو مسئلہ خراب ہو جائے گا ۔ 
تو میں نے دوسرا پلان سوچا  ، جو گو کہ معاشرے کے اعتبار سے درست نہ تھا لیکن   مجبوری تھی ۔میں نے لڑکی کو دوستی کی آڑ میں گھیرنے کا پروگرام بنایا ۔ آڈٹ میں موجود لڑکی کو میں دیکھ چکا تھا ۔ لہذا میں نے  نئی سِم  زین کے نام سے نکالی       اور لڑکی پر کوشش شروع  کردی -"
میرے شوہر نے بتایا ،
" 13 دنوں کی کوشش کے بعد بالآخر  میں نے اُس لڑکی کو آخر اپنی گاڑی پر بیٹھنےراضی کر لیا۔  یوں مزید    9 دن مجھے اس لڑکی کو اعتماد میں لینے پر لگ گئے۔ پھر میں نے   اس لڑکی کو   بتایا کہ میں ایک ٹھیکیدار ہوں اور ایک دوسرا ٹھیکیدار میرا ٹھیکہ کینسل کروانے  کی کوشش میں لگا ہوا ہے   ۔ اگر مجھے  2007  آڈٹ رپورٹ  مل جائے تو میرا ٹھیکہ کینسل ہونے سے بچ جائے گا اور   مجھے نقصان نہ ہوگا۔  لڑکی پہلے  تو نہ مانی  ، لیکن جب میں نے  پیسوں کا لالچ دیا تو مان گئی اور اُن نے مصیبت کے مارے ٹھیکیدار زین کو  آڈٹ رپورٹ   دے دی  ۔میں نے اسے 25 ہزاروپے دیئے۔ اور آفس پہنچ کر وہ سم  توڑ دی-  یوں اُس لڑکی کے لئے زین نامی ٹھیکیدار ، مفقود الخبر ہو گیا  "-
اب میرے شوہر کو سٹوری شروع کرنے کے لئے سیالکوٹ سوشل سکیورٹی سے آڈٹ رپورٹ 2005 درکار تھی- 

" سوشل سیکورٹی ہسپتال کی نرس ( ش) جس کے ساتھ ایم ایس سوشل سکیورٹی ہسپتال ڈاکٹر اظہار نے جسمانی زیادتی  کی تھی - جس کی خبر روزنامہ جناح میں ،میں نے ہی لگائی تھی -   ڈاکٹر  اظہار  نے مجھ سے ملنے کی بہت  کوشش کی، لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا تھا کیوں کہ اگر ڈاکٹر مجھے سے ملتا   تو عشال   کی نوکری  چلی جاتی - اور آڈٹ والی لڑکی پر میرا راز کھل جاتا -  بدعائیں تو وہ نجانے کتنی دے چکی ہو گی ؟
  اگلے روز میں نے جناح کے بیک پیج پر دو کالمی خبر چھاپی۔ خبر اتنی جاندار تھی کہ صبح سویرے مجھے روز نامہ جناح کے پی اے ذوالفقار کا ٹیلی فون آیا کہ خوشنودی علی خان آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ آپ کو شام 6 بجے آفس بلایا ہے۔

 شام 6 بجے میں ستارہ مارکیٹ اسلام آباد جناح اخبار کے دفتر پہنچا، تو خان صاحب نےپوچھا،
" یہ جو آپ نے خبر لگائی  ہے سوشل سکیورٹی کے بارے میں،  آپ کے پاس کیا کچھ ہے ؟ ایسا نہ ہو کہ الٹی گلے پڑجائے ؟ "۔ 
میں نے جواب دیا ، "سر !سوشل سکیورٹی ہسپتال کے بارے میں اتنا مواد ہے کہ میں ایک کتاب لکھ سکتا ہوں اور ثبوت کے ساتھ"
 تو خوشنود علی خان صاحب نے مجھے بے دھڑک ہو کر لکھنے کی اجازت دی۔ اور ساتھ کہا ،
" سٹوری لکھتے ہوئے ڈرنا نہیں، میں آپ کے ساتھ ہوں۔ "
کہتے ہیں کہ  میں ہیڈ آفس سے نکلا،  تو سیدھا اپنی خالہ کے گھر آیا کہ  کزن سے کچھ سُن گُن ملے  کہ خبر کی اشعاعت  پر آخر  ہسپتال میں کیا ہوا؟
کزن پریشان تھی کہ ہسپتال کے خلاف اخبار میں خبر آئی ہے۔
کامران کہتے ہیں کہ میں نے جب سٹوری  کی اقساط چھپوانا شروع کیں  تو    6 ویں قسط چھپنے کے اگلے  دن  صبح  مجھے ہیڈ آفس اسلام آباد سے چیف رپورٹر کا فون آیا ،
"  آپ کی سٹوری کیش ہو گئی -آج سے آپ کی خبر نہیں لگے گی۔ "

کامران نے وجہ پوچھی تو علم ہوا کہ اسائنمنٹ ایڈیٹر شکیل احمد چشتی آج پارکنگ سے ڈاکٹر اظہار کی گاڑی پر بیٹھ کر گئے۔
کہتے ہیں کہ ایسا  ہی  ہوا ،  شام میں نے ساتویں قسط بھیجی تو  اگلے دن اخبار میں سٹوری نہیں لگی۔ خبر رکوا دی  گئی ۔ سوشل سکیورٹی میں اپنے سورس سے پوچھا ، تو علم ہوا کہ شکیل احمد چشتی 5 لاکھ روپے نقد اور قربانی کے لئے دو بیل لے کر گئے۔
کہتے ہیں کہ اگلے روز میں صبح سویرے گھر سے نکلا اور روزنامہ جناح کے آفس ستارہ مارکیٹ گیا ۔ جب
اسائنمنٹ ایڈیٹر شکیل احمد چشتی ، آفس آیا  -تو میں اِسے  تیسری منزل سے گھیسٹ کر نیچے لایا اور پارکنگ  لاٹ میں  اُسے بے نقط سنا کر  نوکری چھوڑ کر آگیا۔
اس وقت کا وزیر اعلی پنجاب منگل کے روز ماڈل ٹاون میں کھلی کچہری لگاتا تھا۔
کہتے ہیں کہ میں پیر کے روز رات راولپنڈی سے نکلا اور تمام ثبوت اور اخبارات کی کٹنگ لے کر منگل کی صبح وزیر اعلی کے چیف کوآرڈینیٹر میڈیا نوشاد حمید کو ساتھ رکھ کر وزیر اعلی پنجاب سے ملا۔

 وزیر اعلی نے ڈائریکٹر ماحولیات طارق زماں خان اور انکوائری آفیسر مقرر کر کے سخت انکوائری کا حکم دیا۔
اور اگلے چار روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
کہتے ہیں میں 4 روز لاہور رہا ۔۔۔ 

اِس انکوائری کے دوران ہی کمشنر سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ پنجاب شیر عالم مسعود  کو نوکری سے ڈسمس کر دیا گیا۔ کیپٹن  ڈاکٹر اظہار کو گرفتار کر لیا گیا اور کامران نے جناح اخبار سے استعفی دے دیا۔۔۔۔
کسی صحافی کی نوکری پکی نہیں ہوتی ۔۔۔ اور ہر سٹوری چینل یا اخبار کے مالکان اور سنئیر لوگ کیش کر لیتے ہیں۔

بشکریہ   :   اَنشرح حورین
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج صبح  مجھے ایک بیٹی کی  فیس بُک فرینڈ پر فرینڈ ریکوئسٹ آئی ،   خواتین کے معاملے میں میں ذرا شکی مزاج ہوں  ، کیوں کہ ماضی میں مجھے کئی بیٹیوں کی ریکوئسٹ آئی اور بالآخر وہ بیٹا بننے  پر مجبور ہو گئے ۔
میں نے پروفائل کھولا  ، تو پہلی تصویر دیکھ کر دل خوش ہوگیا  ، رسولِ وقت ، جناب عبدالستّار ایدھی  کی  ہے -
میں نے تصویر پر لائیک کر کے ، فرینڈ ریکوئسٹ قبول کر لی  - 
تو بالا مضمون پڑھا ۔ یادِ ماضی میں کھو گیا -
2000 ء میں  ریٹائرمنٹ  کے بعد  ، جب میں بزنس میں آیا ، تو  کمپیوٹر سیلز کے ساتھ ، DOSAMA  ایڈورٹائزنگ  بھی شروع کی-جن میں جنگ، جناح ، خبریں ، ڈان ، نیوز، اوصاف  ، مشرق ، ایکسپریس ۔
 وہ  اِس لئے کہ اِس بوڑھے نے  صحافت میں 1971 میں جب قدم رکھا تو پہلی خبر سلیم آزاد   نمائندہ مساوات (سابقہ امن)  نےکاربن پیپر رکھ کر لکھی اور بوڑھے نے ایک لفافے میں ڈال کر کراچی روانہ کر دی  ،  یوں وہ صحافت میں میرے استاد اور کلاس فیلو   ، سلیم آزاد ،کی مدد سے دوسرے دن " روزنامہ  امن " میں چھپ گئی ، اِس طرح اِس بوڑھے نے  عین نوجوانی میں، اخباری    صحافت میں دھکّے سے قدم رکھا ، جو جاری رہا ۔
صلہ یہی ملتا کہ  بس یہ دیکھ کر خوش ہوجاتے کہ اخبار میں خبر چھپ گئی ۔ 
٭٭٭٭٭٭

اَنشرح حورین سے اجازت مانگی کہ بلاگ پر پبلش کردوں اُنہوں نے اجازت دے دی ۔جو آپ کی خدمت میں پیش ہے -
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



پیر، 30 مارچ، 2020

Spanish flu or Spanish Lady 1918-1919

The influenza pandemic occurred between 1918 and 1919, misnamed Spanish flu or Spanish Lady, is considered the biggest twentieth century health catastrophe, which caused the loss of 25 to 50 million people in less than one year.


























اتوار، 29 مارچ، 2020

الکتاب اورمتشابھات

دوستو ! میرے فہم کے مطابق:
روح القدّس   نے اللہ کے حُکم  کے مطابق رسول اللہ کو  ،بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  سے لے کر    مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ  تک  الوحی نازل کی  اور حفظ کروائی ، کِسی قسم کی کوئی کتابت  نہیں کی یا کروائی !
محمدﷺ  نے اِس وحی کی بغیر کسی تبدیلی کے اپنے دماغ   میں محفوظ الکتاب سے  انسانوں پر قرءت کی  اور اُن کے ذہنوں میں اُٹھنے والے سوالات  کے جواب میں اللہ کی آیات کی تلاوت کی ۔ 
انسانوں نے رسول اللہ سے یہ قرءت اور تلاوت   مختلف مواقع پر سُنی  ، اُنہوں نے کہیں سے پڑھی نہیں ۔ اللہ کی یہ آیات ، انسانوں کے لئے منزل من اللہ خبر   تھیں  ، جن پر ایمان لانا یا نہ لانا ، اُن کی ثواب دید پر تھا   ، کہ وہ یہ خبریں سنانے والے پر کتنا  یقین  کرتے ہیں ۔
رسول اللہ نے ، اللہ کے منتخب ایمان والوں کو ، اُن پر اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی الوحی مکمل  خود حفظ کروائی اور الحافظون  کی ملت تیار کی ۔
حفّاظ  کےحفظ القران سے یہ سلسلہ،   الکتاب کے نازل ہونے کے بعد مسلسل ، بغیر کسی رد و بدل کے چل رہا ہے  - 
 کچھ ایمان والوں نے ، جو حفظ نہ کرسکے، اُنہوں نے  اپنے عمل کے لئے وہ آیات حفظ کر لی اور جو لکھ اور پڑھ سکتے تھے اُنہوں نے وہ لکھ لیں ۔
کچھ ایمان والے !  جنہوں نے رسول اللہ   سے  اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی الوحی  ، عربی میں سُنیں،اِن پر عمل کیا اور اِسے مزید لوگوں تک ابلاغ کیں،اللہ کی محکمات  آیات کا عربی میں،  ابلاغ  الکتاب والقرآن ، کا یہ سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے ۔   جو قیامت تک بغیر کسی تغیّر و تبدّ ل جاری  رہے گا ۔
وہ لوگ جن کے دلوں میں ، اللہ یا رسول اللہ سے اپنا قد بلند کرنے کی کجی ہے ، اُنہوں نے تبلیغ القرآن میں  اپنی اھواء  شامل کرنا شروع کردیں ،  جس سے اللہ کی آیات کے مواضع  تحریف ہو کر  متشابھات میں تبدیل ہو گئے ، حفّاظ کے اعتراض پر اُنہوں نے  ، اللہ اور رسول اللہ پر تہمت  منسوب کرنا  شروع کر دیں کہ یہ اُنہوں نے   یہ ابلاغ ، فلاں سے سنا جس نے رسول اللہ سے خود سنا ۔   چنانچہ    فلاں ابنِ فلاں کا سلسلہ ءِ ابلاغ  متشابھات  ،  اب بھی  جاری  و ساری ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 25 مارچ، 2020

ھاٹ اور ساور ویجیٹیبل سوپ

" آؤا ،   سُوپ بہت مزیدار ہے ، کل بھی بنانا " چم چم نے چکن کارن سُوپ کا تیسرا پیالہ لیتے ہوئے کہا ۔
" نہیں پپا کوئی اور سُوپ بنائیں " چم چم کی ماما نے کہا ۔
" ھاٹ اینڈ ساور سُوپ کیسا رہے گا " بوڑھا بولا۔
" آپ کو بنانا آتا ہے ؟ " بڑھیا نے پوچھا ۔
" بیوی  کیا نہیں بنانا آتا ہے ، حکم تو کرو "  بوڑھے نے جواب دیا ۔
" آوا،  یہ آپ نے کہاں سے سیکھا ۔ اپنی ماما سے " چم چم نے پوچھا ۔
" ارے چم چم اُس وقت کہاں یہ سُوپ ہوتےتھے سوائے ، مرغی کی یخنی ،  وہ بھی ہم ناک بند کرکے پیتے تھے ۔"بوڑھے نے جواب دیا
" تو پھر کیسے بنائیں گے ؟ " چم چم نے سوال کیا 
"  ارے  گوگل آنٹی سے  پوچھ کر  " بوڑھے نے جواب دیا ۔
چلیں اب سُوپ کیسے بنایا جاتا ہے ، گوگل آنٹی کے مطابق:

ھاٹ اینڈ ساور ویجیٹیبل  سُوپ  کے آئٹم -
 1-  سبزیاں:کچی پیاز، فریش بین ، شملہ مرچ ، بند گوبھی اورگاجر-سبز مرچیں ۔
2-  بین سپراوُٹ -بٹن مشروم (آپشنل) ،
3-پسی ہوئی  کالی مرچ -کارن فلور ۔ نمک ، چینی -
4-  ویجیٹیبل آئل -
5- ادرک ،  لہسن ،  سبز مرچیں -
6- ڈارک سویا ساس،  سفید سرکہ،  ریڈ چلی ساس ،  ریڈ چلی آئیل-
 آج بوڑھا  جاپان    مارکیٹ گیا وہاں سے  ، " بڑھیا کی لکھی ہوئے پرچی کے مطابق ، ھاٹ اینڈ ساور ویجیٹیبل   سوپ کا سامان لایا   - " 
بوڑھے کو مارکیٹ سے   بین سپراوُٹ ، بٹن مشروم اور ریڈ چلی آئل نہیں  ملے ۔   لہذا بوڑھا   ، اوئسٹر مشروم  جو ایتھوپیا میں ملتے ہیں    اور سفید لوبیا لے آیا ، تاکہ   دو تین دن بعد    بین سپراوُٹ بنائے جائیں ۔  لیکن سُوپ تو آج بنانا  ہے ۔  
بڑھیا نے کہا ،"  ریڈ چلی آئل "  کے بجائے   تیل میں سرخ    مرچیں تیل کر ڈال دیں  وہی کام ہوجائے گا "
" بیوی ،
بین سپراوُٹ نہیں   ملے اور نہ ہی  بٹن مشروم ، تو     ھاٹ اینڈ ساور ویجیٹیبل  سوپ کیسے بنے گا ؟" بوڑھا  بولا
" تو بنا لیں ،    ریڈ چلی آئل ، ویسے مشروم تو لائے ہیں آپ ،زہریلے تو نہیں ؟ "  بڑھیا بولی ۔
" دکان پر بک رہے ہیں ابھی کسی کے مرنے کی خبر نہیں  آئی "بوڑھے نے جواب دیا ۔
جب سے کرونا کا سنا ہے ، بڑھیا نے   اتنی احتیاطی  تدابیر اختیار کر لیں کہ کہ کمرے  ہسپتال کی بو سے بھرے ہوئے ہیں ۔
سبزیاں ، بڑھیا کی ملازمہ نے بوڑھے کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کاٹیں ۔
بوڑھے نے سب سے پہلے چولہے پر  فرائینگ  باؤل   رکھا ۔اُس میں کھانے کے  دو چمچے ویجی ٹیبل آئیل ڈالا اور   ادرک ،  لہسن ،  سبز مرچیں کا ایک  کھانے کا چمچہ  پیسٹ بڑھیا کے کچن سے لے کر ڈالا اور اُسے بھونا ۔ 


 پھر اُس بھنے ہوئے مصالحے  میں ساری کٹی ہوئی سبزیاں  (کچی پیاز، فریش بین ، شملہ مرچ ، بند گوبھی اورگاجر) ڈال کر چمچے سے   30 سیکنڈ تک ہلایا  ۔
پھر جناب اِس میں  ایک لٹر پانی ڈال دیا  - اور  پانی تین منٹ تک  پکنے دیا ۔

پھر اِس  میں ایک کھانے کا چمچہ  ڈارک سویا ساس  ڈالا -
پھر   ایک کھانے کا چمچہ ، سفید سرکہ ڈالا ،  دو  کھانے کے چمچے  ریڈ چلی ساس ،  ڈالا - اور اِن سب کومکس کیا ، کہ چم چم جو اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی  باہر نکلی  -
" نانو ، یہ  کس چیز کی خوشبو آرہی ہے ؟ "
" آوا ، 
ھاٹ اینڈ ساور سُوپ بنا رہے ہیں " بڑھیا بولی -
" واؤ ، آوا ، سوپ بن گیا ہے ؟ " چم چم  نے کچن میں آتے ہی پوچھا ۔
"بس  بننے والا ہے " بوڑھا بولا
" آپ نے چکن ڈالا ہے " چم چم نے پوچھا۔
" نو ، یہ خالص ویجیٹیبل سوپ ہے " بوڑھا بولا ۔
" مجھے ، چکھائیں " چم چم بولی 
" عالی ،  پہلے منہ ، ھاتھ اچھی طرح دھوؤ اُس کے بعد ڈائینگ ٹیبل پر آؤ " نانو نے حکم  چلایا -
" اچھا نانو " اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی ۔
بوڑھے نے ایک  کھانے کا چمچ    نمک  ،  چینی ڈالی   ، پسی ہوئی کالی مرچیں ڈالیں ۔آپ  اِس میں حسبِ ضرورت نمک  ڈالیں اور اتنی ہی چینی بھی ڈالیں ۔تاکہ دونوں کا تناسب برقرار رہے ،
بوڑھے نے  اوئسٹر  مشروم  ڈالے اور ایک پیالے میں چار کھانے کے چمچ  کارن فلور ڈال کر پانی سے اچھی طرح گھولا اور  فرائینگ باؤل میں ڈال دیا ۔ 
اب باؤل میں سب کو چمچ  سے ہلا کر مکس کر دیا  اور اوپر سے  کٹی ہوئی ہری مرچیں ڈالنا تھیں ، لیکن وہ چم چم کو پسند نہیں ، لہذانہیں ڈالیں  - اور ریڈ چلی آئل "   جو بوڑھے نے  ھاٹ اینڈ ساور سُوپ بنانے سے پہلے بنایا تھا  وہ ڈال کر خوب اچھی طرح ہلایا ۔
چم چم کے لئے ایک پیالے میں ڈالا اور میز پر رکھا  - 

" عالی  ، سُوپ تیا ر " بوڑھے نے آواز دی۔
چم چم کمرے سے دوڑتی آئی ، سوپ چکھا -
" آوا ، نہایت مزیدار "
بوڑھے کو اپنی محنت وصول ہوگئی ۔  بڑے پیالے کو سجا یا  اور گھر میں منادی کر دی ۔
سبزیوں کی وجہ سے چم چم  کو سوپ زیادہ پسندنہیں آیا ، اُس نے سبزیاں چھوڑ کر باقی سوپ  چمچے سے پی لیا ۔
" آوا ، کل چکن کارن بنانا"  چم چم بولی ۔
" اوکے مائی سویٹ ھارٹ " بوڑھا بولا ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلا مضمون :  
٭-      ریڈ چلی آئل گھر میں تیار کرنا ۔





 اوربوڑھے نے بڑھیا کی مدد سے سوپ بنایا ۔




 5- تیاری ـ
٭- کڑھائی میں ہلکی آنچ پر ،  تیل میں مصالحہ بھونیں ،
٭- آنچ بڑھا دیں ۔ کٹی سبزیاں ملا کر 30-60 سیکنڈ بھونیں ۔
٭-ایک جگ پانی ملائیں۔اور آنچ کے مطابق دو سے تین منٹ گلائیں  ۔
٭- بوائل ہونے پر ایک پیالی ڈارک سویا ساس ملائیں -
٭- سفید سرکہ ملائیں -
٭- دو چمچ ریڈ چلی ساس ملائیں۔
٭- حسبِ ضرورت نمک ملائیں۔
٭- حسبِ ضرورت چینی ملائیں تا کہ سوئیٹ اور ساور بیلنس ہوجائیں۔
٭- کالی مرچ ملائیں۔
٭- سب کو مکس کریں ۔
٭- اب بین سپراوٹ اور بٹن مشروم اوپر سے ڈالیں مگرملائیں مت،  تاکہ اوور کُک نہ ہوجائیں -
٭- ٹھنڈے پانی میں کارن فلور ملائیں، اور مشروم کے ارد گردڈال دیں- اور سب چیزیں مکس کریں-
٭- سبز کٹی ہوئی مرچ اور ریڈ چلی آئیل ڈالیں ۔
آپ کا ہاٹ اور ساور سوپ تیار ہے ۔٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔