میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 22 جنوری، 2020

بوڑھے کا بنایا ہوا ۔ پاکھنڈی اوہ مکھنڈی حلوہ

بوڑھے کا بنایا ہوا پاکھنڈی اوہ معذرت مکھنڈی حلوہ !
شاہی ٹکڑوں کے لئے ڈبل روٹی کے ٹکڑے کاٹے وقت بوڑھے نے سوچا یہ تو رزق کا ضیاع ہے کیا کیا جائے ؟

جو کفرانِ نعمت میں آجائے گا ۔
کیوں نہ اِن کی کھیر بنائی جائے؟
بوڑھے نے بڑھیا کو آئیڈیا بتایا،

 بڑھیا نے ڈانٹ دیا،" مت پکھنڈ پھیلائیں اور بھی کام کرنے ہیں "
بوڑھے نے ڈبل روٹی کے ٹکڑوں کو مسل کر چورا بنایا ۔
بڑھیا نے شاپر دیتے ہوئے کہا ،" یہ لیں اس میں ڈال دیں اور اِنہیں چڑیوں کو ڈال دیں۔ "
" بھئی دو چڑیاں آتی ہیں ، اُن کے لئے ایک چمچ کافی ہے "۔ بوڑھا منمنایا ۔
"آپ ایسا کریں انہیں خشک کریں اور کرمپ کے طور پر فرائیڈ چکن میں استعمال کرنا" ۔بڑھیا نے تجویز دی ۔

تو جناب بوڑھے نے بڑھیا کے تمام آئیڈیاز ایک طرف رکھے اور ایک گلاس دودھ اور ایک گلاس پانی کا مکسچر بنایا اور اِن مَسلے ہوئے ڈبل روٹی کے ٹکڑوں پر ڈالا اور گھوٹنے لگا ۔
"آپ باز نہیں آئیں گے پہلے ہی وقت کم ہے 12 بجے مہمان آجائیں گے ، آپ نے چم چم کو بھی سکول سے لینے جانا ہے ، صفائی والی آئے گی لاونج بھی سیٹ کروانا ہے ، یہ رہنے دیں اِسے فریج می رکھ دیں ۔ اور ہاں یہ دیگچہ مجھے چاھئیے ۔ زیادہ پاکھنڈ کیوں پھیلا رہے ہیں "۔ بڑھیا غرّائی
بڑھیا ، ڈبل روٹی کے ٹکڑے تل چکی تھی اور بریانی کے لئے چاول تیار کر رہی تھی ۔

 بوڑھے نے فرائیگ پین میں پڑے ہوئے نیم گرم تیل میں سے آدھا تیل پیالے میں ڈالا اور باقی تیل میں ، ڈبل روٹی اور دودھ کے ٹکڑوں کا آمیزہ ڈالا اور بھوننے لگا ۔
اب کیا کر رہے ہیں ؟ بڑھیا نے پوچھا ۔
حلوہ بنا رہا ہوں !

کون سا ؟
"پاکھنڈی حلوہ " ! بوڑھا بولا ۔
"نام بھی بولنا نہیں آتا ، مکھنڈی حلوہ ہوتا ہے مکھنڈی !"بڑھیا بولی ۔
" وہ سوجی سے بنتا ہے اور پاکھنڈی حلوہ ڈبل روٹے کے دھتکارے ہوئے ٹکڑوں سے ۔ امی بھی روٹی کے بچے ہوئے ٹکڑوں سے  فقیری ٹکڑے   بناتی تھیں ۔" بوڑھے نے بڑھیا کی معلومات میں اضافہ کیا۔
"میں نے کبھی نہ کھائے اور نہ سنے "۔ بڑھیا تُنک کر بولی۔
"میں سنے تو نہیں البتہ کھائے ضرور ہیں شاہی ٹکڑوں کے نام سے ۔ بوڑھا بولا ۔

بوڑھا ، فرائینگ پین میں چمچ چلاتا ہوا بولا ۔


تم نے "شربتِ نقریٰ" پیا ہے ؟
ہاں ۔ بڑھیا بولی ۔
میں نے " شربتِ فقراء" پیا ہے ۔ 

"وہ کیا ہوتا ہے ؟" بڑھیا نے پوچھا
"پانی میں چینی اور کیوڑا ڈال کر ہمارے بچپن میں بنایا جاتا تھا اور اُس میں روح افزاء کا چھینٹا بھی مارا جاتا تھا۔" بوڑھا بولا
" آپ کیسی بہکی بہکی  باتیں کر رہے ہیں ؟" بڑھیا بولی
"ماضی دھرا رہا ہوں" ۔ بوڑھا ڈوئی چلاتا ہوا بولا ۔
" یہ بھن گیا ہے اب اسے اتار لیں ۔" بڑھیا بولی 


تو دوستو ، بوڑھے نے وہ حلوہ اتارا، اُسے ڈونگے میں ڈالا اور بڑھیا کا کترا ہوا میوہ چھڑکا اور میز کے سب سے دور کونے پر رکھ دیا ۔


مہمانوں کو پسند نہ آیا تو آپ کو کھانا پڑے گا ، بڑھیا نے وارننگ دی ۔
کوئی بات نہیں ، بوڑھا اپنے بنائے ہوئے کھانے شوق سے کھاتا ہے ۔


"واہ ، ایکسیلنٹ " ۔ کے نعرہ ہائے تحسین نے ثابت کیا کہ کینیا اور یوگنڈا کے مہمان ذائقہ شناس ہیں ۔

یہ آنٹی آپ نے بنایا ؟ ایک مہمان خاتون نے پوچھا۔
نہیں آوا نے بنایا ہے ۔ چم چم فوراًبولی ۔
واؤ انکل ، آپ تو بہترین شیف ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔