میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 18 جنوری، 2020

گڈ لک جنرل آصف غفور

آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی ، ہمیشہ کچھ لوگوں کے لئے متنازعہ ہوگی ، لیکن ایک بات ضرور یاد رکھی جائے ، کہ یہ دونوں ادارے پاکستان کی حفاظت کے ضامن ہیں ۔ 
ففتھ جنریشن وار کی اٖصطلاح بہت پرانی ہے ۔
 آئی ایس آئی اِس کا فزیکل توڑ کرتی ہے اور آئی ایس پی آر ذہنی توڑ ۔ 
کون کتنا کامیاب ہوتا ہے ، یہ بس دشمنوں کو معلوم ہوتا ہے ۔
 کامیابی کی یہ کہانیاں عوام کو عرصے بعد معلوم ہوتی ہیں ۔ گڈ لک جنرل آصف غفور !
 نوٹ : میں نے  اپنی رائے بحیثیئت ایک فوجی فیس بُک پر ڈالی تو کئی دوستوں نے   حق میں اور مخالف  رائے سے نوازا!
لیکن جس کمنٹ کی وجہ سے ، یہ پوسٹ اپنے بلاگ کی زینت بنائی وہ ایک پڑوسی اور حج کے ساتھی  کا تھا :

٭// ویسے 64 سال عمر تک ایکسٹینشن کے لئے یہ بھی رٹ دائر کرسکتے ہیں اب تو۔ ۔ ؟؟/
 :اِس کمنٹس پر میرا  جواب
بدر جی: میں یہاں اسد درانی کا سپریم کورٹ میں  دیا گیا، ایک جواب پیسٹ کروں گا ، اُس سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ جو کانسیپٹ جماعت اسلامی کا امیر کے بارے میں ہے ، وہی ہوبہو فوج کا بھی ہے۔
چیف جسٹس: آپ کہہ رہے ہیں کہ چیف آف آرمی سٹاف آپ کو جو کچھ کہے تو آپ کرنے کے پابند ہیں ؟
جنرل اسد درانی : یو آنر ایسا ہی ہے ، میں اُس کے ہر حکم کا پابند ہوں۔
چیف جسٹس: اگر چیف آف آرمی سٹاف آپ کو کسی بھی شخص کو قتل کرنے کا کہے تو کیا آپ کر دیں گے ؟
جنرل اسد درانی : یو آنر، میں اُس کا حکم بجا لاؤں گا۔
ــــــــــــــــــــــــــ
امیر کی اطاعت تم پر فرض ہے ، خواہ وہ منقّے کے سر والا (شادولہ) ہی کیوں نہ ہو ؟
بد ر جی:  مجھے امید ہے کہ فوج کے بارے میں آپ کا کانسپیٹ شائد درست ہو جائے۔
جواباً ، بدر نے لکھا۔  
جی جس کا جو امیر ہے وہ اس کی اطاعت جاری رکھے، عوام کا امیر جو ہے عوام اس کی اتباع کریں   نہیں پسند تو آئینی طریقے سے فارغ کریں ۔،
میرا جواب ہے۔

I agree!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔