میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 11 جنوری، 2020

سالگرہ- ڈاکٹر فیصل مرزا

3  اپریل2013  کی ایک نسبتاً ٹھنڈی صبح، اچانک یہ خیال آیا کہ کل چار اپریل کو تو میری سالگرہ ہو گی۔ 
خیر خواتین کی طرح عمر چھپانے کا کیا فائدہ؟
 ببانگ دہل یہ بتانے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ یہ میری چھیالیسویں سالگرہ ہو گی۔
عمر کو چھپانے سے زیادہ عمر درست بتانے کے فضائل کئی گنا زیادہ ہیں۔
٭-آپ کی عمر کی درست تشخیص کے بعد صنف مخالف کی بہت ساری خوش فہمیاں اور توقعات سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھ سکتی ہیں۔
٭-عقد ثانی، عقد ثالث اور ان جیسی دیگر قباحتوں کے لڈو دل میں پھوٹنےسے قبل ہی اپنی غیر طبعی موت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
٭- بندہ خیالوں ہی خیالوں میں کھانسی کے شربت پینا اور لاٹھی کے سہارے چلنا شروع کر دیتا ہے۔

 میرے بہت سے ہم عمر (اور ہم عمرنیاں) ابھی تک شدید مغالطے کے آئینے میں اپنے خضاب زدہ گیسو سنوارنے میں ملوث ہیں کیونکہ ان کے دل و دماغ سے بوجوہ یہ مصرع نہیں نکل سکا کہ،
 ابھی تو میں جوان ہوں۔
آپس کی بات ہے کہ خضاب زدہ بالوں والے "بزرگ جوان" دیکھ کر دل ہی دل میں میرا تو "ہاسا" نکل جاتا ہے۔سوچتا ہوں کہ زلفوں کی دیواروں پر شوخ سیاہ ڈسٹمپر اور مونچھ، داڑھی وغیرہ کے پودوں کی "کالے پانی" سے آبیاری، عمر ِ رواں کا پہیہ کس طرح روک سکتے ہیں۔ کیوں کہ ۔
سحر تو ہو نہیں سکتی دیئے جلانے سے !
نہ جانے وہ کون سا خوف ہے؟   جو انسانی نفسیات میں ڈریکولا بن کر در آتا ہےکہ ،
 ٭-بندہ بوڑھا کہلوانے سے ہچکچاتا ہے۔
٭- بوڑھا نظر آنے سے تلملاتا ہے اور
٭- بڑھاپے کے دریا کے آگے خضاب، پلاسٹک سرجری، کاسمیٹک اور حکیمانہ نسخوں کے "ڈیم" بناتا چلا جاتا ہے۔
 لیکن ماہ و سال کا بپھرا ہوا "سونامی" سارے حفاظتی انتظامات کو تہس نہس کر دیتا ہے۔ کچھ بھی کر لیا جائے، آخر کار بندہ اپنے بارے ایسے مؤدبانہ کلمات سننے پر مجبور ہو جاتا ہے،  جو بدترین گستاخی سے کمتر محسوس نہیں ہوتے۔ 
چاچا، انکل ، وَڈیو، آنٹی، خالہ، آپی کے القابات سے وحشت محسوس ہو تو شاید اس کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔ 
دادا، نانا، بزرگو ، کہہ کر پکارا جانا بھی بعض "کم سن بزرگوں" کی سماعت پر گراں گزرتا ہے اور انھیں ایسی عزت و تکریم سے ذہنی صدمہ پہنچتا ہے۔
میں اپنے کئی بہی خواہوں کے مشوروں کو نظرانداز کر کے، اپنے بالوں میں غالب آ تی سفیدی کا تماشا دیکھنے میں مگن ہوں۔
 گنجے افراد، کلین شیو لوگ اورعائلی مسائل میں الجھے ہوئےمردو زن، درج بالا سماجی مسئلے کی زد میں آنے سے قاصر ہیں۔ 
یہ وہ افراد ہیں جنھیں سر یا مونچھوں کے بالوں کی تازہ ترین صورت حال دیکھنے کے لئے پورے دن میں ایک مرتبہ بھی شیشہ دیکھنا زیب نہیں دیتا۔
 بال بیکا کرنا، بال بال بچنا، بال کی کھال اتارنا،  جیسے محاورے اگر کسی گنجے کے سامنے بول دیئے جائیں تو انھیں اپنی کم مائیگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ سو اس امر کا بھرپور خیال رکھیں کہ اگر ، بامر مجبوری، کسی گنجے مرد اور ۔۔۔۔! کی سالگرہ کے موقع پر کچھ کلمات ادا کرنا ضروری ہوں تو مذکورہ محاورات استعمال کر کے اُن کی "ہیپی برتھ ڈے ٹو یو" کا مزا کِرکِرا ،  مت کریں۔
بشکریہ :  ڈاکٹر فیصل مرزا ۔
٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔