میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 26 جنوری، 2020

یوم تخلیق السماوات والارض-3

سائینس سمیت تمام "مذاہب کا  نظریہ " ہے ، تمام کائینات کی ابتداء  اصولِ واحد (Single Principle)سے شروع ہوئی ۔ یہ اصول واحد ، کس نے    نیبولا میں بیدار کیا اور بِگ بینگ ہوا اور بالآخر زمین  پر سب سے ذہین مخلوق کی تخلیق اور اُس کی تربیت  کا سبب بنا  یا،یہ سب خود بخود ہوا  یا اِس کے پیچھے بھی کوئی اصولِ واحد  ہے ؟

ہم یہ تو جانتے ہیں کہ دنیا میں ہونے والی کوئی بھی ایجاد  کے پیچھے  اصولِ واحد ہے اور وہ انسان کے اپنے ، فائدے   کی بنیاد ہے اور ساتھ ہی انسانی نقصان کی بھی بنیاد ہے ۔اگر یہ اصول واحد نہیں ہوتا،  تو انسان کوئی بھی شئے ایجاد نہ کرسکتا اور اُس کی زندگی حیوانی زندگی کی سطح سے بلند نہ ہو سکتی ۔
اب دنیا کے پہلے انسان کو یہ  اصول واحد، کہ میں اپنی زندگی کو کیسے آسان بنا سکتا ہوں  تاکہ مجھے مشکلات اور پریشانیاں نہ ہوں  کیسے معلوم ہوا ؟
لازمی بات ہے کہ اپنے اردگرد ، حیوانی حیات، کی روزمرہ عادات   دیکھنے ، اور سننے کے بعد اُس  پر اپنے ذہن میں غور و فکر کرنے سےاور وہ عادات  اپنی زندگی میں اپنانے سے ، اب یہ عادات اچھی ہیں یا بُری،  اُسے اِس سے کوئی غرض نہ تھی ۔ انسان کو اپنی زندگی کو محفوظ بنانے کے لئے اُس کے ہاتھوں نے  اُس کے فائدے کی لئے اشیاء کو مزید بہتری کا ہنر دیا ۔ 
جیسے سائینس دانوں کا دعوی ٰ ہے کہ  جسم پر بارش اور دھوپ کے نقصانات محسوس ہونے کے بعد ، بچنے کے لئے انسان نے پہلے گھنے درختوں اور غاروں    کا ستعمال کیا اور پھر اپنے لئے عارضی سائیبان کا ، جِس کا ہنر اُس نے پرندوں سے سیکھا ۔   بھوک کے لئے ، پہلے اُس نے   پھلوں اور سبزیوں پر اُن کے ذائقوں کی بنیاد گذارہ کیا  اور اپنی حفاظت  کے لئے پتھروں کا استعمال کیا ۔ خونخوار درندوں کے پنجوں کی کارگذاریاں  دیکھ کر شکار کے لئے ، پتھروں اور پھر   لکڑیوں کو نوکدار  بنایا    اور جس چیز نے اُس کی مدد کی وہ اُس کی زُبان تھی ۔حواس ِ خمسہ کے استعمال کے بعد اپنے  دماغ میں جمع ہونے والی معلومات   کے فوائد اور نقصانات سے  اُس نے اپنی اولاد کو مستفید کرنا شروع کیا ۔وہ اپنی اولاد کی حفاظت کی وجہ سے حکمران اور تربیت کی وجہ سے استاد بنا ۔
کہیں حکمران ہی استاد ہوتا اور کہیں حکمران اور استاد الگ الگ ہوتے، کیوں کہ وہ اپنے ہنر و علم میں یکتا ہوتے ۔
حکمران قابلِ تعظیم اور استاد قابلِ احترام  تسلیم کر لئے گئے ۔ لیکن جِس انسان میں  ہنر اور علم یکجا ہوتے  وہ بطور لیڈر اپنے قبیلے میں  یکتا سمجھا جاتا ۔
اِس تمہید کے بعد ہم آتے ہیں  ، لیڈر   (حکمران اور استاد)      کی تخلیق پر جس ابتداء  اصولِ واحد
بنیاد پر کی گئی !
 وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ - - - ﴿2:30 ۔
 اور جب تیرے رب نے الملائکہ کے لئے  کہا ، صرف میں زمین میں ایک خلیفہ قرار دینے والا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔!
 (بائیبل:پھر خُدا نے کہا کہ ہم اِنسان کو اپنی صُورت پر اپنی شبِیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چَوپایوں اور تمام زمِین اور سب جانداروں پر جو زمِین پر رینگتے ہیں اِختیار رکھے گا)
 (وشنو مت میں ، وشنو نے برہما کو تخلیق کیا اور اسے باقی کائنات بنانے کا حکم دیا ۔)
 یہاں ایک بات کی تصدیق ہوتی ہے ، کہ تمام مذہب میں جب  پہلے انسان کو تخلیق   کا اصول(حکمران اور استاد)  بنا تو کائینات اور زمین میں موجود ہر شئے  تخلیق ہو چکی تھی ۔
 کائینات  کی تخلیق  کے بارے میں بائیبل میں بھی چھ ادوار ہیں اور الکتاب میں بھی چھ ادوار ہیں ۔صرف ہندو ازم میں  9 ادوار ہیں ۔ 
ہندو ازم میں ایک دور 43 لاکھ سال کا لکھا ہے ۔
 بائیبل میں  دور(دنوں) کی لمبائی کا ذکر نہیں ،
 الکتاب میں، عروج کے لئے ،   ایک یوم  کی لمبائی 50 ہزارسال لکھی ہے ، لیکن  کائینات کی تخلیق کی لمبائی کا ذکر نہیں ۔
سائینس نے    کائینات کی تخلیق کی ابتداء   سائنٹیفک  ٹیسٹ یا  مفروضے کی بنیاد پر ،  4.5  بلیئن سال بِگ بینگ کے بعد نکالی ہے ۔ جو نیبولا کے مرکز میں واقع ہوا تھا ۔

میں چونکہ الکتاب کا طالبعلم ہوں ، جی وہی الکتاب   جو تمام انبیاء کو  اللہ کی طرف سے ملی ۔
جس میں یہ عربی میں لکھا  ہے ۔ 
٭- نیبولا (گرد و غبار یا دُخان ) میں الارض موجود۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ  ﴿41:11
 پھر اُس نے السماء کو برابر کیا، وہ دُخَانٌ کی طرح تھی ۔ پس اُس نے اُس (دُخَانٌ) کے لئے اور الارض کے لئے کہا ،" تم دونوں طوعاً یا کر ھاً آؤ" ، وہ دونوں بولیں ،" ہم دونوں طوعاً آتی ہیں " 
 (  دُخَانٌ= Water vapors ) 

٭٭٭٭٭٭٭
٭- نیبولا میں  الارض کی موجودگی میں بِگ بینگ ۔اور بِگ بینگ کے  دو  یوم  کے بعد  زمین پر پانی کا وجود ۔
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ﴿21:30
 کیا وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں ، نہیں  دیکھیں گے  کہ السماوات اور الارض          رَتْقً  تھے اور ہم نے اُنہی  فَتَقْ  کیا ۔اور ہم نے   کل ذی حیات (Living being)کے  الماء   (خاص حیات بخش ماء)قرار دیا ، کیا تمہیں  ایمان نہیں ؟
( رَتْقً = One Unit Mass ,  فَتَقْ = Split them asunder)


٭- بِگ بینگ کے  دو  یوم کے بعد  سبع  سماوات تکمیل  اور  زمین  کے آسمان پر مصابیح  سے زینت بنائی  ۔

فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَىٰ فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا ۚ وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ﴿41:12  
پس اُس نے دو یوم میں      اُن   کو    7 سماوات کوقضا (مکمل)کیا ۔اور کل سماء کو اُن  کاامر  وحی کیا  اور الدنیا کے السماء کو مصابیح کے ساتھ زینت   اور حفاظت دی ۔ وہ العزیز اور العلیم کی تقدیر (سماوات اور الارض کے لئے )ہے ۔
٭- بِگ بینگ کے  دو یوم کے بعد  زمین  کی تخلیق  ۔
قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ﴿41:9
  تو کہہ ! کیا تم  اُس کے ساتھ کفر کرتے ہو جس نے الارض کو  دویوم میں خلق کیا ؟  اور تم اُس کے مددگار بناتے ہو ؟ وہ ربّ العالمین ہے ۔

٭- بِگ بینگ کے  دو یوم کے بعد  زمین  کی تخلیق   اور اُس  پر  رَوَاسِيَکی فوقیت   اُس کی قدر اور سائلین کے لئے برابر کی قوت   کی فرہمی کا دورانیہ  4 یوم  یعنی کل 6  یوم ۔
 وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَ ﴿41:10 
 اُس(الارض) کے فوق  (  اوپر)میں سے رواسی  قرار دیئے ، اور اُنہیں(رواسی کو ) اِس (الارض) میں سے برکت دی ، اور اُنہیں(رواسی کو اِس (الارض) میں سے قدر  دی،اور اُنہیں(رواسی کو ) چار ایام میں السائلین کی برابری  کے لئے قوت دی ۔


تخلیقِ کائینات اورالارض  کے بارے میں بالاآ یات ، الکتاب میں درج ہیں   ۔  اور الکتاب    ہر نبی  کے پاس تھی ۔ 


یہی وجہ ہے کہ کائینات کی تخلیق  پر " اپنے فہم"  کے مطابق تمام مذاہب متفق ہیں -
  
٭-  الکتاب میں اللہ ، کی آیات البینات ہیں  اور کتاب اللہ میں بھی اللہ کی آیات البینات ہیں ۔
جب دونوں آپس میں ایک دوسرے  کی تردید نہیں کرتیں  تو انسان کی ہدایت من جانب اللہ ہوتی ہے ۔
الکتاب : 
ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ ﴿2:2
 کتاب اللہ(کتاب مبین): اللہ کے کلمہ ، کن سے تخلیق ہو کر اللہ کی آیات بننے والی، کائینات اور زمین میں موجود    ہر ذی حیات اور غیر ذی حیات  شئے کتاب مبین میں ہے -
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ ﴿6:59 
اس کے پاس       الْغَيْبِ کی   مَفَاتِحُ ہیں ، جن کا اُس کے علاوہ کسی کو علم نہیں !  جو الْبَرِّ   اور الْبَحْرِمیں ہے   اُس کو علم   ہے ،   جو بھی ورق سقط ہوتا ہے اورالارض کی ظلمات میں کوئی  حَبَّةٍ اُس کو علم ہے  اور نہ کوئی  رَطْبٍ (Organic)یا   يَابِسٍ (Non-Organic)، سب  كِتَابٍ مُّبِينٍمیں ہے ۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔