میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 17 جنوری، 2020

آپ لوگوں کی نظر سے چھپ سکتے ہیں، قانون سے نہیں !

 اُن دنوں جب میں ھالینڈ میں رہ رہا تھا تو ایک دن جلدی میں ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کر بیٹھا۔ بتی لال تھی اور سگنل کے  آس پاس کوئی نہیں تھا، میں نے بھی بریک لگانے کی ضرورت محسوس نہ کی اور سیدھا نکل گیا۔ چند دن کے بعد میرے گھر پر ڈاک کے ذریعے سے اس خلاف ورزی "وائلیشن" کا ٹکٹ پہنچ گیا۔ جو اُس زمانے میں بھی 150 یورو کے برابر تھا۔
ٹکٹ کے ساتھ لف خط میں خلاف ورزی کی تاریخ اور جگہ کا نام دیا گیا تھا، اس خلاف ورزی کے بارے میں چند سوالات پوچھے گئے تھے۔ اور آخر میں یہ پوچھا گیا تھا:
"آپ کو اس پر کوئی اعتراض تو نہیں؟"
میں نے بلا توقف جواب لکھ بھیجا:
" جی ہاں، مجھے اعتراض ہے۔ کیونکہ میں اس سڑک سے گزرا ہی نہیں اور نہ ہی میں نے اس خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے"۔ 

کیوں کہ مجھے کون دیکھ رہا تھا ؟
اور اُس کے پاس کون سا کوئی ثبوت ہو گا ؟

میرے خط کے جواب میں لگ بھگ ایک ہفتے کے بعد محکمے کی طرف سے ایک جواب ملا۔ ان کے خط میں میری کار کی تین تصاویر بھی ساتھ ڈالی گئی تھیں۔

٭-  پہلی  میں،  لال بتی تھی اور چوک میں داخل ہورہا تھا ۔
٭-تیسری میں ،  لال بتی تھی او رمیں چوک کے درمیان تھا ،
٭- تیسری میں ،چوک سے گزر چکا تھا اور بتی ابھی تک بھی لال تھی۔ 

 
میں سُن سا ہوگیا ۔   میں جرم کا مرتکب  ہو چکا تھا ۔ثبوت میرے سامنے  میرا منہ چڑا رہے تھے ۔نہ بھاگنے کی گنجائش اور نہ مکر جانے کا سوال۔

شرمندہ سا ہو کر سوچا ، اب کبھی  ھالینڈ کے قوانین کی خلاف ورزی  نہیں کروں گا ۔  اقرار نامہ لکھ بھیجا اور جرمانہ کر دیا ۔

کچھ دنوں کے بعد الکتاب  کی قرءت کے دوران میں اِس آیت پر پہنچا :

هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
﴿45:29

یہ   تمھارے  اعمال   کی  ،ہماری کتاب ہے ،صرف ہم نے   اِسےنسخ (تحریر) کیا ہے ؟ 
  تمھارے لئے  الحق (سو فیصد درست )نطق (ناقابلِ تردید ،آڈیو اور وڈیو  ریکارڈ)  بنا دیا گیا ہے ،

  میرے جسم کے بال کھڑے ہو گئے تھے، ہالینڈ پولیس کی خودکار کیمرے کی کھینچی ہوئی تصاویر ، میرے انکار کے جواب میں میرے اعمال کی  نطق(ناقابلِ تردید ،فوٹوریکارڈ)    بن کر میری میز کی دراز میں پڑی تھیں ۔ 
لیکن اللہ نے تو ایسا کوئی خفیہ کیمرہ نہیں  فٹ کروایا ، جو میری تمام  زندگی کا احاطہ کر سکے !
 میرے ذہن میں خیال گذرا ۔ 
اُف ۔ الکتاب کے پچھلے صحوف پر درج آیت   میرے ذہن میں چمکی میں نے صفحات پلٹے ۔
 یہ کیمرے تو میرے ہی جسم  میں حواس خمسہ کے تین جاسوسوں ، کان ،آنکھ اور جلد  کی صورت میں فٹ ہیں ، جو ہر لمحے کی تصویر نہیں  بلکہ  مکمل فلم بنا رہے ہیں :

وَيَوْمَ يُحْشَرُ أَعْدَاءُ اللَّـهِ إِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوزَعُونَ ﴿41:19  
 اور جب اللہ کے دشمنوں کو  النار کی طرف   وزع (Deploy)  کیا جائے گا ۔
حَتَّىٰ إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿41:20
 حتیٰ  کہ جب  وہ اُس (النار) تک پہنچیں گے  تو اُن کی سماعت ، اُن کی بصارت اور اُن کی جلدیں  اُن کے اعمال کی شہادت دیں گی !
وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا ۖ قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّـهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿41:21  
 اور وہ (حیرانی سے )  اپنی جلدوں کو کہیں گے ، تم ! کس لئے ہم پر گواہی دیتے ہو ؟ وہ (جلود) کہیں گے ، اللہ نے ہمیں  نطق   (ریکارڈر)بنایا   بلکہ اُس نے تو ہر شئے جسے اُس نے پہلی بار خلق کیا  کونطق   (ریکارڈر) بنا دیا تھا  اور سب اُسی کے پاس  رجوع (اپنا ڈیٹا بھجوانے کے لئے ) کرتے ہیں ۔
 وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَـٰكِن ظَنَنتُمْ أَنَّ اللَّـهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِّمَّا تَعْمَلُونَ ﴿41:22 
 اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو ، صرف اُس کی شہادت   ، تمھاری     سماعت ،  تمھاری  بصارت اور تمھاری جلدیں  دیں  گی ! اور تمھیں یہ ظن ہے  کہ  تمھارے  کثیر اعمال  کا اللہ کو علم نہیں ہوگا ؟


انسان  کی بنی ہوئی مشین سے تو میں بھاگ نہیں سکا، اللہ کی بنائی ہوئی مشین ، یعنی میرا اپنا جسم  جو مکمل آڈیو اور وڈیو ریکارڈنگ اللہ  کے حکم سے میرے ہی خلاف  کر رہی ہے !
کون سا  بہانہ بناؤں گا،  خود کو بچانے کے لئے ؟
پھر خیال آیا ، کہ ہندو اچھا کرتے ہیں کہ اپنے مردوں کو ہی جلا دیتے ہیں کہ سارا  آڈیو وڈیو ریکارڈ  ہی جل جائے ۔

لیکن مکمل آڈیو وڈیو  ریکارڈنگ تو ہر سیکنڈ کی ہو رہی ہے   اور آن لائن کہیں بھجوائی جارہی ہے ۔    




هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
﴿45:29
یہ   تمھارے  اعمال   کی  ،ہماری کتاب ہے ،ص
رف ہم نے   اِسےنسخ (تحریر) کیا ہے ؟ 
  تمھارے لئے  الحق (سو فیصد درست )نطق (ناقابلِ تردید ،آڈیو اور وڈیو  ریکارڈ)  بنا دیا گیا ہے ، 
  
٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔